تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سارک تنظیم کا سب سے بڑا کارنامہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: پیر 8 صفر 1436هـ - 1 دسمبر 2014م KSA 08:34 - GMT 05:34
سارک تنظیم کا سب سے بڑا کارنامہ

بتایا گیا ہے کہ ’’سارک تنظیم‘‘ میں شامل ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان پر مشتمل آٹھ ایشیائی ملکوں کی آبادی دنیا کی 23فیصد کے برابر ہے مگر یہ آبادی اپنے اندر دنیا کی چوالیس فیصد غربت بھی رکھتی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس تنظیم کی تیس سالہ تاریخ کا سب سے زیادہ نمایاں کارنامہ یہ قرار پایا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور میاں نواز شریف نے پوری کانفرنس کے دوران باہمی ناراضگی کا تاثر قائم رکھنے کے بعد آخری روز ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کا مظاہرہ کیا جس پر تمام رکن ممالک کے نمائندوں نے تالیاں بجائیں اور ہاتھ ملاتے وقت دونوں وزرائے اعظم کے چہروں پر مسکراہٹ موجود تھی مگر اس مسکراہٹ کی وجہ کسی کو معلوم نہیں تھی۔

جس زمانے میں یورپی یونین میں شامل ماضی کے جانی دشمن ملکوں نے دوستی اور تعاون کی نئی منزلیں طے کی ہیں اسی زمانے میں سارک تنظیم نے اپنے ’’تنظیم ‘‘ ہونے کا ثبوت بھی فراہم نہیں کیا۔

اس تنظیم کے سب سے زیادہ پس ماندہ رکن ملک افغانستان نے دنیا کی دو بڑی سپر پاورز روس اور امریکہ کی جنگی طاقت کا مقابلہ کیا ہے اور دونوں جنگی طاقتیں اس ملک کو فتح کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ اب یہ ملک اپنے وار لارڈز کے رحم و کرم پر ہے اور سارک تنظیم اس رکن کے لئے شاید کچھ بھی نہیں کر سکے گی۔

سارک تنظیم کا سب سے بڑارکن ہندوستان اس تنظیم کی 80فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اتنی ہی بڑی غربت اور کرپشن بھی کہلاتا ہے۔ یہ ملک ’’سیکولر ازم‘‘ کے ماضی کے باوجود سرکاری طور پر ہندو بنیاد پرستی کا محافظ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے دارالحکومت دہلی کو عورتوں کی بے حرمتی کا عالمی صدر مقام بھی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ فلمیں تیار کرنے کا دعویٰ بھی ہندوستان کے بالی وڈ کا ہے۔

سارک تنظیم کے رکن ممالک کے تعلقات عامہ والے ادارے جو باتیں عام طور پر بتانے سے گریز کرتے ہیں ان پر توجہ دی جائے تو پاکستان کے بارے میں بتایا جا سکے گا کہ یہاں سول حکومتوں کی بجائے فوجی حکومتوں کا تسلط زیادہ عرصے تک جاری رہا ہے مگر تمام تر خرابیوں کا الزام سول حکومتوں پر عائد ہوتا ہے۔

مالدیپ سمندر کے پانی کے قیدی ایسے جزیروں کا مجموعہ ہے جہاں شراب پینے کے پانی سے سستی ہے اور معیشت کا انحصار غیرملکی سیاحوں پر ہے۔ دنیا بھر کے سیاح مالدیپ کے جزیروں کو دہشت گردی کے اندیشوں سے پاک قرار دیتے ہیں۔ آبادی بہت کم ہونے کے باوجود خوش حال نہیں ہے چنانچہ بچے کم خوشحال گھرانہ کے تصور کو غلط ثابت کرتا ہے۔

نیپال دنیا کی واحد ہندو سٹیٹ ہے جس کا سب سے بڑا سرمایہ کوہ ہمالیہ ہے اور مائوئسٹوں نے اس ملک میں گوریلا جنگ سے حکمرانی اور دہشت گردی سے اقتدار تک کا سفر طے کیا ہے۔ یہ فیصلہ ابھی نہیں ہو سکا کہ مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی زیادہ اونچی ہے یا نیپال کے لوگوں کی غربت؟

بھوٹان ایسا ملک ہے کہ جہاں کی معاشرت عورتوں کے قبضے میں ہے۔ سری لنکا میں ترقی معکوس کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں بائیں بازو سے دائیں بازو تک کے سفر کی مشکلات بھی نظر آتی ہیں۔ تامل لوگوں کی شدید ناراضگی کے باوجود یہاں کے حکمران تیسری بار اقتدار چاہتے ہیں اورشاید اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ پاکستانی بھی تو اپنے ملک میں تیسری بار کا اقتدار دیکھ رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند