تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تاریک راہ کے رہنما
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 17 صفر 1436هـ - 10 دسمبر 2014م KSA 09:23 - GMT 06:23
تاریک راہ کے رہنما

وطن عزیز کے سیاستدان ایک ہی سچ بولتے ہیں کہ ’’مخالف سیاستدان جھوٹ بول رہا ہے‘‘۔ تعلیم یافتہ طبقہ کی موجودہ نظام سے کراہیت، بیزاری نے تبدیلی کا کاروبار خوب پروان چڑھارکھا ہے ۔ قومی بدقسمتی کہ آج مقابلہ اچھائی اور برائی میںنہیں بلکہ ’’بد‘‘ اور ’’بدترین‘‘ کے درمیان۔ قسمت کی مزید ستم ظریقی کہ بد اور بدترین ،تمام رہنمائوں کے اجزائے ترکیبی اوران کی ملکیتی پارٹیوں میں مماثلت حیرت انگیز۔ قیافہ شناسی (Mind Set) میں مشابہت،یکساں شخصی اصولوں پر استوار سیاسی پارٹیوں سے زیادہ ایک مسلک، شخصیت پرستی رہنماء اصول ، نظریاتی طور پر بانجھ، نیم پختہ ذہن کل اثاثہ، منصوبہ بندی و ارادہ و مقصد سے عاری، عوام الناس کے مسائل سے تساہل کی سہولت موجود، اقتدار کی حرص اوڑھنا بچھونا، خوشامدی و چاپلوس وجرائم پیشہ و ابن الوقت وخانہ بدوشوں کی جھرمٹ چاروں اطراف، شاہانہ طور طریقے اور امیرانہ ٹھاٹ باٹ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر، اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لئے حقارت، دوغلاپن اور منافقت سونے پر سہاگہ ۔

یہ کیسے مان لیا جائے کہ ایک ہی طرح کا رویہ رکھنے والے، ایک دوسرے پر منطبق آنے والے رہنماء اور انکے نیچے پروان چڑھنے والی سیاسی جماعتیں مختلف نتائج دے سکتی ہیں، ہرگز ممکن نہیں۔

چار صوبوں میں چار مختلف حکومتیں ، تھوڑی جمع تفریق کے ساتھ ایک ہی طرح کے نتائج برآمد ہونا، اچھنبے کی بات نہیں۔ آج اگر حکومتِ وقت طعن وتشنیع کی زد میں جبکہ اپوزیشن جھوٹ فراڈ، دھوکے کا بازار بسا چکی تو حیران ہونے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ پچھلے 67 سالہ ملکی تاریخ کے اندر حکومت اوراپوزیشن کھیل یہی کچھ ہر پارٹی میں اللہ کے ماننے والے اور خوف خدا والے معدودے چند موجود، تشویش اتنی کہ ایسے لوگ اپنے اپنے قائدین کے ’’اوصافِ حمیدہ‘‘ سے بخوبی واقف ان کو برگزیدہ اور نجیب الطرفین ثابت کرنے پرپارٹی کے گشتی سفیر کا رتبہ پا چکے۔

یہ ایک سچ ہے کہ 13 مئی 2013ء کے الیکشن ، 2008ء کے الیکشن سے بہتر،جبکہ 2008ء کے 2002ء سے بہتر،.... یقیناً 1970ء کے الیکشن ملکی تاریخ کے دھاندلی زدہ انتخابات، جس میں دھاندلی کی ہر طرح کی گنجائش موجود رہی۔ جہالت، جو کہ ہمیشہ سے نعمت غیر مترقبہ اور احمقوں کا طرہ امتیاز بلکہ سرمایہ عظیم، کا شاخسانہ ہی کہ 1970ء کے انتخابات کو ملکی تاریخ کے شفاف انتخابات کا درجہ حاصل ہو چکا۔ جو لیڈر 16 دسمبر 1971ء کے بدقسمت دن سے واقف نہ ہو اس کا 1970ء کے انتخابات کو کلین چٹ دینا اور 2013ء کو ملک کی تاریخ کا بدترین انتخابات قرار دینا اگر کینہ، بغض، عناد کی شدت یا افترا پردازی نہیں تو جہالت ، نالائقی اور ہٹ دھرمی کا نادر نمونہ ضرور ہے۔البتہ یہ بھی مبالغہ اگر 2013ء کے انتخابات کوپاک شفاف کہا جائے۔

چند دن پہلے ہی بھکر (دریا خان) میں انعام اللہ خان بدترین انتخابی پولنگ ڈے دھاندلی سے نبرد آزماء رہے،تجربہ تازہ بہ تازہ۔ جس ملک میں اکثر لوگ کردار کی نچلی سطح کو چھو چکے ہوں، افراد ،ماننداجناس منڈیوں میں بکیں، وہاں پر سب کچھ ممکن۔ جہانگیر ترین صاحب خزانوں کے منہ نہ کھولتے تو لودھراں میں ضمانت ضبط رہتی،جبکہ حالیہ ضمنی انتخاب میں بھکر سے نوانی 15 ہزار ووٹوں کے فرق سے انعام اللہ خان سے ہارتا۔

1978ء کی تحریک نظامِ مصطفی ایک چیز نقش کر گئی کہ لاشے ایک بے رحم پہلو ضرور مگر تحریکوں کا چارہ بھی۔ چنانچہ 9 اپریل 1977ء کا خونی دن نہ آتا تو تحریک دم توڑ جاتی۔ چند ماہ پہلے حکومت پنجاب کا ماڈل ٹائون میں احمقانہ اور سفاکانہ آپریشن درجن سے زیادہ افراد کی موت پر منتج ہوا۔ معصوم افراد کی اموات سے پورا ملک غم اور غصے سے دوچار رہا۔ حکومت وقت پر لعن طعن کے ڈونگرے برسنا ایک فطری ردعمل تھا۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ بدقسمت اموات طاہر القادری کی سیاست کوچار چاند لگا گئیں،شہباز حکومت کی چولیں ہلا دیں۔

عمران خان نے جب احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تو دن دیہاڑے لاشوں کی خواہش رکھنا،ضرورت سے زیادہ توقع کہ نواز حکومت ماڈل ٹائون والی حرکت دہرائے گی، شاید سیاست کا دال دلیا بن جائے۔ اگر مارچ شروع کرنے سے آج تک کے بیانات اور حرکات وسکنات کو یکجا کیا جائے تو ایک ہی چیز آشکار رہے گی کہ لاشوں کی خواہش امڈامڈ کر آشکار رہی۔چنانچہ فیصل آباد کا دن اس لحاظ سے کامیاب کہ لاش کا ملنا ’’ڈنگ ٹپانے‘‘ کے لئے برا نہیں۔

ہوا ہے خون کی چھینٹوں سے پیرہن گلزار
تیرے شہید کا لاشہ بہار سے اٹھا

نہیں معلوم آج جب رانا ثناء اللہ معصوم جان کے قاتل کو پکڑ کر میڈیا اور قوم کے سامنے پیش کریں گے تو یہ قتل کیا رنگ بکھیر جائے گا؟ حقیقت اٹل ،عمران خان کو حق نواز کی موت کا شدید قلق رہا،اعادہ کیاکہ ’’قربانی رائیگاں نہیں جائیگی‘‘ البتہ شاہ محمود قریشی کا غم میں نڈھال ہونا سمجھ میں نہ آیا۔ اس سے پہلے ملتان کے تاریخی جلسے میں7 قیمتی معصوم جانوں کالائیو شو میں سسک سسک کر دم توڑنا،یہی تو راسخ کر گیا۔ نیم مردہ لوگوں کو سٹیج تک پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنا دی گئی ۔شقاوت ہی کہ عمران خان کی تقریر ڈسٹرب نہ ہو۔

لواحقین کا 7 افراد کی ہلاکت کا مدعا شاہ محمود قریشی پر ڈالنا اور اگلے دن جنازے میں شرکت سے روکنا،شرم نہ آئی۔اس پر مستزاد چیئرمین صاحب کا 7لاشوں سے بے اعتنائی برتنا اور موقع سے راہ فرار اختیار کرکے ائیرپورٹ سدھارنا، پھر چند گھنٹے بعد جلد ازجلد ملتان سے رفوچکر ہونا اچھنبے کی بات اس لئے نہیں کہ خان صاحب اس سے پہلے بھی لاشیں چھوڑ کر فرارہونے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ جنازہ پڑھنے سے اجتناب ہی اصل شعار، چنانچہ آج جب حق نواز کا جنازہ پڑھایا گیا تو مجال جائے کہ ایک بھی قومی رہنماء حصہ بن پاتا۔

افسوس کہ پلان سی کا آغاز ہو چکا، جس میں ہمیشہ سے پرتشدد واقعات کا قوی امکان موجود تھا۔ ہر دفعہ جب بھی شٹر ڈائون ، ٹرانسپورٹ ، کاروبار، تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا، شاہ محمود قریشی کی منافقانہ وضاحت ساتھ کہ ’’ ہم زبردستی بند نہیں کروائیں گے، چند سڑکوں پر پرامن احتجاج رہے گا‘‘۔

بدقسمتی ہی کہ چیئرمین صاحب کے لہجے کی سختی اور مصاحب خاص شیخ رشید کی اشتعال انگیزی جلائو گھیرائو ، توڑ پھوڑ، مارو، مرجائو کا راستہ دکھاتی رہی۔1977ء میں قومی اتحاد کی تحریک میں تمام رہنما سب سے پہلے جیل گئے، ڈنڈے کھائے۔ گریٹ جاوید ہاشمی کی مثال کہ ہر تحریک میں جسمانی اذیت طرہ امتیاز رہی،1977ء میں قلعہ لاہور کی اذیت شاید ابھی بھی تروتازہ ہو۔ یہ کیسی پارٹی اور کیسا احتجاج کہ ایک بھی قابل ذکر لیڈرایسا نہیں جس نے ایک رات بھی دھرنے میں حشرات الارض کے ساتھ گزاری ہو۔ کسی بھی چڑھائی میں ہر اول دستہ بننا دور کی بات۔

سارے قائدین تمام دن پرتعیش محلات، 5اسٹار ہوٹلوں، حکومتی آماجگائوں میں لمبی تان کر سوئے، سہ پہر کو کپڑے بدل کر ،بال سنوار کر عوام کو ان کے حقوق اورکرپشن، ظلم و جبرسے آراستہ پیراستہ استحصالی نظام سے نجات دلوانے کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہانا نہ بھولے۔ چونکہ حکومت تشدد سے پہلوتہی کرتی رہی،پلان سی کا نافذ کرنا بنتا تھا۔ مقصد حکومتی کارکنوں کی دکانوں، کاروبار، سکولوں تک پہنچناکہ باہمی ٹکرائو سے لاشیں ملنے کا امکان زیادہ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمران خان یہ چوائس مقامی لوگوں کو دیتے تاکہ وہ لٹھ بردار فورس کی غیر موجودگی میں عمداَ کاروبار زندگی بند رکھتے۔ کون کاروباری ہوگا جو ڈنڈوں اور تصادم کے سائے میں اپنا کاروبار کھلا رکھے گا۔بفرض محال میں پلان سی سے متفق نہیں مگر ڈنڈا، دھونس، دھاندلی کی موجودگی میں کاروبار بند رکھنے میں عافیت ڈھونڈوں گا۔ کاش یہ چوائس فیصل آباد کے شہریوں پر چھوڑ دی جاتی۔ ’’ میں خود جا کر بند کرائوں‘‘ کی لوری نہ سنائی جاتی۔اس طرح خان صاحب کو اپنی حمایت کا بخوبی اندازہ ہو پاتا۔

سوموار، صبح 9 بجے ٹی وی کی خبروں پر نظر ڈالی ، فیصل آباد میں معمول سے کم ریل پیل نظر آئی مگر معمولات زندگی بھرپور نظرآئے۔پونے دس بجے کے قریب ملت چوک پرایک جیپ اور دو گاڑیوں میں درجن بھر ڈنڈا بردار آناَ فاناَ نمودار ہوئے، ٹائر گاڑیوں سے نکال باہر، سڑکوں پر ڈالے، آگ لگائی اور پھر گردونواح میں کاروبار زندگی جبراَ معطل کرایا۔اس کے بعد سارے دن کے واقعات ایسے ہی واقعہ کا تسلسل رہے، دوسری طرف ن لیگ بھی فائول پلے کا جواب فائول پلے دینے پر تیارنظر آئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ پھر بھی بچت رہی صرف ایک انسانی جان ایک شرپسند کے پستول کی زدمیں آکر ضائع ہوئی ،جبکہ شنیددوسری جان ٹائر کو آگ لگاتے جل کر بھسم ہوئی۔بہرحال PTI کی ساڑھے تین ماہ کی محنت بارآور، کچھ نہ کچھ ثمر مل ہی گیا۔سب سے گھنائونا عمل جیو کی خاتون اینکر اور دوسرے رپورٹرز کو ہراساں کرنا اور گالم گلوچ سے نوازنا، ان کی گاڑی پر نازیبا الفاظ لکھنا تھا۔ بقول جسٹس وجیہہ الدین’’ جیونیوز کی اینکر خاتون اور دوسرے رپورٹرز پر حملے تشدد کی بدترین مثال رہے‘‘۔

کیا کوئی عمران خان کو بتا پائے گا کہ آپ کا پلان سی ، حکومت کی بجائے عوام الناس اور پاکستان کے متوسط اورغریب دیہاڑی دار مزدوروں کو آڑے ہاتھوں لینے کی مذموم کوشش ہی تھی، آخر کو عوام نے آپ کا بگاڑا کیا ہے؟

دنیا کروٹ لے رہی ہے ۔چین اور روس کا اتحاد ایک نئی دنیا تشکیل دینے کو، ہماری خوش قسمتی کہ چین اور پاکستان لازم ملزوم۔ اگلے چند سالوں میں چین اور روس مل کر 100 بلین ڈالر کی پاکستان میںسرمایہ کاری کریںتوپریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ حکمران اگر نواز شریف کی بجائے اور بھی ہوتا تو پھربھی پاکستان کو آسمان چھونے میں کوئی نہیں روک سکتاتھا، کہ پاکستان کا ستارہ چمک اٹھنے کو ۔ان حالات میں کچھ ماہ پہلے چند افراد کا لندن اکھٹے ہو کر یہ پلان بنانا کہ اگر نواز شریف کو 5 سال مل گئے، بجلی کا مسئلہ حل ہو گیا، دولت کثیر تعداد میں پیدا ہوگئی، چین کی مختلف مدوں میں سرمایہ کاری روزگار کے مواقع فراہم کرگئی ،تیل کی گرتی ہوئی قیمت درآمدات کا بل کم کرنے کے ساتھ اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی کم کر گئی تو نواز شریف کی حکومت کو ہٹانا ممکن نہ ہوگا۔

پاکستان کو انارکی اور افراتفری میںاس لئے دھکیل دیا جائے کہ اس ہونے والے معجزہ سے حکومت وقت مستفید نہ ہوپائے۔ یقینا کئی طاقتیں پاکستان میںایسے حالات دیکھنے کی متمنی ہوں گی، اپنے محترم رہنمائوں سے ہر گزایسی توقع نہیں ہوسکتی تھی۔ ملک دشمنوں کا ایجنڈا تو ہو سکتا ہے، سجنوں، دوستوں، خیر خواہوں کا ہرگز نہیںہونا چاہئے۔اے میرے قومی رہنمائوں رونے کی بجائے ، صبروشکر کرو، اپنے سارے پلان اللہ کے پلان کے تابع لانا ہوں گے کہ بالآخرپلان اللہ کا ہی کامیاب ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند