تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشرقی پاکستان بنگلہ دیش اور دو سوال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 16 صفر 1436هـ - 9 دسمبر 2014م KSA 08:34 - GMT 05:34
مشرقی پاکستان بنگلہ دیش اور دو سوال

میرے سامنے ایک تصویر ہے۔ یہ تصویر ایک انگریزی اخبار میں چھپی ہے ۔ یہ تصویر ہم سے کچھ کہہ رہی ہے ۔یہ ڈھاکہ کی تصویر ہے۔ تصویر میں عورتیں اور لڑکیاں عورتوں پر تشدد کے عالمی دن پر جلوس نکال رہی ہیں۔جلوس ہماری خواتین بھی نکالتی ہیں۔ ہماری خواتین بھی اس موقع پر پولیس کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں ۔ تو پھر اس تصویر میں کیا خاص بات ہے ؟ یہ ہماری توجہ اپنی طرف کیوں کھینچ رہی ہے ؟ ہمارے لئے یہ تصویر اس لئے حیرت کا باعث ہے کہ اس میں لڑکیاں یا خواتین اسکوٹرپر سوار ہیں۔ انہوں نے سر پر ہیلمٹ اوڑھ رکھے ہیں اور نعرے لگا رہی ہیں ،وہ عورتوں پر تشدد کے خلاف نعرے ہی نہیں لگا رہی ہیں بلکہ اپنی خود مختاری کا اظہار بھی کر رہی ہیں ۔ یہ تصویر ،ہم سے سوال کر رہی ہے کہ اگر بنگلہ دیش آج بھی پاکستان کا حصہ ہو تا اور پاکستان میں وہی حالات ہوتے جو آج ہیں تو کیا وہاںکی لڑکیاں اور عورتیں اسی طرح اسکوٹروں پر اڑتی پھرتیں؟ کیا ان عورتوں کو اتنی آزادی ہوتی کہ وہ جو سواری چاہیں اپنے لئے چن لیں ؟ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی ہے۔ اگر مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ ہی ہو تا تو کیا ہماری لڑکیاں اور ہماری خواتین بھی اتنی ہی آزاد اور خود مختار نہ ہوتیں جیسے آج بنگلہ دیش کی مسلمان خواتین ہیں ؟

یہ پریشان کر دینے والے سوال ہیں ۔ مگر تاریخ میں یہی تو ہو تا ہے کہ اس قسم کے سوال کئے جاتے ہیں ۔ سوال کئے جاتے ہیں اپنے آپ کو ،اپنے معاشرے کو اور اپنے وقت کو سمجھنے کے لئے۔ یوں تو محاورہ یہ بھی ہے کہ جو مکا جنگ کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر ہی مارلینا چا ہئے ۔ چلئے،یہی سمجھ لیجیے کہ ہم اپنے منہ پر مکا ما ررہے ہیں ۔ لیکن یاد کیجیے کہ جب مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ تھا یا ہم مشرقی پاکستان کے ساتھ تھے تو ہمارا معاشرہ کتنا رنگا رنگ اور کتنا متنوع تھا ۔اب وہ سیاست ہو یاثقافت جب بھی ہماری بر سراقتدار اشرا فیہ کی طرف سے کو ئی حملہ ہو تا تو سب سے پہلی آواز مشرقی پاکستان سے ہی سنائی دیتی تھی۔ روشن خیال اور ترقی پسند طاقتیں اور جماعتیں مشرقی پاکستان سے ہی آکسیجن حا صل کرتی تھیں ۔آج جو سندھ اور پختونخوا کی چند ترقی پسند جماعتیں رہ گئی ہیں انہیں طاقت اور زبان مشرقی پاکستان سے ہی ملتی تھی۔ مشرقی پاکستان گیا ،اور یہ سب طبقے اور جماعتیں بے آسرا ہو گئیں ۔ میدان قدامت پسندوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ روشن خیال اور ترقی پسند طاقتیں پیچھے ہٹتی چلی گئیں ۔ اورآج وہ ایک محدود اور کمزور طبقے کی شکل میں ہی نظر آ رہی ہیں ۔

ہمارا معاشرہ جس مقام پر پہنچ گیا ہے اس کی ایک شکل ہمیںاپنی فاطمہ بھٹو کے اس افسانے میں نظر آ تی ہے جو برطانیہ کے مؤقر ادبی رسالے Granta میں چھپا ہے۔ یہ رسالے کا تازہ شمارہ ہے۔ افسانے کا عنوان ہے Blasphemy اس افسانے میں ہمارے معاشرے کی منافقت،ریاکاری، بد دیانتی اور خود غرضی کی سچی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ایک عیسائی کی دکان پر قبضہ جمانے کے لئے اس پر گستاخی کا الزام لگایا جا تا ہے اور دکان پر قبضہ کر لیا جاتا ہے ۔اب اس عیسائی کا کیا ہوا؟ فاطمہ بھٹو نے اسے بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ اور بتانے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ہم سب جانتے ہیں کہ اس صورت میں اس شخص کا کیا ہو تا ہے جس پر الزام لگایا جاتا ہے۔ اسے عدالت لے جانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی ۔

خود ہی فیصلہ کیا جا تا ہے اور خود ہی سزا دے دی جا تی ہے ۔محلے کے محلے اور گائوں کے گائوں نذر آتش کر دیئے جا تے ہیں ۔میاں بیوی کو اینٹوں کے بھٹے میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اور کسی کو پریشانی نہیں ہوتی ۔ قاتل خود اپنے جرم کا اعتراف کر لیتا ہے مگر کسی میں اتنی جرأت نہیں ہے اسے سزا دے سکے۔ قانون کی بات کون سنتا ہے ۔ ملتان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ قانون تو یہ کہتا ہے کہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا جا ئے اور وہاں اس کا جرم ثابت کیا جائے ۔ مگر یہاں اس وکیل کو ہی کھلے عام گولیوں سے بھون دیا گیا جو اس لیکچرر کی وکالت کر رہا تھا ۔ انسانی حقوق کے نڈر اور بے باک کارکن راشد رحمٰن خاں کو اس کے قاتلوں نے یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ عدالت میں جا کر ملزم کا موقف بیان کر سکے ۔ ایک اور بہادر وکیل نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کریہ مقدمہ عدالت میں لے جانے کی کوشش کی ہے تو اسے بھی قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ہم بند گلی میں آ گئے ہیں ۔ سامنے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے ۔کسی میں ہمت نہیں ہے کہ ان طاقتوں کے سامنے کھڑا ہو سکے ۔ جوتھوڑے بہت جی دار لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دے دیا جا تا ہے ۔عاصمہ جہانگیر سویڈن سے تودنیا کا وہ بہت ہی بڑا اعزاز حا صل کر تی ہیں جسے دوسرا نوبیل پرائز کہا جا تا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ انہیں مغربی طاقتوں کا ایجنٹ کہتا ہے ۔ ملالہ اس لئے امریکہ کی ایجنٹ بن گئی ہے کہ اس نے انتہا پسندوں کے ظلم و ستم کاپردہ چاک کیا تھا۔ اور وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو عمران خاں میں نئی دنیا اور نئے پاکستان کی جھلک نظر آ تی ہے۔اس لئے وہ آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ لیکن عمران خاں پاکستان کے لئے جس مستقبل کی نشان دہی کر رہے ہیں وہ ان جماعتوں اور ان طبقوں کے بتائے ہوئے مستقبل سے ذرا بھی مختلف نہیں ہے جو اس ملک کو آ گے لے جانے کے بجا ئے پیچھے لے جانا چا ہتے ہیں ۔عمران خاں کا نیا پاکستان بھی وہی قدامت پسندوں کا پاکستان ہے ۔

اسی لئے اگر ڈھاکہ کی تصویر دیکھ کر دل پر چو ٹ نہ پڑے تو اور کیا ہو۔ میں تصویر دیکھ رہا ہوں اور اپنے آپ سے سوال کر رہا ہوں کہ دوسرے مذاہب اور دوسری ثقافتوں کے لوگ ہمارا ملک چھوڑ کر کب بھاگنا شروع ہوئے؟ اور کیوں بھاگنا شروع ہوئے ؟ ہم کب رنگا رنگی اور تنوع چھوڑ کر یک رنگی اور یک رخے پن کا شکار ہو ئے؟ اور اس یک رخے پن نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ اور پھر وہی تصویر والا سوال۔ اگر مشرقی پاکستان ہمیں چھوڑ کر نہ جاتا۔ اور اگر ہم آج بھی ایک ہی ہوتے تو کیا ہم وہاں کھڑے ہوتے جہاں آج کھڑے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند