تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 10 صفر 1436هـ - 3 دسمبر 2014م KSA 13:33 - GMT 10:33
داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (ISIS) جسے داعش بھی کہا جاتا ہے،کی عسکری کارروائیوں،تنظیم میں یورپ کے مسلمان نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور اُن میں بنیاد پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے آج کل مغربی ممالک انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔ یورپ میں اپنے قیام کے دوران گزشتہ دنوں داعش نے امریکی امدادی کارکن پیٹر گیسک اور 18 شامی فوجیوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو کو مغربی میڈیا نے ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر نشر کیا جس سے امریکی و یورپی شہریوں میں ایک بار پھر خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی اور امریکہ، فرانس، برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک نے داعش کے اس عمل کو انتہائی ظالمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے داعش کو ’’وحشی تنظیم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گیسک کا قتل غیر انسانی فعل ہے جبکہ فرانسیسی وزیراعظم مائنول والس کا کہنا تھا کہ داعش اس طرح کی دہشت گردی کرکے مغرب کو اپنے خلاف کارروائیوں پر مجبور کررہی ہے۔

داعش کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک سفید فام نقاب پوش شخص جو حلئے سے مغربی باشندہ لگتا تھا، کو پیٹر گیسک کا سر قلم کرنے کے بعد خنجر ہاتھوں میں لئے برطانوی لہجے میں یہ کہتے دکھایا گیا کہ ’’اس نے پیٹر گیسک کا قتل داعش پر امریکی فضائی حملے کے ردعمل کے طور پر کیا۔ ‘‘واضح رہے کہ امریکی امدادی کارکن پیٹر گیسک کو گزشتہ سال اکتوبر میں اغواء کیا گیا تھا جس کے بارے میں بعد میں انکشاف سامنے آیا کہ اس نے اسلام قبول کرکے اپنا نام عبدالرحمٰن رکھ لیا تھا۔ ماضی میں داعش کی جانب سے جاری کی گئی کچھ ویڈیوز میں بھی اسی سفید فام نقاب پوش شخص کو امریکی صحافیوں جیمز فولی، اسٹیون سوٹلوف اور برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ نقاب پوش شخص کے برطانوی شہری ہونے کا انکشاف اس کے لہجے اور گفتگو سے ہوا تھا جس کے بعد برطانوی وزیراعظم نے برطانوی شہریوں کے قتل کو گھنائونا اور ناقابل معافی اقدام قرار دیا تھا جبکہ برطانوی وزیر خارجہ کو یہ بیان جاری کرنا پڑا تھا کہ اُن کے لئے یہ سوچنا بھی ہولناک ہے کہ سر قلم کرنے والا شخص برطانوی سرزمین پر پروان چڑھا اور اس نے اپنے ہم وطن کا سر قلم کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ کے بیان کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ برطانوی میڈیا نے گلاسکو کے رہائشی پاکستانی نژاد والدین کے حوالے سے اس خبر کو خوب اچھالا جس میں والدین نے اپنی جوان بیٹی کے داعش میں شمولیت کے فیصلے کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے اسے لبرل مسلمان کی ’’شدت پسند‘‘ اولاد قرار دیا تھا۔ لڑکی کے والد کے بقول وہ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان سے برطانیہ اس لئے منتقل ہوئے تھے کہ کہیں پاکستان میں اُن کی اولاد شدت پسندی کا شکار نہ ہوجائے مگر اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ برطانیہ میں رہ کر بھی اُن کی بیٹی شدت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے داعش میں شمولیت کا فیصلہ کرلے گی۔ ایک اندازے کے مطابق مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 سے زیادہ نوجوان داعش میں شمولیت اختیار کرکے عراق اور شام میں جہاد میں سرگرم عمل ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ داعش میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شمولیت کی ایک وجہ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پرموجود مذہبی اور جہادی مواد ہےجسے پڑھ کر امریکہ، کینیڈا، یورپ اور دیگر ممالک کے نوجوان اس کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی رغبت کی بڑی وجہ امریکہ اور یورپی ممالک کا مسلمانوں کے ساتھ بڑھتا ہوا مذہبی تعصب بھی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ 200 سے زائد بھارتی مسلمان داعش میں شمولیت اختیار کرکے عراق اور شام جاچکے ہیں جبکہ تیونس، الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نوجوان خواتین بھی داعش میں شمولیت اختیار کرکے عراق اور شام میں سرگرم عمل ہیں۔ مغربی حکومتیں موجودہ صورتحال سے انتہائی پریشان ہیں جس سے نمٹنے کے لئے وہ نئے قانون لاگو کررہی ہیں جس کی رو سے اگر اُن کا کوئی شہری داعش کے ساتھ سرگرم عمل پایا گیا تو اس کی شہریت اور پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا جبکہ جہاد کی غرض سے عراق اور شام جانے والے نوجوانوں کو روکنے اور اُن کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے لئے پولیس کو بھی اضافی اختیارات تفویض کردیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک جن کے شہریوں کی داعش میں شمولیت کی اطلاعات ہیں، کے باشندوں کو ویزے کے اجراء میں احتیاط اور سختی برتی جارہی ہے۔

کچھ عرصے قبل تک داعش کے نام سے شاید ہی کوئی واقف ہوگا مگر اس تنظیم نے جس مختصر عرصے میں عراق و شام میں فتوحات حاصل کیں اور سرکاری افواج کو جس طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، وہ حیران کن بات تھی جس کے بعد داعش کا شمار دنیا کی سرفہرست جہادی تنظیموں میں کیا جانے لگا اور آج یہ تنظیم، القاعدہ سے بھی زیادہ طاقتور تصور کی جارہی ہے۔ داعش کا قیام اُس وقت عمل میں آیا جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وفات کے بعد عراق میں القاعدہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی جنہیں ابودعا بھی کہا جاتا ہے، نے 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اس تنظیم کی بنیاد رکھی اور کسی کی نظروں میں آئے بغیر خاموشی سے ہزاروں القاعدہ اور غیر ملکی جن کا تعلق پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چیچنیا، یمن اور مصر سے بتایا جاتا ہے، کو تنظیم میں شامل کرکے اُنہیں عراق اور شام کے محاذ پر بھیجا۔ داعش میں شامل ہونے والے یہ جنگجو انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں جو کسی بھی ملک کی مسلح افواج سے مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر فتوحات کے بعد داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے مفتوحہ علاقوں کو ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور دنیا بھر کے جہادیوں سے اپیل کی کہ وہ عراق اور شام پہنچ کر خلافت کی تعمیر میں ان کی مدد کریں۔ ابوبکر البغدادی کی جانب سے اسلامی ریاست اور خلافت کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک پر مشتمل ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا جسے ’’اسلامی ریاست‘‘ قرار دیا گیا۔

کچھ پاکستانی جہادی تنظیموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عراق اور شام میں داعش کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ اس حوالے سے امریکی و برطانوی میڈیا پر یہ انکشاف بھی سامنے آچکا ہے جس میں طالبان کمانڈروں کے خلافت اسلامیہ سے وفاداری کے اعلان کو پاکستان میں داعش کا پہلا قدم قرار دیا گیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان میں داعش کی سرگرمیوں میں تیزی آئی اور اس کی باقاعدہ تشہیری مہم کا آغاز ہوا ملک کے مختلف شہروں میں ISIS کے حق میں وال چاکنگ اور نعرے لکھے نظر آئے۔ اس دوران ایسی خبریں بھی آئیں کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو بھرتی کرکے عراق اور شام بھیجا جارہا ہے۔ جس پر کئی جماعتیںتشویش کا اظہار کرچکی ہیں اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین داعش کو طالبان سے زیادہ خطرناک قرار دے چکے ہیں جس سے نمٹنے کے لئے انہوں نے گول میز کانفرنس بلانے کی تجویز پر بھی زور دیا ہے۔

تحریک طالبان کی داعش میں شمولیت اور داعش کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں یقینا لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کو جہاد کی غرض سے بیرون ملک جانے سے روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے اور ملک میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل قریب میں پاکستان بھی عراق اور شام کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہوجائے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند