تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کالے دھن کے عالمی معاہدے سے پاکستان کی علیحدگی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 1 صفر 1436هـ - 24 نومبر 2014م KSA 09:43 - GMT 06:43
کالے دھن کے عالمی معاہدے سے پاکستان کی علیحدگی

14 جولائی 2014ء کو میں نے سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے کالے دھن پر کالم لکھا تھا جس میں، میں نے سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے غیر قانونی 200ارب ڈالر کے بارے میں تفصیلات بیان کی تھیں۔ اس کالم پر مجھے بے شمار ای میلز اور خطوط موصول ہوئے جن میں قارئین نے درخواست کی کہ اُنہیں اس اہم معاملے پر ہونے والی مزید پیشرفت سے آگاہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک رکھے گئے کالے دھن کی واپسی کیلئے حکومتی وفد نے اکائونٹس کی تفصیلات جاننے کیلئے 26 سے 28 اگست 2014ء کو جنیوا کا دورہ کیا تھا اور پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بتایا تھا کہ سوئٹزر لینڈ کے 11 بینکوں میں پاکستانی شہریوں کے غیر قانونی 200 ارب ڈالر وطن واپس لانے کیلئے حکومت پاکستان سوئس حکومت کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے جبکہ وفاقی کابینہ کی جانب سے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان موجودہ ٹیکس معاہدے پر نظرثانی کی منظوری بھی دی جاچکی ہے جسکے بعد حکومت سوئس بینکوں میں رکھی گئی پاکستانیوں کی رقوم کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے۔

سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 32 کھرب ڈالر دنیا کے مختلف بینکوں میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں جو لوگوں نے ٹیکس سے بچنے کیلئے جمع کئے ہیں جس میں سے صرف سوئس بینکوں میں 7 کھرب ڈالر رکھے گئے ہیں۔ سوئس بینکوں میں بھارت کے 1456 ارب ڈالر، روس کے470 ڈالر، انگلینڈ کے 390 ڈالر اور پاکستان کے 200 ارب ڈالر کالے دھن کی رقوم جمع ہیں جبکہ دیگر ممالک میں چین، میکسیکو، ملائیشیا اور سعودی عرب وغیرہ شامل ہیں جن کی کالے دھن کی رقوم سوئس بینکوں میں غیر قانونی طور پررکھی گئی ہیں۔ منی لانڈرنگ نے عالمی معیشت کو لڑ کھڑا دیا ہے اور اس سے غیر قانونی معیشت فروغ پا رہی ہے۔ ان ممالک کے کارپوریٹ ادارے ٹیکسوں سے بچنے اور کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے شیل کمپنیاں استعمال کررہے ہیں جس کے تحت ان کمپنیوں کے اثاثوں اور اصل مالکان کا نام خفیہ رکھا جاتا ہے۔ G8 اور G20 ترقی یافتہ ممالک نے ان گمنام شیل کمپنیوں کو ایک بین الاقوامی مالیاتی مسئلہ قراردیا ہے۔ سوئس بینکوں میں اکائونٹ کھولنے کے لئے سوئٹزر لینڈ جانا ضروری نہیں۔

کرنٹ اور سیونگ اکائونٹ کے علاوہ سوئس بینکس سیکرٹ کوڈ اکائونٹ کھولنے کے لئے بھی مشہور ہیں جس میں اکائونٹ ہولڈر کا نام خفیہ رکھا جاتا ہے اور یہ اکائونٹ ایک پاس ورڈ کے ذریعے آپریٹ ہوتا ہے۔ ایسے سوئس اکائونٹس میں ڈپازٹس پر منافع دینے کے بجائے کھاتے داروں سے بینک سروس چارجز وصول کرتے ہیں۔ 300 سال پرانے سوئس قانون کے تحت سوئس بینک رقوم کے ذرائع معلوم کئے بغیر اکائونٹ کھول دیتے تھے اور وہ اپنےاکائونٹ ہولڈرز کی تفصیلات بتانے کے بھی پابند نہیں تھے لیکن سوئس حکومت ٹیکس چوری کو بڑا جرم تصور کرتی ہے اور اس کے ٹھوس ثبوت فراہم کئے جانے کی صورت میں ان اکائونٹ کی تفصیلات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سوئس بینکر ایسوسی ایشن کے مطابق وراثت اور طلاق جیسے سول کیسوں، قرضے کی ریکوری اور دیوالیہ ہونے کے کیس، منی لانڈرنگ، کریمنل تنظیم سے تعلق، چوری اور بلیک میل جیسے الزامات کے مقدمات کی صورت میں بھی کھاتہ دار کی تفصیلات فراہم کرنا بینک کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

سوئس قانون کے مطابق سوئس عدالت کی تحقیقات میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ رقوم غیر قانونی ہیں تو ملزم کے اثاثے منجمد کرکے انہیں متعلقہ حکومت کے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن اب دنیا میں منی لانڈرنگ کے سخت قوانین کے تحت کالے دھن کی منتقلی مشکل بنتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں دنیا کے 51 ممالک نے جرمن دارالحکومت برلن میں کالے دھن کی روک تھام کےلئے ایک معاہدے ’’ملٹی لیٹرل کمٹمنٹ اتھارٹی ایگریمنٹ‘‘ پر دستخط کئے جس کے تحت بینکنگ اطلاعات کا آٹومیٹک تبادلہ 2017ء سے شروع ہوگا۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں برطانیہ، فرانس، اٹلی،جرمنی، لگسمبرگ، نیدرلینڈ ، پولینڈ، پرتگال ،سوئیڈن، جنوبی افریقہ، میکسیکو، کوریا، ارجنٹینا، آسٹریلیا، بیلجیم، کولمبیا، چیک ری پبلک، ڈنمارک، ناروے، یونان، ہنگری، آئرلینڈ ،ٹیکس چوروں کی جنت جبرالٹر، برٹش ورژن آئرلینڈ، کیمیل آئرلینڈ، آئلز آف مین وغیرہ شامل ہیں۔

اس بین الاقوامی معاہدے میں سوئٹزرلینڈ نے ابتدائی مذاکرات میں اتفاق کیا تھا لیکن عین وقت پر دستخط سے انکار کر دیا جبکہ معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے 39 ممالک میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ مجھے سوئٹزرلینڈ کے دستخط نہ کرنے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ سوئٹززلینڈ کے بینکوں میں موجود رقوم سے اس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن بھارت، پاکستان کا کالے دھن کے خلاف عالمی معاہدے پر دستخط نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے جہاں کالے دھن کے باعث ملکی معیشت اور ٹیکس نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس چوروں کی جنت کہلانے والے ممالک جبرالٹر، برٹش ورژن آئرلینڈ، کیمیل آئرلینڈ، آئلز آف مین جن کے قوانین ہی آف شور بینکوں اور کمپنیوں کے معلومات کو خفیہ رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں، کا اس عالمی معاہدے پر دستخط کرنا نہایت خوش آئند بات ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے 30 اکتوبر 2014 ء کو مودی حکومت کو کالا دھن رکھنے والے 627 بھارتیوں کی فہرست عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیاجس پر عملدرآمد کرتے ہوئے بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ان اکائونٹ ہولڈرز کی فہرست جمع کرا دی ہے جس میں ڈابر آئل کمپنی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پردیپ برمن، راجکوٹ کے کاروباری پنکج چمن لال اور گوا کی کان کنی کمپنی ٹمبلو کے مالک رادھا ایس ٹمبلو جیسے بزنس مینوں کے نام بھی شامل ہیں۔ بھارت کے تفتیشی ادارے CBI کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی شہریوں نے ماریشس، برطانیہ، آئرلینڈ اور سوئٹزر لینڈ جیسے ’’ٹیکس ہیون‘‘ میں کالے دھن کے 500 ارب ڈالر جمع کر رکھے ہیں جس میں سب سے زیادہ رقم سوئس بینکوں میں ہے اور غریب ملکوں کی اس کالی دولت سے ان ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جس کے پیش نظر ان ممالک کی حکومتیں اپنے بینکوں کے کالے کھاتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کرتیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر قانونی طور پر غیر قانونی دولت کا پتہ لگانا، اسے منجمد کرنا اور پھر اپنے ملک واپس لانا ایک بہت بڑا قانونی چیلنج ہے لیکن سوئس قانون میں ترمیم اور امریکہ، برطانیہ اور دیگر ملکوں کی طرف سے سوئٹزرلینڈ، جرمنی اور لکمبرگ کے بینکوں پر دبائو بڑھنے کے بعد سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے بینکوں نے اپنے کھاتے داروں کی فہرست بھارتی حکومت کو فراہم کر دی ہے۔

ہم ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کے لئے اپنے موٹر ویز گروی رکھوارہے ہیں،آئی ایم ایف کے اشارے پر بجلی پر غریب عوام کو دی جانے والی سبسڈی ختم کررہے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو گرنے سے روکنے کے لئے ہم اپنے منافع بخش قومی اثاثے فروخت کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف سوئس بینکوں میں ہمارے 200 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر غیر قانونی طور پر موجود ہیں جن کو واپس لاکر ہم نہ صرف اپنے تمام بیرونی قرضے ادا کرسکتے ہیں بلکہ ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ معیشت کے طالبعلم کی حیثیت سے میں وزیراعظم پاکستان سے یہ دریافت کرنا چاہوں گا کہ پاکستان نے کالے دھن کے خلاف عالمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک سے علیحدگی کیوں اختیار کی حالانکہ ان قوانین کے ذریعے ہم پاکستان کے سوئس بینکوں میں رکھے گئے کالے دھن کے 200 ارب ڈالر وطن واپس لاکر اپنے ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ میری وزیراعظم سے درخواست ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں رکھی گئی پاکستانیوں کی غیر قانونی دولت وطن واپس لانے کیلئے ان کی حکومت ٹھوس اقدامات کرے، انکا یہ جراتمندانہ فیصلہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جا ئیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند