تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 محرم 1436هـ - 11 نومبر 2014م KSA 11:17 - GMT 08:17
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

یہ بیسویں صدی کے بالکل ابتدا کی بات ہے ، ہندوستان پر انگریز حکمرانی کا سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانان ہندوستان میں بیداری کی لہر بھی پیدا ہورہی تھی۔ لاہور اس حوالے سے سیاسی اور ادبی تحریکوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔” لاہور میں ایک بزمِ مشاعرہ بھی قائم تھی جہاں پنجاب کے اکثر نامور شعرا غزلیں کہہ کر لاتے تھے اور دادِ سخن پاتے تھے۔ ان شعراءمیں کچھ کہنہ مشق حضرات ہوتے جو دہلی یا لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے یا پھر وہ جو دہلی اور لکھنو¿ کے اساتذہ کی صحبت سے مستفید ہو چکے تھے، اس کے علاوہ کچھ نو آموز شعرا کو بھی اپنا کلام پیش کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ یہ دراصل مشاعرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ سخن وروں کا اچھا خاصہ دنگل ہوا کرتا تھا۔ پہلے تلامذہ غزلیں پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کے استادوں پر کوئی چوٹ کر جاتے تھے اور اپنے اپنے استاد کو بڑھا جاتے تھے۔

پھر استادوں کی نوبت آتی تھی۔ وہ بھی حریفوں کو پہچانتے تھے اور باہمی اشارے کنایہ سے رُک نہ سکتے تھے۔ یہ دل لگی شاعری کو تو ڈبو رہی تھی لیکن مشاعرہ کے لیے باعثِ فروغ تھی۔ تماشائی جوق در جوق آتے تھے اور گھنٹوں یہ تماشا دیکھتے رہتے تھے۔ اس گروہ میں کبھی کبھی ایک کثیر تعداد سرکاری کالجوں کے طلبہ کی آ جاتی تھی۔ ان میں سے اکثر انگریزی تعلیم کی وجہ سے ایشیائی شاعری کے مذاج اور مزاق سے نا آشنا ہوتے تھے۔ مگر تقاضائے سِن تھا کہ ایسے مشغلے کو دلچسپ سمجھیں۔ آتے تھے اور اپنے اپنے دوستوں کو بلا لاتے تھے۔ ایک دن مقابلہ سخن گستری حدِّ جدال پر پہنچنے کو تھا کہ اچانک طلبہ کے گروہ میں سے ایک نوجوان اُٹھا۔ عمر بیس سے کچھ متجاوز ہو گی۔ رواج وقت کے مطابق داڑھی چٹ، موچھیں بڑھائی ہوئی اور لباس نئے اور پرانے فیشن کے بین بین۔ سیدھا اس کرسی کی طرف بڑھا جس پر بیٹھ کر شعرا غزل خوانی کرتے تھے۔ نوجوان نے بیٹھتے ہی یہ مطلع پڑھا۔....

تم آزماؤ ہاں کو زبان سے نکال کے
یہ صدقے ہو گی میرے سوالِ وصال کے

مطلع کا پڑھنا تھا کہ کئی سخن آشنا کان متکلم کی طرف لگ گئے اور کئی آنکھیں اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ مشاعرہ میں یہ رسم تھی کہ دبیر مجلس ہر سخن ور کی تعریف کر کے اس سے حاضرین کی شناسائی کرا دیتا تھا۔ مگر اس نوجوان منچلے شاعر سے خود دبیر مجلس نا واقف تھا۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ پہلے حضرت کی تعریف تو فرمائیے۔ نوجوان شاعر نے کہا ”لیجیے میں خود عرض کیے دیتا ہوں کہ میں کون ہوں؟ خاکسار کو اقبال کہتے ہیں اور یہی میرا تخلص ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں اور یہاں کے سرکاری کالج میں بی اے کی جماعت میں پڑھتا ہوں۔ حضرت داغ سے تلمذ کا فخر حاصل ہے۔ یہاں کے کسی بزرگ سے نہ خصوصیت ہے نہ خصومت۔ چند شعر لکھ کر لایا ہوں اگر اجازت ہو تو پڑھ سناو¿ں “۔ مختلف آوازیں آئیں کہ فرمائیے۔ اوریوں نوجوان شاعر نے غزل کے باقی شعر پڑھنے شروع کیے۔ قریب قریب ہر شعر پر بیساختہ داد ملی۔ یہاں تک کہ اس شعر تک آن پہنچا۔ ....

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

مشاعرے میں مرزا ارشد گور گانی دہلوی بھی موجود تھے، اس شعر پر وہ بے اختیار واہ واہ کہہ اٹھے اور بولے ”میاں اقبال اس عمر میں۔ اور یہ شعر!“ اور واقعی اس رنگ کی کہنے والے کی عمر اور وضع سے توقع نہیں ہو سکتی تھی۔ غرض اس طرح غزل ختم ہوئی بس پھر کیا تھا؟ اُس نوجوان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، ایک عالم اس کی شاعری پر فریفتہ ہوا اور چند ہی برسوں میں اقبال سیالکوٹی نے لاہور پر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے شعرا پر اپنے کلام، نظریات اور خیالات کا سکہ بٹھا دیا“۔ یہ بلند اقبال فلسفی بعد میں شاعر مشرق کا خطاب پاکر مسلمانان پاک و ہند کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے گھر کرگیا۔ علامہ اقبال نے ہی سب سے پہلے مسلمانان ہندوستان کیلئے الگ ملک کا خواب دیکھا، اس لیے بجا طور پر علامہ کو مصورِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں موجود مقتدر طبقوں نے اس ملکِ خداداد کا وہ حال کیا کہ آج غربت، بیروزگاری، مہنگائی، لاقانونیت، چوربازاری اور اقربا پروری کا لاوا گلی گلی ابل رہا ہے۔

ادارے برباد ہو رہے ہیں اور معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔ سابق ادوار بالخصوص مشرف دور میں پاکستان کی مقامی صنعتوں کو تباہ کرنے کیلئے جو منفی اقدامات کئے گئے اس کے نتیجے میں نہ صرف ایک لاکھ کے لگ بھگ صنعتی یونٹس بند ہوگئے بلکہ کروڑوں مزدور بھی بیروزگار ہوکر رہ گئے۔ بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے نہ شروع کئے جانے کے باعث صنعتی علاقوں میں اِس وقت بجلی اور گیس کی غیر مساویانہ اور غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کی وجہ سے اب چھوٹے صنعتی یونٹس کے ساتھ ساتھ بڑی ملیں اور کارخانے بھی بندش کے خطرے سے دوچار ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں کیا کوئی بتائے گا صنعتوں کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے گیس لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ کب بند کیا جائے گا؟کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ صنعتکاروں میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش پرحکومت کب حرکت میں آئے گی؟ کیا کوئی حکومتی ترجمان یہ سربستہ راز کھولنا پسند فرمائے گاکہ ملک کے کروڑوں مزدوروں کا چولہا بجھنے سے بچانے کیلئے کسی بھی سطح پر کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے؟ اور اگرکوئی اقدام اٹھایا گیا ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ کیا کوئی بتائے گا کہ محنت کشوں، صنعتکاروں اور صنعتوں کو بچانے کیلئے حکومت نے اب تک کتنی بھاگ دوڑ کی ہے؟

قارئین محترم! چین کی جانب سے بیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان یقینا خوش آئند ہے، لیکن مقامی صنعتکار پوچھتے ہیں کہ اگر پاکستانی کارخانہ دارہی مطمئن نہیں ہوگا تو ایسے حالات میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان آکر کون سا تیر مار لے گا؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جوں جوں ملک میںمقامی صنعتی یونٹس بند ہوں گے،توں توں ملک کو پہلے سے درپیش مسائل میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ صرف ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کاروباراور مزدوری کرنے والے کروڑوں لوگوں کا مسئلہ ہے۔ یہ کروڑوں گھروں کے چولہوں کا معاملہ ہے، جن کی راکھ ٹھنڈی ہونے جارہی ہے۔اگر یہ راکھ واقعی ٹھنڈی ہو گئی تو پھر حقیقت میں وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو ایک صدی پہلے اقبال نے کہا تھا....
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

بہ شکریہ روزنامہ ’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند