تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بولنے والے دانشور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 25 محرم 1436هـ - 18 نومبر 2014م KSA 12:56 - GMT 09:56
بولنے والے دانشور

بھلا ہو جنرل پرویز مشرف کا کہ جنہوں نے پرائیویٹ ٹی وی چینلز سے لائسنس جاری کرکے ایک طرف ایسے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر دیئے جو اپنی ’’دن رات کی کمائی‘‘ کو کہیں ’’لگانا‘‘ چاہتے تھے۔ ان ’’نئے سرمایہ کاروں‘‘ کو جہاں منافع بخش تجارتی مواقع فراہم ہوئے، وہیں ان کو سماج میں ’’شناخت‘‘ بھی مل گئی۔ اگر آپ کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے مالک ہوں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ میڈیا ہاؤس کا مالک، سماج اور ریاست کے ایوانوں میں کیا طاقت رکھتا ہے۔

اگر آپ کی درجنوں فیکٹریاں بھی ہوں تو آپ وہ سماجی طاقت نہیں پا سکتے جو کہ آپ بحیثیت مالک اخبار یا ٹی وی چینل پالیتے ہیں۔ کمزور ریاست کے حکمران آپ کو بڑے احترام سے اپنے ہاں بلواتے ہیں، کمزور حکمرانی میں طاقت کے حصول کے لیے آپ کے آگے پیچھے پلیٹیں اُٹھائے کھانوں اور محفلوں میں ’’احترام‘‘ کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ آپ سے کوئی حساب نہیں مانگا جاتا کہ آپ کے ہاں دولت کے انبار کیسے لگ گئے۔ چوں کہ اب آپ کے پاس لوگوں کو ذہنی حوالے سے کنٹرول کرنے کی طاقت آگئی ہے، اس لیے آپ کی طاقت حکمرانوں اور حکمران اداروں کی طاقت کے ساتھ ’’گھل مل‘‘ گئی ہے۔ مالکان چینلز کے علاوہ ہزاروں ایسے لوگوں کا روزگار بھی لگ گیا جو 2002ء سے پہلے کسی علمی، فکری، تحقیقی یا صحافتی میدان میں کہیں نہیں تھے۔ قدرت کا کمال کہ اب وہ صاحب الرائے نہیں بالکل حتمی رائے رکھتے ہیں۔ ان میں سرفہرست اینکرز ہیں جو Anchor کم اور Anger زیادہ لگتے ہیں۔ یہ اینکرز ملک و قوم کے مستقبل کے نگہبان بن کر اُبھرے ہیں یا ’’اُبھارے‘‘ گئے ہیں۔ قوم کے نجات دہندہ۔ Democracy کے اس سراب میں Anchorocracy بھی ایک ’’طاقتور ادارے‘‘ کے طور پر اُبھری ہے۔ جمہوریت کی پاسبان، عدالتوں کی نگہبان، عوام کی ہمدرد، ملک کی قائدانہ صلاحیتوں رکھنے والی نئی طاقت Anchorocracy ایک ایسی طاقت جو چہار سو شدت کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ عوام کے نجات دہندہ کی طرح، پاکستان کی ترقی اور مستقبل کی ضمانت بن کر ابھرنے والی اینکر و کریسی، یہ اینکرز اب تجزیہ نگار اور سینئر تجزیہ نگار بھی ہیں۔ سینئر تجزیہ نگار وہ ہیں جو آدھے ملین سے تقریباً زیادہ کے تنخواہ دار ہیں۔ باقی سارے صرف تجزیہ نگار۔

بھلا ہو ’’نئے سرمایہ داروں‘‘ کا کہ انہوں نے ایسے لاتعداد قومی ترقی، قومی مستقبل کے ضامن پیدا کر دیئے جو رات کو آٹھ بجے کے بعد اپنی عدالتیں لگاتے ہیں۔ رات کو برپا کی گئی یہ عدالتیں جس طرح ’’قوم کے مقدمات‘‘ لڑتی آئی ہیں، ایک دہائی سے ظلمتوں کے مارے لوگ ان سے نجات دہندگی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ ’’پرائم عدالتیں‘‘ رات کے دس بجے لگتی ہیں۔ ان کا معیار \”Prime Time\” کے حوالے سے ’’قرار دیا‘‘ جاتا ہے۔ یہ تجزیہ نگار اور سینئر تجزیہ نگار بھی ہر قسم کے حکمرانوں کے ایوانوں میں ’’بڑا بلند مقام‘‘ رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے اداروں کے سربراہ، وزارتوں کے مالک اور سیاسی جماعتوں کے تاحیات رہنما، ان کی بھی بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں، اس لیے کہ نئے سرمایہ کاروں کے قائم کیے گئے میڈیا ہاؤسز کے یہی تو کرتا دھرتا ہیں، انہی کو تو مسیحا بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ انہی کے پاس ’’تیز دھار زبانیں‘‘ ہیں جو شمشیر کی طرح چلتی ہیں اورسامنے بیٹھے مہمانوں کو زخمی یا تارتار کر دیتی ہیں۔ بھاری بھرکم اجرتوں نے ان کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ اگر ایک مالک (Owner) سے نہیں بنی تو دوسرے مالک کے پاس چلے گئے۔ اور پھر نئے چینل پریہ Promo چلتا ہے۔ ’’میں کبھی جھکا نہیں، کبھی بکا نہیں۔‘‘ جی ہاں، بکے نہیں خریدے گئے ہیں، جھکے نہیں بلکہ معاوضے بڑھانے کا معاملہ ہے کہ کہاں سے زیادہ مال یا تنخواہ کی ’’دعوت‘‘ ہے وہاں چلے گئے۔

کبھی ہم نے سوچا کہ یہ سب بولنے والے دانشور ہیں؟ صرف بولنے والے یا دانشوروں کی ایک قسم ہے جو ہمارے ہاں یا جنوبی ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ بولنے والے دانشور، جن کے پاس پڑھنے کا وقت نہیں، لکھنے کا ٹائم نہیں، جسے ایک سینما کے باہر کھڑے شخص نے فلم دیکھ کر آنے والے سے پوچھا کیسی فلم تھی؟ جواب ملا کہ کہانی تو کچھ نہیں تھی صرف سٹوری ہی تھی۔ نہ پڑھنے کا وقت، نہ لکھنے کا تجربہ اور کہلائے گئے تجزیہ نگار، سینئر تجزیہ نگار اور دانشور، جی ہاں صرف بولنے والے دانشور، جن کو ہم Audio Intellectual اپنے پہلے کسی کالم میں قرار دے چکے ہیں۔ ان بولنے والے دانشوروں کی جھولی میں کوئی کتاب، کوئی تحقیق، کوئی Specialized Area of Interest نہیں۔ یہ جس موضوع پر چاہیں بول سکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی پر، جمہوریت پر، آمریت پر، آئین پر، پاک بھارت تعلقات پر، امریکہ کی عالمی سیاست پر، مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر، معیشت اور اقتصادیات پر، عالمی امور پر، عسکری امور پر، جنگ اور امن پر، بس دیکھنا یہ ہے کہ آج کا موضوع کیا ہے، کیا خبر آئی اور یہ خبر کے تجزیہ نگار ہیں۔

بہ یک وقت ہاکی اور کرکٹ ملا کر کھیلنے کا ملکہ ان بولتے دانشوروں کو حاصل ہے۔ ان کے سامنے بیٹھے مہمان اسی کھیل کا حصہ ہیں۔ یہ سیاست کا سب سے آخری تازہ مال آپ کے سامنے رکھ کر اُن سے گفتگو کرتے ہیں۔ ظلمتوں کے مارے عوام یہ یقین کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ بولنے والے دانشور نے فلاں کی کلاس لے لی، حالاں کہ ان بولنے والے دانشوروں کی شدید خواہش پر ہی ان کو دعوت دی جاتی ہے۔ ایسے مہمانوں کی بھی ایک کھیپ تیار ہو چکی ہے جو پرائم ٹائم کے شوز میں ایسا ’’ایک مقام‘‘ رکھتے ہیں۔ بولنے والے یہ دانشور جس سماجی طاقت کے مالک ہیں، کاش ناظرین اس طاقت سے آگاہ ہوں۔ بولنے والے ان دانشوروں میں چند ایک بڑے جرأت مند ٹھہرائے گئے ہیں ،یہ وہ ہیں جو Shout کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کچھ ’’دھڑے باز دانشور‘‘ بھی ہیں۔ سیاسی دھڑے بازی میں منقسم وفاداری کا نشان بن کر ابھرے ہیں اور بولنے والے ان دانشوروں میں ایک ملک کے نہایت وفادار دانشور ٹھہرائے گئے ہیں کیوں کہ وہ پاکستان کے ’’حقیقی حکمرانوں‘‘ کے دھڑے میں شمار ہوتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند