تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اصغر خان اور عمران خان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 17 صفر 1436هـ - 10 دسمبر 2014م KSA 09:29 - GMT 06:29
اصغر خان اور عمران خان

ائرمارشل ( ر ) اصغر خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار ہیں۔ 70ء کی دہائی میں بھٹو مخالف حلقہ میں ان کا جادو اس طرح ہی سر چڑھ کر بول رہا تھا، جس طرح کہ آج نواز شریف مخالف حلقہ میں عمران خان کا بول رہا ہے۔ اصغر خان اکل کھرے سیاست دان تھے۔ ایوب خان اور بھٹو کے خلاف ان کی دلیرانہ جدوجہد نے ان کی شخصیت میں ایسی دل کشی پیدا کر دی تھی کہ تبدیلی کا خواہشمند نوجوان طبقہ جوق در جوق تحریک استقلال میں شامل ہو رہا تھا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ 1970ء کے الیکشن میں اصغر خان کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور ان کی پارٹی ایک نشست جیتنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکی تھی، مگر اس کے باوجود ان کی کرشماتی شخصیت اور حوصلہ مند قیادت کا سحر بدستور قائم تھا۔ وجہ اس کی یقیناً یہ تھی کہ بھٹو دور میں جو اکا دکا سیاست دان بھٹو کی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ سے قطعاً مرعوب نہ ہو ئے، اور ان کے خلاف ڈٹ گئے، ان میں ائرمارشل (ر) اصغر خان سرفہرست تھے۔ اتفاق ملاحظہ کیجیے کہ اصغر خان نے جو پہلی پارٹی بنائی، اس کا نام ’جسٹس پارٹی‘ ، یعنی ’انصاف پارٹی‘ تھا؛ یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا تو اسے ’پاکستان تحریک استقلال‘ یعنی ’ پی ٹی آئی‘ میں تبدیل کر دیا۔ یہ نعرہ کہ ’’کون بچائے گا پاکستان، عمران خان، عمران خان‘‘؛ یہ نعرہ بھی پہلی بار اصغر خان کے لیے بلند ہوا کہ ’’کون بچائے گا پاکستان، اصغر خان، اصغر خان‘‘ ۔

بھٹو دور کی پارلیمنٹ میں تحریک استقلال کی کوئی نمایندگی نہ تھی، لیکن اس کے باوجود بطور اپوزیشن پارٹی اس کا وجود بھٹو کے لیے ناقابل برداشت تھا، چونکہ بھٹو مخالف حلقہ میں اگر کسی سیاستدان کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی تھی تو وہ اصغر خان تھے۔ اپوزیشن کے متحدہ محاذ میں اگرچہ پیر پگاڑا، مفتی محمود، نواب زادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، میاں طفیل محمد اور ظہور الٰہی جیسے جغادری سیاستدان موجود تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی بھٹو کی ٹکر کا نہیں تھا۔ اصغر خان کا مسئلہ مگر یہ تھا کہ وہ نرگسیت کا شکار تھے۔

اپنے سوا کوئی دوسرا، ان کو نظر ہی نہیں آتا تھا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد اپوزیشن کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں نے بھٹو کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرنے کے لیے اسلام آباد میں اجلاس طلب کیا، تو اصغرخان نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ کہا کہ ابھی بھٹو حکومت کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرنے کا وقت نہیں آیا۔ یہ اندیشہ بھی ان کو تھا کہ اس مرحلہ پر اپوزیشن محاذ میں شامل ہونے سے ان کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔

الیکشن سر پر آ گئے تو متحدہ محاذ نے پھر اصغر خان سے رابطہ قائم کیا اور گزارش کی کہ ان کی سولو فلائیٹ کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے۔ مناسب یہی ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں اپوزیشن کا بھی ایک ہی امیدوار ہو۔ اصغر خان سمجھ گئے اور راضی بھی ہو گئے، لیکن اب انھوں نے دوسرا مطالبہ داغ دیا کہ الیکشن میں تحریک استقلال اور جے یو پی کو انتخابی ٹکٹوں کا 60 فی صد کوٹہ دیا جائے گا، جسے بعد میں باہمی طور پر تقسیم کر لیں گے۔

صاف ظاہر تھا کہ اصغر خان بہت اونچا اڑ رہے ہیں۔ ان کی یہ خواہش بھی ڈھکی چھپی نہ تھی کہ حقیقتاً وہی اپوزیشن اتحاد کی قیادت کے حقدار ہیں۔ بہرحال الیکشن کے دنوں میں یہ اصغر خان تھے، جن کی جارحانہ انتخابی تقریروں نے جہاں بھٹو کے رعب و دبدبہ کو قریب قریب ختم کر دیا، وہاں بھٹو مخالف حلقوں کو اس اعتماد سے سرشار کیے رکھا کہ اصغر خان کی صورت میں ان کے پاس اگلا ’’وزیراعظم‘‘ موجود ہے۔ اصغر خان کی ملک گیر مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ باوجود بدترین انتخابی دھاندلی کے، وہ ایبٹ آباد کے علاوہ کراچی سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت گئے۔ کیونکہ اصغر خان جانتے تھے، وہی بھٹو کے متبادل ہو سکتے ہیں، لہذا وہ فوری اور ہر قیمت پر بھٹو سے نجات چاہتے تھے۔

قومی اتحاد کی تحریک کے دوران، انھوں نے فوج کو جو خط لکھا، اس میں ظاہراً تو یہ کہا گیا کہ فوجی حکام بھٹو حکومت کے غیر قانونی احکامات کی تعمیل نہ کریں، لیکن بین السطور پیغام یہ تھا کہ فوج مداخلت کر کے بھٹو حکومت کا خاتمہ کر دے۔ اس طرح جولائی کے آخر میں، جب قومی اتحاد کے رہنماوں اور بھٹو حکومت کے درمیان معاملات طے پا گئے تو اصغر خان نے مان کر نہ دیا اور کہا کہ بھٹو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ غالباً اصغر خان سمجھتے تھے کہ فوج آ گئی توبھٹو کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کا امکان بالکل ختم، اور ان کے وزیر اعظم بننے کا راستہ مزید صاف ہو جائے گا۔

چنانچہ 5 جولائی کو جب فوج واقعتاً آ گئی تو وہ قطعاً فکرمند نہ تھے، بلکہ انھوں نے آیندہ عام انتخابات کے لیے زور و شور سے تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ اتنے پراعتماد نظر آتے تھے کہ 8 نومبر کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے 11 روزہ دورہ سے واپس آئے، اور 11 نومبر کو قومی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ بھٹو حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ایجی ٹیشن اگر کامیاب ہوئی ہے، تو صرف ان کی وجہ سے کامیاب ہوئی ہے؛ لیکن اب جب کہ بھٹو حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور نئی حکومت بننے جا رہی ہے، وہ قومی اتحاد کے رجعت پرست نظریات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

پھر یہ کہ بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد ان کو اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کی ضرورت نہیں، کہ ان کی پاکستان تحریک استقلال (پی ٹی آئی) تن تنہا ہی آیندہ الیکشن جیت سکتی ہے اور حکومت بنا سکتی ہے۔ تحریک استقلال کی علیحدگی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی جے یو پی بھی اپوزیشن اتحاد سے الگ ہو گئی۔ بھٹو مخالف اپوزیشن اتحاد کے حصے بخرے ہو گئے، تو الیکشن بھی ملتوی ہو گئے۔ اصغر خان کی سولو فلائیٹ سے جہاں اپوزیشن اتحاد غیر موثر ہو کر رہ گیا، وہاں ان کی طاقت بھی کم ہو گئی، اور بھٹو کے بعد ان کے وزیر اعظم بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ اصغر خان، پاکستان کی قومی سیاست کا بہت بیش قیمت اثاثہ تھے، لیکن افسوس کہ ضرورت سے زیادہ اعتماد اور تنہا پرواز کے شوق فضول کی بھینٹ چڑھ گئے۔

عمران خان اگر سیکھنا چاہیں، تو اصغرخان کی کہانی سے کم ازکم دو سبق ضرور سیکھ سکتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ عمران خان کو سمجھنا ہو گا، نواز حکومت کا مقابلہ وہ ’نواز مخالف پارٹیوں‘ سے مل کے ہی کر سکتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان کو سولو فلائیٹ کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ یہ ان کی سولو فلائیٹ کا نتیجہ ہے کہ 30 نومبر کو ان پارٹیوں نے بھی ان کے جلسہ میں شرکت نہیں کی، جو الیکشن میں دھاندلی پر ان کے موقف سے سو فی صد متفق ہیں۔

اصغر خان، وزیراعظم بننے سے پہلے ہی سولو فلائیٹ کر گئے، اپنے آپ کو اپوزیشن اتحاد سے الگ کر لیا، نتیجتاً بعد کو پیپلزپارٹی ہی نہیں، قومی اتحاد کی قیادت بھی جذبہ ء رقابت سے مغلوب ہو کر ان کے وزیراعظم کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ اصغر خان اور ان کی پی ٹی آئی (پاکستان تحریک استقلال) تاریخ کا حصہ بن چکے۔ عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) تاریخ کے لمحہ ء موجود میں روبہ عمل ہیں۔ جیسا کہ ہر کہانی کے آخر میں اس کا moral لکھا ہوتا ہے، اصغر خان کی کہانی کا moral یہ ہے کہ راست بازی اور خلوص اپنی جگہ، لیکن سیاست میں بہتر کامیابی اس ہی کو ملتی ہے ، جو بہتر حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان، اصغر خان کی کہانی کو پڑھتے، سمجھتے اور اس سے کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند