تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشرف فارمولا اور کشمیر الیکشن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 20 محرم 1436هـ - 13 نومبر 2014م KSA 09:35 - GMT 06:35
مشرف فارمولا اور کشمیر الیکشن

ھند پاک سرحدی جھڑپوں کی طویل تاریخ ہے۔ مختلف موقوں پر دونوں ملکوں کے سربراہوں کی ملاقاتیں رسمی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ دونوں ملکوں میں ایسی طاقتیں موجود ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر تعلقات کو معمول پر نہیں لانا چاہتی ہیں اور جب کبھی خوشگوری کے آثار نمایاں ہوتے ہیں انہیں سبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔ تاشقند معاہدے سے لے کر شرم الشیخ اعلامیے تک ہر ایک کا حشر ایک جیسا ہوا اور سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی انہیں سردخانے میں ڈال دیا گیا۔ اس خیانت کے سب سے بڑے مجرم پاکستانی حکام ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے دی جانے والی رعایتوں کے باوجود اپنے آپ کو کسی معاہدے کا پابند نہیں سمجھتے۔ وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے برخلاف پاکستان میں اقتدار کے کئی مراکز ہیں جن میں فوج کو برتری حاصل ہے۔ جمہوریت کو وہاں پنپنے اور منتخبہ حکومتوں کو ٹکنے نہیں دیا گیا۔ 2008ء میں قائم زرداری حکومت اکلوتی حکومت ہے جس نے اپنی میعاد مکمل کی۔ پاکستانی سیاستدانوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اقتدار سے اہر رہتے ہوئے وہ ہندوستان ک ساتھ مصالحتی رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی تیور بدل جاتے ہیں۔ گزشتہ الیکشن کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ پہلی بار تمام بڑی پارٹیوں اور سیاست دانوں نے ہند مخالف بیان بازی سے گریز کیا اور اپنے اپنے منشور میں تعلقات کو استوار کرنے والے اقدامات کا ذکر کیا۔ اس میں نواز شریف پیش پیش تھے۔

الیکشن میں کامیابی کے بعد انہیں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کا شرف حاصل ہوا لیکن پہلے کی نسبت اس بار حالات مختلف تھے اور داخلی مسائل اور نظم و نسق کی صورتحال انکے لیے اسب سے بڑا مقابلہ تھی۔ انتہا پسندوں اور پاکستانی طالبان کے ہاتھوں فوجیوں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کے سبب عمران خان اور قادری نے دھرنوں کے ذریعے تحریک سول نافرمانی شروع کی جسے بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ یہ دونوں لیڈر نواز شریف کے استعفیٰ پر مصر ہیں۔ طاہر القادری نے تحریک ختم کر دی ہے لیکن استعفی کے مطالبے پر آج بھی قائم ہیں ۔ ایک لمبے عرصے تک چلنے والی تحریک سے حکومت کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا چنانچہ عوام کی توجہ داخلی شورشوں سے ہٹانے کے لیے نواز شریف کے پاس ہند مخالف کارڈ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے لیے انہوں نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی اور کشمیر کا آزمودہ حربہ آزمایا۔ گزشتہ چند مہینوں سے سرحد پار سے دراندازی فاہرنگ اور گولہ باری میں تیزی آئی ہے جس سے دونوں طرف کی شہری اموات میں اضافہ ہوا ہے اور حالات کشیدہ ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسر پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری علاہدگی پسندوں سے ملاقات نے پوری کر دی۔ نتیجتا ہندوستان نے 25 اگست کو اسلام آباد میں ہونے والی خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات منسوخ کر دی ۔

نواز شریف کو کشمیر کے مسئلے پر اس وقت خفت اٹھانی پڑی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مداخلت سے انکار کر دیا۔ نواز شریف پر تازہ افتادیہ پڑی کی لاہور ہائی کورٹ نے انکی اتفاق گروپ آف کمپنیز کو بینکوں سے لیے گئے قرض کی عدم ادائیکی پر ساڑھے تین کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ نواز شریف اور انکا خاندان پاکستان کے امیر ترین صنعتکاروں میں سے ہیں۔ سیاست میں نواز شریف کے دور کا سبب بھی انکا کاروبار تھا جب 70ء کی دہائی میں بھٹو نے انکی سٹیل ملوں کو قومیا لیا تھا جسے حاصل کرنے کے لیے وہ پہلے جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں وزیر خزانہ اور بعد میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی جائیداد بلکہ آنے والے برسوں میں وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
پاک و ہند تعلقات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر اور اس کے تیئں دونوں ملکوں کی ذہنیت ہے۔ کشمیر کو ہم ہندوستانی ملک کا اٹوٹ حصہ سمجھتے ہیں تو پاکستانی اسے متنازع خطہ مانتے ہیں جبکہ خود کشمیریوں کا ذہن اس سلسلے میں صاف نہیں ہے۔ ایک طبقہ ہندوستان کا حامی ہے اور دوسرا پاکستان کا اور تیسرا آزادی کا خواہاں ہے۔ ہندوستان سے کشمیر کے الحاق کی بنیاد دستور کا آرٹیکل 370 ہے جس کے تحت کشمیر کو خصوصی مراعات اور اختیارات حاصل ہیں۔ اب یہ آرٹیکل کاغذی اور آرائشی بن کر رہ گیا ہے اسکے باوجود یہ فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے جو اسے منسوخ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ اتنا آسان نہ ہوگا۔ کشمیری اسے قبول نہیں کریں گے اور دہشت گردی کی مار سہنے والی ریاست نراجیت کا شکار ہو جائے گی۔

کشمیر مسئلے کے حل کے لیے نہرو کے دور سے لے کر اب تک کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ منموہن سنگھ کے دور میں پرویز مشرف کا چار نکاتی فارمولہ ایک ممکنہ پائیدار حل ہو سکتا تھا جس میں دونوں حصوں کے کشمیر کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے سرحدوں کو عوامی رابطے، تجارت اور آمد و رفت کے لئے کھولنے اور فوجوں کی مرحلہ وار واپسی کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیشن کی تجاویز شامل تھیں۔ مشرف ایک فوجی آمر تھے جو اپنی بات بے لاگ لپیٹ کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ 2006ء میں این ڈی ٹی وی کو اپنے فارمولے کے تعلق سے دئے ہوئے انٹرویو میں انہوں ننے جو چونکا دینے والی باتیں کہیں انکی جرائت کوئی پاکستانی سربراہ نہیں کر سکا ہے۔ انہوں نے تو کہا کہ اگر ہندوستان انکی امن تجاویز کو مان لے تو پاکستان نہ صرف استصواب رائے کے مطالبے بلکہ کشمیر پر دعوے سے بھی دستبردار ہو جائے گا۔

ہندوستان ہمیشہ کی طرح تذبذب کا شکار رہا اور ایک اچھا موقع ہاتھ سے کھو دیا۔ گزشتہ ہفتے آرٹیکل 370 اور مشرف فارمولے کی باز گشت مشہور وکیل اور سابق بی جے پی لیڈر رام جیٹھ ملانی کے بیان میں سنائی دی۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل تین سو ستر آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے جسے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور مشرف فارمولا نیک نیتی پر مبنی تھا جسے بنیاد بنا کر آج بھی کشمیر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

مہینے کے آخر میں کشمیر میں الیکشن ہونے والے ہیں۔ خبروں کے مطابق بے جے پی نے انتخابی حکمت عملی کے تحت آرٹیکل تین سو ستر کو موضوع نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور وادی کی چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ممبران سے رابطے میں ہے لیکن وہ کوئی محاذ نہیں بنائے گی اور تنہا الیکشن لڑنے کا ناٹک کرے گی ۔اسکا اصل مقصد کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی طاقت کو توڑنا ہے۔ نیشنل کانفرنس کو حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کشمیر الیکشن کو مشن 44 کا نام دیا ہے ۔ جموں کشمیر میں کل 87 سیٹیں ہیں۔ مشن کی تکمیل کے لئے بی جے پی کو جموں کی 37 لداخ کی 4 اور وادی کی کم سے کم تین سیٹیں جیتنا ہوں گی، کیا یہ ممکن ہے ؟ اس سوال کا جواب ہم نہیں نتائج بتائیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند