تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بانکی مون کی مسئلہ کشمیر کیلئے مدد؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 14 ربیع الثانی 1442هـ - 30 نومبر 2020م
آخری اشاعت: پیر 22 صفر 1436هـ - 15 دسمبر 2014م KSA 09:36 - GMT 06:36
بانکی مون کی مسئلہ کشمیر کیلئے مدد؟

وزیراعظم کے ایڈوائزر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اکتوبر 2014ء میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو خط لکھا تھا جس میں ورکنگ باؤنڈری پر بدستور کشیدہ صورتحال پر انہیں آگاہ کیا تھا۔ اس خط میں جہاں بھارت کی طرف سے مسلسل سرحد کے پار گولہ باری اور فائرنگ کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس خط میں سرتاج عزیز نے بانکی مون کو درخواست کی تھی کہ وہ بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزی کو مؤثر طور پر بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کوشش کریں۔ اس خط کے جواب میں بانکی مون نے کہا ہے کہ وہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کے حل کے لئے ثالثی کے لئے بھی تیار ہیں۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے اعتبار سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

جس کا جلد اور پائیدار حل خطے میں امن کی کوششوں کے لئے ضروری ہے۔ اس موقع پر بانکی مون نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت میں جموں اور کشمیر کے لوگوں کی بھی شمولیت ہونی چاہیے جو کہ ایک خوش آئند اور مثبت بات ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان بات چیت میں کشمیریوں کی شمولیت کے حق میں رہا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کی تجویز کو سراہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف مسائل بشمول کشمیرپر اس وقت مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اگست 2014ء میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہونے جا رہے تھے تو اس سے قبل پاکستانی ہائی کمشنر نے دہلی میں کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی تھی تاکہ ان کے مؤقف کے بارے میں بھی معلوم کیا جاسکے۔ لیکن اسی بنیاد پر بھارت نے آئندہ ہونے والے مذاکرات کو ختم کر دیا تھا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری رہنماؤں سے مذاکرات سے قبل ملاقات کیوں کی۔

اس طرح بان کی مون نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی کہ بات چیت میں کشمیریوں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف بھارت اس قدر غیرسنجیدہ ہے کہ اس نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات پر مذاکرات ہی ختم کردیئے۔ بھارت کا یہ مؤقف تھا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ ہے۔ اگرچہ یہ دو طرفہ مسئلہ ضرور ہے لیکن اس سے پہلے یہ بین الاقوامی مسئلہ بھی ہے۔

اسی لئے تو یہ اقوام متحدہ میں موجود ہے۔ اس مسئلہ کو خود بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس پر کشمیریوں کا استصواب رائے ہونا ضروری ہے لیکن بھارت نے مختلف حیلے بہانوں سے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر عمل نہیں ہونے دیا اور کشمیری آج تک اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیر میں بھارتیوں کی انسانیت سوز پالیسیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا صدائے احتجاج بلند کی لیکن بھارت اس غیرقانونی تسلط کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہے بلکہ اب تو بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جو کسی صورت نہ تو کشمیریوں کو قابل قبول ہے اور نہ ہی پاکستان اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام مسائل پر بارہا گفتگو ہوئی لیکن اس کا نتیجہ اس لئے نہ نکل سکا کہ بھارت نے اس پر ایک خاص پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہمیشہ تعطل کا شکار ہوتی رہی۔ بہرحال پاکستان نے سیکرٹری جنرل کے اس جذبے کی خصوصی طور پر تعریف کی ہے پاکستان آج بھی بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جہاں باضابطہ مذاکرات کا دروازہ بند ہے وہاں پس پردہ مذاکرات جاری رہتے ہیں۔ اگرچہ ان مذاکرات میں حکومتی نمائندے نہیں ہوتے لیکن دونوں ممالک سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اکٹھے ہو کر ان مسائل کے حل تلاش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن آج تک ان مذاکرات کا بھی سرکاری مذاکرات جیسا حشر ہوتا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں بھی بھارتی مندوبین حکومتی پوزیشن پر اٹکے رہتے ہیں۔ ان مذاکرات کا دور حال ہی میں 8 سے 9 دسمیر 2014ء کو ہوا ہے۔ یہ مذاکرات کا 15 واں دور ہے۔ ان مذاکرات کا انعقاد جناح انسٹیٹیوٹ اور آسٹریلیا انڈیا انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے تھائی لینڈ کے شہر کرابی میں ہوا۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت شیری رحمان اور بھارتی وفد کی قیادت پروفیسر امیتابھ مٹو نے کی۔

ان وفود میں دونوں طرف سے ماہرین سیاسیات، ریٹائرڈ سول آفیسرز، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین امور خارجہ اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ ان مذاکرات کے اختتام پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’لائن آف کنٹرول کے ساتھ اس وقت تک امن ممکن نہیں ہے جب تک دونوں طرف سے سیاسی ہم آہنگی نہ ہو۔ اس کے ساتھ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ریاستیں نیک نیتی کے ساتھ گفتگو کے ذریعے لائن آف کنٹرول کی باضابطہ طور پر سرحد ماننے کا معاہدہ کر لیں‘‘۔ ان مذاکرات کا لب لباب یہ ہے کہ دونوں افواج اس وقت جس مقام پر جنگ بندی کیے ہوئے ہیں اس کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے۔ اس قسم کی تجاویز پہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ہی حل کیا جائے اور کوئی بھی ایسا حل پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں ہے جس میں خود کشمیریوں کی رضامندی شامل نہ ہو۔ اگر جنگ بندی کی لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے تو اس سے کشمیر تقسیم ہوگا اور کشمیرکی تقسیم کشمیریوں کے لئے قابل قبول نہیں اور جو حل کشمیریوں کو قابل قبول نہیں وہ پاکستان بھی قبول نہیں کرے گا۔ اگرچہ مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور دیگر تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا لیکن وہ تمام چیزیں اور معاملات کسی صورت آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جب تک کہ بنیادی مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے مسائل موجود ہیں جو کہ بھارت معاہدوں سے ہٹ کر پانی کا استعمال عمل میں لایا ہے۔ سیاچن اور سرکریک بھی ان مسائل میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی طرز کے یہ مذاکرات کافی مدت سے چل رہے ہیں۔ ان کا آغاز 2008ء میں کیا گیا تھا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہے جسے اقوام متحدہ بھی ابھی تک حل نہیں کرا سکی۔

دنیا کی بڑی طاقتیں بھی بسیار کوشش کے باوجود حل نہیں کرا سکیں۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی کوششوں کو جہاں سراہا جاتا ہے وہاں اتنے مشکل مسائل میں ان کے لئے حل ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ٹریک ٹو کے مذاکرات کا بھی یہ المیہ ہے کہ اس میں پاکستان کے لوگ تو شامل ہوتے ہیں بھارت سے لوگ تو شامل ہوتے ہیں لیکن کشمیریوں کو نمائندگی نہیں دی جاتی اور اگر ان ٹریک ٹو مذاکرات میں بھی کشمیریوں کی نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا تو بھارت کے نمائندے یقیناً شرکت سے انکار کر دیں گے۔ ایسے حالات میں حکومتوں کے سرکاری طور پر مذاکرات ہوں یا ٹریک ٹو پس پردہ غیرسرکاری مذاکرات، ان کی کامیابی پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گا۔ ان مذاکرات کے منطقی انجام تک نہ پہنچنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ کشمیریوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اس حوالے سے بانکی مون کی تجویز حالات کے مطابق، حقائق پر مبنی اور وقت کی ضرورت ہے۔ اسی لئے پاکستان نے ان کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کی ثالثی کو بھی قبول کیا ہے اور ان سے مدد بھی طلب کی ہے لیکن موجودہ حالات میں خود اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ بن کر رہ گیا ہے جہاں رسمی اور کاغذی کارروائی ہوتی ہے۔ جہاں بڑی طاقتوں کے فیصلوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے اگرچہ یہ ادارہ کمزور قوموں اور ملکوں کے تحفظ کی خاطر تشکیل دیا گیا تھا لیکن اب بڑی طاقتوں کے مقاصد کے حصول کی حد تک کام کرتا ہے۔ اسی لئے کشمیر کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ شاید اقوام متحدہ مستقبل میں بھی کوئی کردار ادا نہ کر سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند