تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آہنی ہاتھ اور تحریک انصاف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 محرم 1436هـ - 15 نومبر 2014م KSA 09:25 - GMT 06:25
آہنی ہاتھ اور تحریک انصاف

یہ تو طے ہے کہ جب کسی زیرک حکومت اور حزب اختلاف میں معاملات پیچیدہ ہوجائیں تو سیاسی اختلافات کو سیاسی طریقوں ہی سے حل کرنے کو حکومت اپنی اولین ترجیح بناتی ہے تاکہ ملک کو انتشار کی کیفیت اور سیاسی عدم استحکام سے بچایا جاسکے۔ تحریک انصاف اور حکومت کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات کے خاتمے کے حوالے سے جمہوریت دوست حلقوں کی رائے ہے کہ وسیع تر ملکی و قومی مفاد میں معاملے کو طے کرانے کے لیے وزیر اعظم ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر پہل قدمی کریں اور پیر پگارا ایسی ملک کی اہم، قد آور اور معتمدعلیہ سیاسی و روحانی شخصیت کو ثالث تسلیم کرکے ان سے فوری رابطہ کریں۔ یہ رابطہ محض رسمی، نمائشی اور درشنی نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں امید ہے کہ عمران خان ان کا احترام بھی کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ امید ہے کہ جناب پیر پگارا ایسے قد کاٹھ کا وسیع المشرب رہنما ہی بطور ثالث بذریعہ مذاکرات معاملات و مسائل طے کرانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ بشرطیکہ ارباب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے زعماء ضد اور انا کی سیاست سے تائب ہو جائیں۔

نواز حکومت کو عمران خان کے تحفظات سنجیدگی سے دور کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہونا ہوگا اور اپنے اناڑی اور بد زبان ’ہاکس‘ کو حکم زباں بندی بھی دینا ہوگا۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار کو تحریک انصاف کے سربراہ سے ملاقات کر کے معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھانے کا ٹاسک دیا جائے۔ اس ضمن میں ایجنڈے کے نکات طے کرلئے جائیں اور واضح کر دیا جائے وزیر اعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے سوا تمام مطالبات پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے حکومت کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینا ہو گا۔ اس کمیٹی کے ارکان معتدل مسلم لیگی رہنما ؤں کو بنایا جائے۔ معتدل مسلم لیگی رہنما ہوں کامریڈپرویز رشید ایسے انتہاپسند نہ ہوں۔ تحریک انصاف میں بھی ایک ایسا گروپ موجود ہے جو مذاکرات کے حق میں ہے۔ عام آدمی کی رائے یہ ہے کہ تحریک انصاف سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں، اس کے لئے لازم اور ناگزیر ہے کہ تحر یک انصاف کی طرف سے بھی لچک کا سگنل ملے۔

معاملے کو سلجھاؤ کے لئے بیک ڈور‘‘ رابطہ کاری کے ذریعے کو بھی بروئے کار لایا جائے، جب عمران خان کے رویے میں حوصلہ افزا لچک کے آثار و امکانات کا روشن ہونا یقینی ہوجائے تو پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعظم آبرومندانہ اور نتیجہ خیزمذاکرات کی دعوت براہ راست بھی دے سکتے ہیں۔

اب انہیں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہیے اور زعم بالادستی میں پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب میں عوامی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔وزیراعظم اگست 2014ء کے اوائل میں یہ غلطی کرچکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا۔ تب وہ سیاسی درجہ حرارت کی پیمائش کرنے میں سرے سے ناکام رہے۔ حالانکہ ان کی انگلیاں حالات کی نبضوں پر ہونا چاہیے تھیں لیکن ان دنوں وہ بگڑے ہوئے مغل جان عالم پیا کی طرح اقتدارو اختیار کے بادۂ نوشینہ کی سرمستی میں ’ہنوز دلی دور است‘ کے شیریں خوابوں کے رنگین تانوں بانوں میں الجھے ہوئے تھے۔ حالانکہ انہیں مذاکراتی عمل کا آغاز رمضان المبارک میں کر دیناچاہئے تھا تاہم غیر ملکی دوروں کے شوقین وزیراعظم تب دو ہفتے تک اسلام آباد سے غائب رہے اور وہ حالات کے سدھار کی جانب ایک سنٹی میٹر بھی پیش قدمی نہ کر سکے ۔

اس میں بے چارے نوازشریف کا کیا قصور تھا۔ اسے تو سب اچھا کی رپورٹس مل رہی تھیں۔ مغل اعظم کے دیوان خاص تک رسائی پانے والے نورتنوں میں سے ایک اسے بتا رہا تھا کہ ’مہابلی! گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔تحریک انصاف کے ساتھ شامل جماعتیں کوچوان پارٹیاں ہیں جن کے تانگے میں کوئی سواری نہیں‘۔

ہر جمہوری دور حکومت میں اپوزیشن جلسے جلوس اور احتجاج کیا کرتی ہے اور یہ پر امن احتجاج اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہوتا ہے۔ حقیقی جمہوری حکومتیں اپوزیشن کے احتجاج کو کھلے دل سے تسلیم کر تی ہیں نہ کہ اس کے احتجاجی جلسے میں عوام کو شریک ہونے سے روکنے کے لئے 30 ہزار کنٹینرز کھڑے کر کے دس کروڑ آبادی کے ایک پورے صوبے کو سیل اور وفاقی دارالحکومت کو بند شہر۔۔۔ علاقہ ممنوعہ۔۔۔اور۔۔۔ نو گو ایریا بنا دیا کرتی ہیں۔ وہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسے کو فلاپ کرنے اور اندھی طاقت کی ہیبت بٹھانے کے لئے پورے ملک یا پورے صوبے کی مسلح پولیس کو ایک شہر میں لاجمع نہیں کرتیں۔ مبنی بر صداقت احتجاج کی آواز کو دنیا کی کوئی طاقت کچل نہیں سکتی۔ سنگینوں کے سائے اور بندوقوں کی نالیوں کی چھاؤں میں کسی بھی آزاد مملکت کے آزاد رائے دہندگان کورائے کے آزادانہ اظہار سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ تشدد کے ذریعے رائے دہندگان کی رائے ہائی جیک تو کی جا سکتی ہے، تبدیل نہیں کی جا سکتی ۔تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں خود مسلم لیگ( ن) جابہ جا احتجاج کے الاؤ روشن کرتی رہی اور اس کے ‘ شریف لیڈرز ‘ بھی غیر شریفانہ عوامی مظاہروں کی قیادت کرتے رہے لیکن سابق حکومت نے ان کے خلاف کبھی طاقت کا استعمال نہیں کیا اور بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکالا۔

اسی تناظر میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے 2 اگست 2014ء کو کہا تھا کہ عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنا 2009ء کے میاں نواز شریف کے لانگ مارچ سے قائم ہونے والی بری مثال کا نتیجہ ہے، لانگ مارچ کو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی اس وقت کے آرمی چیف نے میاں نواز شریف کو فون کرکے کہا تھا کہ ان کے مطالبات مان لئے گئے ہیں جس کے بعد حکومت نے مارچ کے مقاصد تسلیم کرلئے اور عدلیہ بحال ہو گئی۔ یہ تمام عمل پارلیمنٹ سے ماورا تھا جس کی وجہ سے آج لوگوں کے ذہن میں حکومت کی تبدیلی کا نقشہ 2009ء کے منظر نامہ کی روشنی میں ہے، 2009ء میں فوج، پیپلزپارٹی کی حکومت، نواز شریف اور سب نے مل کر غلط روایت قائم کی جس کا عکس اب مختلف شکل میں نظر آ رہا ہے۔۔۔۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ ’حکومت کی بدحواسی سے لگ رہا ہے کہ تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں‘۔ ان کا مطلب واضح تھا کہ میاں محمد نوازشریف نے آئین، پارلیمنٹ سے ماورا اور عدلیہ سے رجوع کئے بغیر ایک بڑا فیصلہ سڑکوں پر کرا کر ایک مثال قائم کردی۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ایک عمل اگر 2009ء میں جائز تھا۔۔۔ تو۔۔۔ اگست 2014ء میں کیونکر ناجائز ہو گیا؟

محب وطن جمہوری اور شہری حلقوں کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت تحریک انصاف کو 30 نومبر کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دے تاکہ جمہوریت کا حسن برقرار رہے ۔ ایک جمہوری دور میں احتجاجی جلسہ کرنا ہرسیاسی جماعت کا حق ہے۔ اس سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ جمہوریت کوئی چھوئی موئی کا پودا نہیں کہ 30 نومبر کے جلسے سے مرجھا جائے ۔۔۔ جمہوریت برف کا باٹ بھی نہیں ہے کہ حکومت پر عمران خان کی تنقید کی دھوپ سے قطرہ قطرہ پگھلنے کے بعدا بھاپ بن کر اڑجائے اور نہ ہی جمہوریت ہواکے چوراہے میں رکھا ہوا دیا ہے کہ تبدیلی کی ہوا کا معمولی سا دباؤ اسے گل کر دے ۔۔۔باخبر حلقے بتا رہے ہیں کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے چے ئرمین عمران خان کی جانب سے 30 نومبر کے ’’دھرنے‘‘ کی دھمکی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے فرض کر لیا ہے کہ دھرنے کے شرکاء تشدد کریں گے لہٰذا حفظ ماتقدم کا تقاضا ہے کہ انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے اسی طرح روکا جائے، جس طرح اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو بیت المقدس میں تماز ادا کرنے سے روکنے کے لئے ریاستی تشدد کا بیدریغ استعمال کرتی ہے۔

وفاقی حکومت 14 اگست کی غلطی کا اعادہ نہیں کرے گی اور اسلام آباد کو ’’محفوظ شہر‘‘ بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھائے گی۔ حکومت تحریک انصاف کے کارکنوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا عزم کر چکی ہے۔ اب حکومت اپنے لئے کوئی خطرہ مول نہیں لے گی۔ عمران خان کے شو کو ناکام بنانے کیلئے اسلام آباد کے اردگرد حفاظتی حصار بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ نظریاتی اور اصولی سیاست کے پرچم بردار سیاسی کارکنوں کا جوش و جذبہ ان حفاظتی حصاروں اور دیواروں کو مکڑی کے جالوں،ریت کے دیواروں اور کانچ کے کھلونوں کی طرح توڑکر رکھ دیا کرتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند