تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تماشا آپ کا بھی بنے گا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 28 محرم 1436هـ - 21 نومبر 2014م KSA 08:48 - GMT 05:48
تماشا آپ کا بھی بنے گا!

جسم و جاں کو تپاکر رکھ دینے والا موسم گرما تمام حشر سامانیوں کو اپنے ہمراہ لیے رخصت ہواہی تھا کہ اس کے ساتھ ہی برکھا رُت کی آمد ہوگئی،یوں آسمان پرگھنے اور سیاہ بادلوں کا آنا جانا شروع ہوگیا، کبھی میگھا کھل کر برستا تو فضا کے ساتھ ساتھ جیسے نینوں میں بھی جڑی سی لگ جاتی، بارش کی بوندیں پی کر مٹی مہکی تو ہر طرف لہراتے سبزے نے بھی دیکھنے والوں کا دل خوب لبھایا، کبھی کبھی یوں بھی ہوا کہ اس پرفریب موسم کو دیکھ کر فضا میں موجود نمی کے باعث گھر وںکے کونوں کھدروں میں چھپا حبس بھی اکتاکر جیسے باہر آجاتا، اس دوران دریاو¿ں میں سیلاب بلا خیز کی موجیں منہ زور ہوئیں توپانی کی لہریں بستیوں کی بستیاں روندتی اور تباہی مچاتی گزر گئیں۔ ہر لمحہ بدلتے موسم کی اسی کشمکش میں برسات گزرنے کا پتہ بھی نہ چلاکہ اچانک ایک درخت کے ایک پتے نے رنگ بدلا اور شاخ سے جھڑ کر درخت کے قدموں میں اپنی جان دیدی، یہ منظر دیکھ کر باقی پتے ساکت اور سہمے سہمے دکھائی دینے لگے کہ ان کا بھی شجر سے رخصت ہونے کا وقت قریب آن پہنچا تھا، پھرتو جیسے دیکھتے ہی دیکھتے سرسبز اور ہرے بھرے درختوں کو گرہن ہی لگ گیاتھا، یاپھر کسی کی منحوس نظر کھاگئی تھی۔ لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی تو نہ تھا، کسی درختوں کے سبز پیراہن کسی گرہن کی زد میںآئے تھے نہ کسی منحوس نظر نے پتوں سے ان کی ہریالی چھینی تھی بلکہ یہ تو اُس ہزار رنگ موسم کی آمد کی علامت تھی جسے خزاں کہا جاتا ہے، وہ خزاں جو صرف ماحول پر ہی نہیں بلکہ انسانی مزاج پر بھی گہرا اثر کرتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ خزاں کے رنگ بہار کے رنگوں سے زیادہ دلفریب اور خزاں کے نظارے بہار کے نظاروں سے کہیں زیادہ پرکیف ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خزاں کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے والے کم کم ہی ملتے ہیں۔

بہار زیادہ تر سبزے سے موسوم ہے جسے کچا رنگ بھی کہا جاتا ہے لیکن خزاں پیلے، سرخ اور نارنجی رنگوں سے موسوم سمجھی جاتی ہے، جنہیں پکے رنگ بھی کہا جاتا ہے۔شاید اسی لیے خزاں میں محبت کا سبز رنگ بھی انہی رنگوں میں ڈھل کراداسی کی دبیز تہہ باقی چھوڑ جاتا ہے،بالکل اسی طرح جیسے سبزی مائل مہندی کا سفوف ہتھیلیوں پر اپنے نقش و نگار ثبت کرجاتا ہے۔ سبز پوشاکیں اتارنے اور پیلے ، لال اور نارنجی رنگ کی پیراہن اوڑھتے پتے کسی عظیم مصور کے نادر فن پاروں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، یہی پتے درختوں سے جھڑ کر دھیرے دھیرے زمین پر گر کر ایک نرم و نازک قالین کی صورت اختیار کرجاتے ہیں، سرد ہوا ان پتوں کو چھوکر کر گزرتی ہے تو وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اُڑنے لگتے ہیں، روسی شعراءخزاں کے اِنہی مناظر کو خزاں کا اصل حسن قرار دیتے ہیں۔ جرمنی میں اس طلسمی موسم کو سنہری خزاں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اپنے پورے حسن اور رعنائیوں کے باوجودیہ سنہری خزاں جب بھی آتی ہے، اپنے جلو میں اداسی کا لشکر لے کر آتی ہے اور اداسی کا یہ لشکر شب خون مارنے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ بالکل سامنے سے حملہ آور ہوتا ہے اور دل میں مچلتی خوشیوں کے سارے تاروپود بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اکتوبر سے جنوری تک بہار کا موسم آجائے یا فروری سے اپریل تک خزاں کا موسم طاری رہے۔ جون جولائی میں کورا نہیں پڑتا اور دسمبر جنوری میں سورج آگ نہیں برساتا بلکہ ہر موسم اپنے مقررہ وقت پر آتا ہے اورمخصوص وقت پر چلا جاتا ہے، یہی قانون قدرت ہے، اسی طرح خزاں کے بعد اپنے مخصوص وقت پر بہار اور بہار کے بعد ایک مقررہ عرصے کے بعد پھر خزاں کا دور آتا ہے۔ یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔سیاست بھی ایسی ہی چیز ہے، سیاست میں سانپ مارنے کا ایک وقت ہوتا ہے، وہ وقت گزر جائے تو باقی لکیر پیٹنا ہی رہ جاتا ہے۔ سال دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے پہلے سیاست کا ایک موسم تھا، وہ موسم گزر گیا، اس کے بعد اب جو کچھ ہورہا ہے ، وہ لکیر پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ جس طرح موسم نہیں بدلا جاسکتا، اسی طرح سیاست میں وقت بھی نہیں بدلا جاسکتا۔پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے تین ماہ پہلے اگست میں مارچ کرنے یعنی موسم گرما میں بہار کھلانے کا منصوبہ بنایا، جو بری طرح ناکام ہوگیا۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے تو قدرے سمجھداری کا ثبوت دیا اور سیاسی موسم کو ناموافق دیکھا تو خود ہی عذر تراش کراور دھرنوں کا طوق گلے سے اتار کر چپکے سے نکل گئے،لیکن تحریک انصاف کے عمران خان نے شاید حالات کو ابھی سمجھا نہیں یا پھر سیاست کو ہی ابھی سمجھا نہیں۔غالبا اسی لیے اب عمران خان تیس نومبر کو بہار کھلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جو بہار عین برسات میں نہیں کھل سکی وہ بہار بھلا بھرپور خزاں میں کیسے کیسے جلوہ گر ہوسکتی ہے؟جو مقصد دو ”لانگ“ مارچوں کے باہم ملنے سے حاصل نہیں ہوسکا، وہ بھلا ایک اکیلے شارٹ مارچ سے کیسے حاصل ہوگا؟

قارئین کرام!! خزاں میں پتے رنگ ہی نہیں بدلتے بلکہ اکثر درختوں کی چھال بھی اتر جاتی ہے، تب کہیں جاکر تین ماہ کے غم و اندوہ کی کیفیت سے گزرنے کے بعد بہار رُت نمودار ہوتی ہے، نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، کلیاں چٹختی ہیں، غنچے کھلتے ہیں اور درختوں اور پودوں سے چھن جانے والی ہریالی واپس پلٹتی ہے۔ سیاست بھی ایسی ہی چیز ہے، یہ صرف عزم، جرات اور وسائل ہی نہیں مانگتی ، بلکہ سیاست صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کا نام بھی ہے، ورنہ خزاں میں پتوں پر سبز رنگ کردینے اور چھال کو گوند کی مدد سے دوبارہ درخت کے تنے کے ساتھ چپکا دینے سے بہار نہیں آجاتی، ہر کام کیلئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ جس طرح بہار بہار میں ہی اچھی لگتی ہے اور خزاں میں خزاں کے رنگوں سے ہی دل بہلانا چاہیے،اسی طرح سیاست سیاست کے موسم میں ہی اچھی لگتی ہے، بے وقت کے جلسے جلوس سیاست کم اور سرکس زیادہ معلوم پڑتی ہے۔ جناب کپتان! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے سیاست کرنی ہے یا سرکس لگانی ہے؟یاد رکھیں اگر آپ نے سرکس ہی لگانی ہے تو پھر تماشا آپ کا بھی بنے گا۔

پس تحریر: ماں کا مقام یقینا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اگرچہ ماں کی ممتا انسان کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی جینے کا سہارہ دیتی ہے ، لیکن باپ کا مسکراتا چہرہ زندگی کی امنگ بن کر انسان کے اپنے چہرے سے عیاں ہوجاتا ہے، ماں کی ممتا اگر کٹھن راہوں پر دعا کی صورت حوصلہ بڑھاتی ہے تو باپ کی شفقت دشواراور پُرپیچ راہوں میں نقیب منزل کی طرح رہنمائی کرتی ہے۔ اس خزاں کے آغاز پر ہمارے سروں پر گھنے بادل کی طرح سایہ فگن درخت کے پتے ہی نہیں جھڑے، بلکہ وہ درخت ہی ڈھ گیا، جو ہمارے لیے ہر موسم میں ہرا بھرا رہتا تھا۔ والد صاحب کی ناگہانی وفات پر قارئین اور احباب نے جنازے میں شرکت کرکے ، ٹیلی فون کالز، ای میلز، میسجز اور سماجی رابطوں کے نیٹ ورکس کے ذریعے جس طرح میرا حوصلہ بندھایا، اس پر میں آپ سب کی تہہ دل سے ممنون اور مستقبل میں دعاو¿ں کیلئے ملتمس ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند