تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان بھارت تعلقات اور افغانستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 محرم 1436هـ - 11 نومبر 2014م KSA 11:03 - GMT 08:03
پاکستان بھارت تعلقات اور افغانستان

جغرافیے کے ظلم نے پاکستان پر بہت بھاری بوجھ لاد دئیے ہیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سیکورٹی سوچ اور تخمینوں پراثر پڑا ہے بلکہ ملک کے لئے مستقل سیکورٹی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مشکلات سے پُرتاریخ اورمشرقی و مغربی دونوں محاذوں پر ملنے والے متنازع سرحدوں کے نوآبادیاتی ورثے کا مطلب ہے کہ پاکستان کئی سال سے بیک وقت دو محاذوں پر الجھنے سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یعنی مشرقی سرحدوں پر بھارت سے اور مغربی سرحد پر افغانستان سے۔ اس وقت جب پاکستانی فوج مغربی محاذ پر مصروف ہے اوراپنی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندی سے نبرد آزما ہے،ایسے میں لائن آف کنٹرول پر تازہ کشیدگیوں اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اس سیکورٹی مخمصے کی بالکل تازہ ترین مثال ہے۔ ماضی میں پاکستان نے اس مشکل صورتحال سے مختلف طریقوں سے نکلنے کی کوشش کی۔ افغانستان پر روسی قبضے کے وقت مغربی سرحد پر ملک کی گزشتہ طویل ترین مشغولیت کے دوران وہ اس چیلنج سے مختلف طریقوں سے نکلا تھا۔ لیکن وہ معروف ترین تجربہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں یہاں نہیں پھنسنا۔ زیادہ اہم تین فرق ہیں جو حال کو ماضی سے ممتاز کرتے ہیں۔

اول، تقریباً ایک دہائی سے پاکستانی فوجی دستوں کا خاصہ بڑا حصہ تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار اہلکار یا نصف سے زائد فوج مغربی سرحد پر تعینات ہے، جس میں سے بڑی تعداد قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کو شکست دینے کے لئے آپریشن میں مصروف ہے۔ یہ محض فوجی دستوں کی ازسرنو تعیناتی یا نئی سمت بندی کا معاملہ نہیں۔ اس کا نتیجہ کئی سال تک پاکستان کی روایتی صلاحیتوں میں کمی کی صورت برآمد ہوا ہے۔ دوم، افغانستان پر روسی قبضے کے وقت روس نواز کمیونسٹ حکومتوں کے لئے بھارت کی مدد مجموعی طور پرسفارتی و سیاسی حمایت تک محدود تھی۔ لیکن آج بھارت نے افغانستان میں نہ صرف سیکورٹی شعبے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ خود کو کابل کا فوجی اتحادی بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔

بھارت نے 2011ء میں کابل اور دہلی کے درمیان ہونے والے معاہدے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایگریمنٹ کے ذریعے فوجی معاون کا کرداربھی حاصل کر لیا ہے۔اس معاہدے کے تحت بھارت افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز (اے این ایس ایف) کی تربیت، انہیں مسلح کرنے اور صلاحیتیں بہتر بنانے کے پروگراموں میں معاونت کرنے کا پابند ہے۔اب افغان افسران کی اچھی خاصی تربیت کی جا رہی ہے۔ تیسرے فرق کا تعلق اسلام آباد کے موقف سے ہے کہ بھارت شورش زدہ صوبے بلوچستان میں بلوچ باغیوں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں مزید تیز کرنے کے لئے افغانستان میں اپنی موجودگی کو استعمال کر رہا ہے، یہاں تک کہ فاٹا میں بعض جنگجو عناصر کی بھی حمایت کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز کے مابین پاکستان مخالف گٹھ جوڑ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس پس منظر اور عسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کی اندرونی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے افغانستان کے حوالے سے جائز تحفظات اور اہم سیکورٹی مفادات ہیں جن کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ حلف اٹھانے کے بعد صدر اشرف غنی کی پہلی تقریر میں کرائی گئی یقین دہانی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،کا پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا۔ یہ یقین دہانی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات دور کرنے اور ایک دوسرے کے مفادات اور سرخ لکیروں کا احترام کرنے کے لئے نئے آغاز کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

ممکن ہے کہ کابل میں آنے والی نئی حکومت اسلام آباد کے تحفظات دور کرنے کیلئے ناقابل اعتبار حامد کرزئی کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہو۔ بالخصوص اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی اتحادی حکومت کی جانب سے ملنے والے ابتدائی مثبت اشاروں کو سامنے رکھتے ہوئے یقیناً اسلام آباد میں یہ ایک عملی مفروضہ ہے۔ نئی افغان حکومت کے بیان کردہ عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان میں پاکستان کے جاری آپریشن نے کابل و اسلام آباد میں اور زیادہ قریبی تعاون کی عمدہ بنیاد قائم کردی ہے۔ دونوں ممالک سرحدی سیکورٹی اور دونوں اطراف محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ یہ مشترکہ مقاصد ہیں جنھیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔ 2014ء کے بعد پاکستان کی اولین ترجیح اپنی سرحد کو محفوظ بنانا ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مقصد فاٹا میں مختلف عسکریت پسندوں کا آخری ٹھکانہ بھی ختم کرنا تھا۔ اس آپریشن کے ذریعے وہاں جنگجوؤں کا انفرااسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی ایس او پیز پر جلد از جلد ایک معاہدہ ہونے کی توقع کرے گا تاکہ تعاون کے لئے درکار فریم ورک حاصل ہو اور ایساف، افغانستان و پاکستان کے درمیان قائم سہ فریقی ایس او پیز کو تبدیل کیا جا سکے۔ 2014ء کے بعد استحکام کے لئے آگے کی طرف دیکھتے ہوئے اور افغانستان پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کیا رخ کرتے ہیں، اس حوالے سے دونوں کے لئے یہ اہم ہوگا کہ افغانستان پر مکالمے کااہتمام کریں تاکہ ایک دوسرے کے نقطہ نظراورسرخ لکیروں و بنیادی نکات کے تبادلے کا موقع ملے۔ چونکہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا افغانستان میں اس کے مفادات کے برخلاف کام کر رہا ہے اس لئے اس طرح کی بات چیت کا نتیجہ بالآٓخر کچھ لو اور کچھ دو کی صورت نکل سکتا ہے،تاہم ابتدائی طور پر کم از کم ایک دوسرے کے تحفظات کے بارے میں بہتر تفہیم تو پیدا ہوگی۔

لیکن اس طرح کا مکالمہ تعلقات کی مجموعی صورت حال سے صرف نظر کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سردست تعلقات ایسے ہیں کہ کوئی مذاکرات کے موڈمیں نہیں۔ دہلی کی جانب سے خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات کو اچانک منسوخ کرنے سے تعلقات معمول پرلانے کےعمل کو دھچکا لگا ہے اور افغانستان کے تناظر میں بہت غلط موقع پر ایسا ہوا ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کو کسی تیسرے ملک کے بارے میں معنی خیز بات چیت کرنا پڑے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم ان کے باہمی مذاکرات بحال ہوں اور دو طرفہ بہتر ماحول دستیاب ہو۔ یہ سوچنا ہی بیکار ہے کہ دونوں ملک ایسی صورت حال میں افغانستان پر بات کر سکتے ہیں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف نئی جارحانہ حکمت عملی کے تحت اسلام آباد سے مذاکرات نہ کرنے کی ضد پکڑی ہوئی ہو۔ بھارت کے پاس اس حوالے سے انتخاب کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم ان کا انتخاب کرنے سے پہلے کچھ سوالات سامنے رکھنے ہوں گے؟ اول، کیا ماضی میں بھارت کو پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز انداز میں بات کرنے یا دھونس کی سفارت کاری کا کوئی فائدہ ہوا ہےاور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملی ہے؟ دوئم، کیا مکالمے کا کوئی متبادل موجود ہے؟ اور سوئم، اگر اس پر اتفاق ہو جاتا ہے کہ سفارتی رابطے کا کوئی معقول متبادل نہیں، تو کیا یہ رابطہ پیشگی شرائط یا صرف بھارت کی شرائط کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔

جس وقت دو طرفہ بات چیت بحال ہو گئی، افغانستان پر غیر رسمی مکالمے کا امکان حقیقت بن جائے گا۔ پاکستان بھارت کشیدگی میں کمی اور موجودہ تلخ ماحول کو بہتر بنائے بغیر علاقائی معاشی تعاون میں کوئی حقیقی پیش رفت بعید از امکان ہے۔ لینڈ لاک (خشکی سے گھرے) افغانستان سے سرحد ملنے کی وجہ سے جب پاکستان سےٹرانزٹ اور دیگر سہولتوں کے مطالبات کئے جاتے ہیں تو وہ بھی فطری طور پر اس بات کی توقع کرتا ہے کہ اس کے اہم مفادات کا احترام کیا جائے
۔
افغانستان میں بھارت کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ سوچ میں کئی عناصر پائے جاتے ہیں جن کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا اورسب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ، پاکستان افغانستان میں بھارت کے ترقیاتی اورمعاشی معاون کردارکو ناقابل اعتراض سمجھتا ہے کیونکہ کابل کو اپنی معیشت کی ترقی کیلئے ہر ممکن مدد کی ضرورت ہے۔ تاہم اسلام آباد چاہے گا کہ اس حوالے سے مزید شفافیت لائی جائے۔ اسلام آباد کو دراصل افغانستان میں بھارت کے فوجی یا سیکورٹی کردار پر تحفظات ہیں۔

2011ء کے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایگریمنٹ (ایس پی اے) نے اسلام آباد میں غلط فہمیوں کو جنم دیا اگرچہ ان کا اس وقت کھلے عام اظہار نہیں کیا گیا۔ کرزئی حکومت نے اکثر و بیشتر دہلی سے اسلحہ اور بھاری ہتھیار مانگنے کےلئے ایس پی اے استعمال کیا، نیز بھارت پرافغانستان میں 2014ء کے بعد پیدا ہونے والے کسی سیکورٹی خلاء کو پر کرنے کے لئے بھی زوردیا ۔حال ہی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں بی جے پی کے ترجمان نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ بھارت نے روس سے افغانستان کو اسلحہ فراہم کرنے کے لئے کہا ہے جس کی ادائیگی بھارت کرے گا۔ لیکن ایک دوسرے سمپوزیم میں ایک سینئر سابق بھارتی عہدیدار نے اس کی تردید کی۔ اس معاملے میں ابہام ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے پاکستان پر واضح اثرات پڑیں گے۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر افغانستان میں بھارت کا فوجی کردار پاکستان کے ممکنہ گھیراؤ سے متعلق اسلام آباد کے خدشات کو تقویت دے گا۔ پاکستان کو اس سے قطعی کوئی مسئلہ نہیں کہ کابل کسی تیسرے ملک کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھتا ہے،

لیکن بھارت کے ساتھ فوجی تعاون کے پہلو جن سے پاکستان پر سیکورٹی اثرات مرتب ہوں گے قدرتی طور پر بے چینی کو جنم دیتے ہیں اور کوئی بھی ملک دیگر ریاستوں کے مابین کسی ایسے فوجی انتظام پر لازمی اعتراض کرتا ہے جس سے اس کی سلامتی پر اثرات پڑتے ہوں۔ اب جب کہ افغانستان ایک نئے اور زیادہ استحکام والے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، تو تاریخ کے بعض اسباق کی یاد دہانی مفید رہے گی۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ افغانستان میں گریٹ گیم کے مختلف الٹ پھیر اور ماضی کی جنگوں سے افغانستان اور ان گیم وارز میں شامل کسی بھی فریق کو سوائے دکھوں کے کچھ نہ ملا۔ اپنی تاریخ کے مختلف مواقع پر افغان گروپس نے بھی بیرونی مداخلت کو دعوت دی ہے۔

کوئی بھی ملک خاص طور پر پاکستان تو بالکل ہی نہیں چاہے گا کہ یہ گیمز دوبارہ شروع ہوں اور علاقائی دشمنیاں پھر سے جنم لیں۔ لہٰذا افغانستان میں عدم مداخلت اور وہاں کھیل کے اصولوں پر حقیقی علاقائی اتفاق رائے ہونا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں کسی بھی ملک کیلئے غالب کردار وہاں پرانے گیمز کی ہی ایک تبدیل شدہ قسم ہوگا جس کے نتائج ماضی سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند