تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مغرب میں مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 محرم 1436هـ - 12 نومبر 2014م KSA 09:46 - GMT 06:46
مغرب میں مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ

میں یہ کالم یورپی یونین کے اہم ممبر ملک بلجیم سے تحریر کر رہا ہوں جہاں میں میک اے وش فائونڈیشن کی ’’وش لیڈر کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لئے آیا ہوا ہوں۔ بلجیم کے شہر انتراب (Antwerp) میں منعقدہ اس 3 روزہ کانفرنس جس میں دنیا کے 55 ممبر ممالک کے ایک ہزار سے زائد مندوبین شریک تھے، کے اختتام پر جب میں نے انتراب سے دارالحکومت برسلز جانے کا ارادہ کیا تو میرے قریبی دوست اور گورنر پنجاب کے پریس سیکریٹری آغا مشود شورش کے صاحبزادے علی شورش جو انتراب میں ہی مقیم ہیں، نے مجھے مشورہ دیا کہ میں یہ سفر ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے کروں جو مجھے الوداع کہنے میرے ہمراہ ریلوے اسٹیشن تک آئے۔ 110 سالہ قدیم انتراب سینٹرل ریلوے اسٹیشن پر جب میں پہنچا تو اسٹیشن کی عمارت کی خوبصورتی کو دیکھ کو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا جس کا شمار یورپ کے خوبصورت ترین ریلوے اسٹیشنوں میں ہوتا ہے اور اس کے 4 منزلوں پر 14 پلیٹ فارمز ہیں۔

ٹکٹ کے حصول کے بعد جب میں اپنی مقررہ نشست پر پہنچا تو نشست کے سامنے اور برابر میں اسکارف پہنے 3 نوجوان خواتین بیٹھی نظر آئیں جو حلیئے سے مراکشی نژاد لگ رہی تھیں۔ ٹرین روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد میرے کانوں میں اذان کی آواز سنائی دی جسے سن کر میں چونک گیا۔ اذان کی یہ آواز ان خواتین کے موبائل فون سے آرہی تھی جس کے بعد تینوں خواتین نے اپنی نشستوں پر ہی نماز مغرب ادا کی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد میں نے مذکورہ خواتین سے سلام کے بعد گفتگو کا آغاز کیا تو میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا کہ تینوں خواتین مراکشی نژاد تھیں جو بلجیم میں پیدا ہوئی تھیں۔ میں نے جب اُنہیں یہ بتایا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے اور میں مراکش کا اعزازی قونصل جنرل ہوں اور میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے بانی صدر کی حیثیت سے یہاں میک اے وش کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا ہوں تو خواتین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انتراب میں ملازمت کرتی ہیں جبکہ برسلز میں اپنے والدین کے ہمراہ مقیم ہیں اور ان کے روز کا یہ معمول ہے کہ وہ شام کو گھر واپسی پر مغرب کی نماز ٹرین میں ہی ادا کرتی ہیں۔

دوران گفتگو انہوں نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلجیم کی مجموعی آبادی تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جن میں سے 10 فیصد یعنی 10 لاکھ سے زائد افراد کا تعلق مختلف اسلامی ممالک سے ہے جن میں سر فہرست مراکشی باشندے اور دوسرے نمبر پر ترکش ہیں جبکہ پاکستانی بھی بڑی تعداد میں یہاں مقیم ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دسمبر 2004ء میں بلجیم حکومت اسکول و کالجوں میں زیر تعلیم لڑکیوں اور مسلم خواتین کے اسکارف پر پابندی کا ارادہ رکھتی تھی لیکن انتراب کی اعلیٰ عدلیہ نے حکومتی فیصلہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ اختیار حکومت کا نہیں۔ مذکورہ خواتین کے مطابق بلجیم کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بالخصوص فرانس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد مقیم ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت یورپ میں 52 ملین مسلمان آباد ہیں جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ حالیہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں آئندہ 20 سالوں میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر 104 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے اور وہ دن دور نہیں جب اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب ہوگا اور مسجدوں کی تعداد گرجہ گھروں سے تجاوز کرجائے گی۔ اس موقع پر مراکشی خواتین نے مذکورہ سروے رپورٹ کا لنک بھی مجھے ای میل کیا۔

برسلز میں قیام کے دوران یہاں مقیم میرے دوست اور ممتاز کاروباری شخصیت الیاس شیخ اور شکیل شیخ نے میرے اعزاز میں عشایئے کا اہتمام کیا جہاں میری ملاقات برسلز پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد نوجوان ممبر ڈاکٹر منظور سے ہوئی جن سے میں نے پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مسلمانوں کی آبادی کے حوالے سے سروے رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس طرح عشایئے میں بھی شرکاء کی گفتگو کا موضوع یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پاکستان کی موجودہ صورتحال رہی۔ میں نے یورپ میں قیام کے دوران سروے رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جس کے بعد اس موضوع پر کالم لکھنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق کسی بھی قوم اور اس کے کلچر کو برقرار رکھنے کے لئے اُس قوم کی شرح پیدائش 2.11 فیصد ہونا ضروری ہے لیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ قوم 25 سال میں ہی زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی معاشرہ 1.9 فیصد شرح پیدائش پر قائم نہیں رہ سکتا جبکہ 1.3 فیصد شرح پیدائش پر کسی بھی معاشرے کا وجود ناممکنات میں سے ہے اور دنیا میں ایسا کوئی معاشی ماڈل نہیں جس کی معیشت 1.3 شرح پیدائش پر برقرار رہی ہو جس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ اگر کسی شادی شدہ دو جوڑے کے ہاں ایک ایک اولاد ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ نسل 4 کے بجائے 2 افراد پر مشتمل ہوگی جن کی ایک اولاد ہوگی، اس طرح 4 افراد کے خاندان کا صرف ایک پوتا یا پوتی ہوگی اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو آبادی میں مسلسل کمی ہوتی رہے گی جس کے نتیجے میں معاشرہ سکڑتا چلا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت فرانس کی موجودہ شرح پیدائش 1.8 فیصد، انگلینڈ کی 1.6، یونان کی 1.3، جرمنی کی 1.3، اٹلی کی 1.2 اور اسپین کی 1.1 ہے، اس طرح یورپی یونین کے 31 ممبر ممالک کا اوسطاً شرح پیدائش 1.38 فیصد بنتا ہے۔

ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ اگر یورپ کی شرح پیدائش 1.38 فیصد رہی تو مستقبل میں یورپی معاشرے کا برقرار رہنا ناممکنات میں سے ہے تاہم یورپ کی گرتی ہوئی شرح پیدائش کو مختلف ممالک سے یہاں آ کر رہائش اختیار کرنے والے مسلمانوں نے کافی حد تک سہارا دیا ہے جسے ’’اسلامک امیگریشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس کی اوسطاً شرح پیدائش 1.8 ہے جبکہ یہاں مقیم مسلمانوں کی شرح پیدائش تقریباً 6 فیصد ہے جن میں اکثریت 20 سے 25 سال کے نوجوانوں کی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2027ء میں فرانس کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہوگا اور اس طرح آئندہ 39 سالوں میں فرانس اسلامی مملکت بن جائے گا۔ اس حوالے سے یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک بار کسی فرانسیسی صحافی نے فرانسیسی صدر فرانسس متراں سے سوال کیا کہ فرانس میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ ممکنات میں سے ہے کہ مستقبل قریب میں فرانس اسلامی مملکت بن جائے، آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’اگر ایسا ہوا تو میں بھی مسلمان ہو جائوں گا۔‘‘ (جاری ہے)

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند