تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میدان سیاست یا پانی پت کا میدان جنگ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 29 صفر 1436هـ - 22 دسمبر 2014م KSA 07:56 - GMT 04:56
میدان سیاست یا پانی پت کا میدان جنگ

ہے تو یہ خوشخبری کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے بیان بازی کی جنگ میں سیز فائر کا اعلان کر دیا ہے۔ اب یہ تو سیز فائر کا اعلان کرنیوالے لیڈر ہی بہتر جانتے ہیں کہ یہ سیز فائر عبوری دورانیہ کیلئے ہے یا طویل دورانیہ کیلئے۔ کتنا بھیانک منظر نامہ تھا کہ کل تک دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا کی فصیلوں پر الزام سازی کی توپیں رکھے اندھا دھند چاند ماری اور گولہ باری میں مصروف تھے۔ دانا و بینا خیر خواہانِ سیاست سیاستدانوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ خدارا میدان سیاست کوپانی پت کا میدان جنگ نہ بناؤ۔ شکر ہے میدان سیاست پانی پت کا میدانِ جنگ بننے سے بال بال بچ گیا۔ چلیں! کچھ عرصہ ہی کیلئے سہی جنگِ بیان بازی توختم ہونے کا اعلان ہوا۔ شکر ہے کہ اس جنگ کے خاتمہ کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین کی امداد حاصل نہیں کی گئی۔

عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ سیز فائر مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں ہو سکتا۔ دونوں جماعتوں کے قائدین کو اس پر غور کرنا چاہئے اور اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ یہ دکھائی نہ دینے والی ’’بی جمالو ‘‘کو ن ہے جو اتحادی سیاست کے بھس میں چپکے سے چنگاری رکھ کر غائب ہو جاتی ہے اور جب شعلے بھڑ کتے ہیں تو دور کھڑی اس بی جمالو کے دل میں لڈو پھو ٹتے ہیں کہ اُس کی محنت رنگ لائی، اُسے جو ٹاسک دیا گیا تھا وہ اُس نے بام تکمیل تک پہنچایا۔

یہ غیر مرئی بی جمالو ایجنسیوں کے مریخ پر نہیں پائی جاتی بلکہ یہ سیاسی جماعتوں کے اندر ہی فیصلہ ساز قائدین کے آس پاس پرچھائیوں اور سایوں کی طرح منڈلاتی رہتی ہے اور اتنی خاموشی سے کارروائی ڈالتی ہے کہ قائدین کے فرشتوں تک کو بھی خبر نہیں ہونے دیتی۔ دو میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو ہماری سیاسی جماعتوں کے قائد اعلیٰ درجہ کے بھولے بادشاہ ہیں یا مسائل و معاملات کا کامل ادراک رکھنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ یہ تو غنیمت ہے کہ دونوں جماعتوں میں چند ایسی دیدہ ور شخصیات موجود ہیں، جو بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ جنہیں ڈیڈ لاک کو ان لاک کرنے کا فن آتا ہے۔ اگر جماعتوں میں ان شخصیات کو اُن کے قد کاٹھ کے مطابق قدر و منزلت دی جائے تو آئے روز یہ جو فری سٹائل سیاسی دنگل کا منظر نامہ جنم لیتا ہے، اسے آنکھیں کھولنے کا موقع نہ مل سکے۔

یادش بخیر! پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں کے مابین 4 جولائی 2006ء کو لنڈن میں رحمن ملک صاحب کی رہائش گاہ پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ بعد ازاں میثاق جمہوریت کے عنوان سے پاکستان میں ایک نئے اسلوب سیاست کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ محترمہ بینظیر بھٹو اور محترم میاں محمد نواز شریف نے انتہائی دانشمندی اور مستقبل بینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس امر کا عزم کیا تھا کہ اب وہ میدان سیاست میں ماضی کی منفی اور تاریک روایات کو پنپنے کا موقع نہیں دیں گے اور اُن قوتوں کا آلہ کار نہیں بنیں گے، جو سیاستدانوں کو آپس میں لڑا اور بھڑوا کر اُن کی ہمالیائی طاقت کو رائی کے دانے سے بھی کمزور بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہائی کمان سر جوڑکر بیٹھے اور نئے سال کے آغاز سے قبل میثاق تحفظ پاکستان پر دستخط کریں۔

میثاق تحفظ پاکستان کا افشردہ و عصارہ اورلُبِّ لباب یہ ہو کہ فریقین کرپشن کی بیخ کنی کے لئے متحد ہیں اور دونوں جماعتوں کے جن قائدین پر کرپشن گردی اور کمیشن خوری کے الزام ہیں، وہ رضاکارانہ لوٹی ہوئی قومی دولت قومی خزانے میں بلا تاخیر جمع کر انے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔۔۔اور۔۔۔ اپنی اپنی جماعتوں کے کرپشن کپوروں اور کمیشن داسوں کو جماعتوں سے نکال باہر کریں گے۔اس کے بعد لازم ہوگا کہ دونوں جماعتیں کرپشن کی روک تھام کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کے یک نکاتی ایجنڈے پر مل کر کام کریں،باقی سیاسی معاملات پر ایک دوسرے سے اصولی مؤقف پر قائم رہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میثاق جمہوریت کی بری مثال فرینڈلی اپوزیشن پر عمل پیرا نہ ہو اور عمران خان حقیقی قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہیں۔ یقین جانیے! آج کا حقیقی قائد حزب اختلاف عمران خان ہی مستقبل کا وزیر اعظم ہے۔ رائے دھندگان اور عوام اس کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

کاش! اس مرتبہ یہ جو سیز فائر ہوا ہے، عبوری دورانیہ کے بجائے کم از کم بقیہ ساڑھے تین سالہ آئینی دورانیہ تک قائم رہے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور اپنے میلے کپڑے بیچ چوراہے میں دھونے کی منفی روش کو بال و پر حاصل کرنے کا موقع اگر فراہم نہ کیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ موجودہ منتخب جمہوری سیٹ اپ اپنا آئینی دورانیہ بھی پورا نہ کر پائے۔ بعض ستم ظریفوں کا دعویٰ ہے کہ آج بھی یہ سیز فائر پائیدار بنیادوں اور مستحکم خطوط پراستوار اور قائم ہو سکتا ہے بشرطیکہ پارٹیوں کے پے رول پر موجود مختلف ترجمان اپنے اپنے قائدین کی ’’بلا جواز‘‘ اور ’’بلا ضرورت‘‘ ترجمانی سے رضا کارانہ دستبردار ہو جائیں۔ اصل گڑ بڑ یہ ترجمان ہی کرتے ہیں۔

گڑ بڑ کرنے کے باوجود کمال یہ ہے کہ میدان جیتنے کا سہرا بھی یہ اپنے سر ہی باندھتے ہیں۔ان بیچاروں کی فطر تِ ثانیہ بن چکی ہے کہ اپنے اپنے بادشاہ کے بادشاہ سے بھی زیادہ وفا دار بننے کے ناٹک میں اُن کے ساتھ ایسا ہاتھ کرتے ہیں کہ بادشاہ بیچارے تصویرِ بے بسی بنے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔شاید شاعر نے ان ہی کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا تھا:

فتنے جگا کے دہر میں، آگ لگا کے شہر میں
جا کے الگ کھڑے ہوئے کہنے لگے ہم نہیں

یہ امر حبس کے موسم میں ٹھنڈی ہوا کے خوشبودار جھونکے کی طرح ہے کہ دونوں جماعتوں کے قائدین نے مفاہمتی سیاست، مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اقدار و روایات کے فروغ اور چلن پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ الزام تراشی کی سیاست سے ہمیشہ جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ جمہوریت کے درخت کیلئے الزام تراشی دیمک کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ دیمک اندر ہی اندر درخت کو چاٹ جاتا ہے۔ بظاہر اُس کا ڈھانچہ قائم رہتا ہے لیکن جب اچانک کوئی ناگہانی آندھی فضا سے اُترتی ہے تو جمہوریت کا چھتنار درخت زمیں بوس ہو جایا کرتا ہے۔

اس تناظر میں سیاستدانوں کو ماضی کی تلخ اور ناپسندیدہ روایات کو بالائے طاق رکھ کر ایک نئے مفاہمانہ طرزِ سیاست کو متعارف کروانا چاہئے۔ مفاہمانہ طرز سیاست جب رواج پائے گا تو اُس کے نتیجہ میں یقیناًعوامی بہبود کے کاموں میں پیشرفت ہو سکے گی۔دونوں بڑی جماعتوں کے مابین تناؤ کی صورتحال نے تمام محب وطن سیاسی زعماء کو مشوش و مضطرب کر کے رکھ دیا تھا۔ ہر محب وطن سیاسی جماعت ، رہنما اور کارکن کی خواہش ہے کہ بڑی سیاسی جماعتو ں کے قائدین عوامی خواہشات اور اُمنگوں کا احترام کرتے ہوئے جمہوری نظام کو ڈی ٹریک اور ڈی ریل ہونے سے بچانے کیلئے فروعی اختلافات سے صرفِ نظر کریں۔ اپوزیشن اور حزبِ اقتدار دونوں کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور سیاسی اختلافات کرملک اور جمہوریت کے استحکام اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیر تر کر دیں۔

یہ تو طے ہے کہ سیاست میں اختلافات ایام جاہلیت کی قبائلی دشمنیوں کی طرح نہیں ہوا کرتے کہ متصادم سیاسی قوتیں عشروں تک ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ متحارب اور متخالف نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے سے ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کریں۔اختلافات کی دیواریں کتنی ہی اُونچی کیوں نہ ہو جائیں ، ان میں ایک نہ ایک دریچہ ضرور کھلا رکھنا چاہئے۔ اس اصول کے تحت کہ’’ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے، صرف یہ دیکھو کہ کیا کہہ ر ہا ہے‘‘ دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے ذمہ دار قائدین کو شہر صحافت کے ایک عام سے باسی کے اس بیش قیمت لیکن بلا فیس مشورے پر بلا تاخیر عملدرآمد کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی جنگ بند کر کے عوامی مسائل پر توجہ دیں۔پرانے وقتوں کے سیانے کہا کرتے تھے کہ نصیحت دیوار پر لکھی ہو تو اُس پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نئے دور کے دانشور اس پر متفق ہیں کہ صفحۂ اخبار پر لکھی نصیحت پر جو عمل نہیں کرتا وہ گھاٹے کا سودا کرتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند