تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مگر وہ قندھار میں کیا کر رہا تھا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 1 ربیع الاول 1436هـ - 23 دسمبر 2014م KSA 19:21 - GMT 16:21
مگر وہ قندھار میں کیا کر رہا تھا؟

سانحہ پشاور کے دلخراش واقعہ نے ایک طرف ہمیں بہت دکھی کیا مگر دوسری طرف ہمیں جوڑ دیا۔اس واقعہ کے بعد ہماری سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر نظر آئی۔ وزیر اعظم سمیت باقی سیاسی جماعتوں کے قائدین فوراً پشاور پہنچے۔ جنرل راحیل شریف تو بہت ہی سرگرم رہے۔ انہوں نے سیاسی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات بھی طے کئے اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو بھی تیز کر دیا یہ وہ مرحلہ تھا جب اچھے برے طالبان کی بحث ختم ہو گئی اور یہ طے پا گیا کہ یہ سارے شدت پسند دہشت گرد ہیں اس کے علاوہ انہیں کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس اہم موڑ پر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے دل کھول کر اعلانیہ طالبان کو للکارا،ان کے قلع قمع کی بات کی۔ اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم تو ہمیشہ ہی سے طالبان مخالف جماعتیں تصور کی جاتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ ایم کیو ایم نے مزید کمال یہ کیا کہ فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی۔

اس ریلی سے الطاف حسین کا خطاب بہت اہم ،انہوں نے مذہبی جماعتوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے مسجد ضرار کی مثال دی۔ جسے خود نبی پاک ؐ نے مسمار کرنے کا حکم دیا تھا یہ حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا کہ اس مسجد میں بیٹھ کر لوگ اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے بدقسمتی سے آج پاکستان میں کوئی ایک مسجد ضرار نہیں۔ کئی مساجد ہیں۔ بہت سی مساجد قبضے کی جگہوں پر ہیں۔ اسلام کے نام نہاد خدمت گزاروں کی خدمت میں ایک حقیر سے مسلمان کی گزارش ہے کہ نبی پاکؐ نے قبضے کی جگہ پر سجدے کو ناجائز قرار دیا تھا۔ کیا یہ لوگ، لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں کر رہےکہ لوگوں کے سجدے قبضے کی جگہوں پر کروا رہے ہیں۔ وطن عزیز میں ایک دوسرے کو کافر کہنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ اس ملک کو بنانے والے ان چیزوں کے مخالف تھے۔ علامہ اقبال نے فرقوں کے خلاف بات کی۔

قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانان ہند جدوجہد کرتے رہے۔ کسی نے اس وقت یہ نہ کہا تھا کہ قائد اعظم کا تعلق ایک شیعہ خاندان سے ہے ،ہاں اس وقت چند مذہبی جماعتیں قیام پاکستان کی مخالف تھیں، وہ قائد اعظم کے خلاف نعرے بازی بھی کرتی تھیں ان میں سے اکثر جماعتیں آج بھی طالبان کیلئے ہمدردی رکھتی ہیں ۔ہمدردی کےیہ جذبات کئی کالعدم تنظیموں کے بیانات کے ذریعے سامنے آتے رہتے ہیں۔ کچھ مذہبی لیڈر جن کا دار و مدار مدرسوں پر ہے وہ بھی طالبان کیلئے ہمدردی رکھتے ہیں۔ شاید اس لئے ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ بند ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہے آپ کو پتہ ہی ہے کہ کون سے خلیجی ممالک مدرسوں کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ رہنما پیسوں سمیت کئی بیرونی ہوائی اڈوں پر روکےگئے تھے۔ اگرچہ وزیر اعظم اور عمران خان نے طالبان کے خلاف ڈٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان کی پارٹی نے بھی قراردادیں منظور کی ہیں،وزیر اعظم صاحب خود بڑے متحرک نظر آئے ہیں۔ مگر یہ سوال ان کیلئے بہت اہم ہے کہ انہیں ایسے افراد پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی تھے۔ جو یہ کہتے تھے کہ مذاکرات کیلئے کمیٹیاں بنائی جائیں، ان افراد پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لئے متبادل جگہ الاٹ کی جائے۔ آج جب پوری سول سوسائٹی ،پاکستان کی لبرل سوچ کی حامل جماعتیں اور پوری قوم کی آواز مولانا عبدا لعزیز کے خلاف ہے۔ ان پر مقدمہ قائم ہو چکا ہے، ایم کیو ایم کی قراداد آ چکی ہے تو ایسے میں حکومت کو انکے خلاف اقدامات کرنے چاہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ یہ وہی ’’مولانا بہادر‘‘ ہیں جو برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے تھے ۔لال مسجد والوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ وہاں بچوں کا قتل عام ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک ان بچوں کا کوئی والی وارث سامنے نہیں آ سکا۔ نہ کسی عدالت میں پیش ہوا، عدالتوں سے یاد آیا کہ پچھلے دور میں عدالتیں دہشت گردوں کے خلاف وہ کچھ نہ کر سکیں جس کی توقع تھی بلکہ عدالتوں سے دہشت گرد رہائی پاتے رہے۔ سزائوں سے بچتے رہے۔ اب اچھا ہو رہا ہے کہ دہشت گردوں کو پھانسیاں ہو رہی ہیں، یہ علاج ’’امرت دھارا‘‘ ہے۔

یہاں ایک اہم سوال ان لوگوں کیلئے بھی ہے جو پرویز مشرف کو پھانسی دلوانا چاہتے تھے،پرویز مشرف تو زندہ سلامت ہیں مگر ان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پھانسی ہو چکی ہے۔ جو طالبان کی ہمدرد مذہبی جماعتیں ہیں ان کے افراد کو کم از کم سرکاری عہدوں سے ہٹا دینا چاہئے، اس سلسلے میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، وضاحت کیلئے سینیٹر فیصل رضا عابدی سے رابطہ کریں کہ وہ کئی لوگوں کو بے نقاب کرنے کا ہنر جانتے ہیں،ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی بہت سی جماعتیں آپریشن ضرب عضب کے خلاف ہیں۔

قائد اغظم کی شخصیت کے حوالے سے یہاں میں ایک واقعہ رقم کر رہا ہوں کہ ایک مرتبہ پیر جماعت علی شاہ نے قائد اعظم کو قرآن پاک ،جائے نماز، اور ایک تسبیح تحفے میں بھیجے ۔قائد اعظم نے جواباً شکریئے کا خط لکھا ،خط میں درج تھا کہ آپ نے مجھے قرآن پاک اس لئے بھیجا ہے کہ میں قرآن پاک کو پڑھوں، جانوں ،اور قرآنی احکامات کو نافذ کروں،آپ نے جائے نماز اس لئے بھیجی کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، قوم اس کی اطاعت نہیں کرتی۔ آپ نے تسبیح اس لئے بھیجی کہ میں آقائے دو جہاں حضرت محمد ؐ پر درود شریف پڑھوں کہ جو دردو شریف نہیں پڑھتا اس پر اللہ کی رحمت نہیں ہوتی۔ قائد اعظم کی جانب سے جب یہ جواب موصول ہوا تو پیر جماعت علی شاہ ؒ فرمانے لگے کہ قائد اغظم ’’ محمد علی جناح اللہ کے ولی ہیں، میں نے یہ اشیاءاسی نیت سے بھیجی تھیں…‘‘

آج قائد اعظم کا پاکستان مشکل ترین حالات سے دوچار ہے، ہمیں سوچنا چاہئے کہ پشاور کا سانحہ کیوں ہوا، آخر ہماری دھرتی پر ہمارے دشمن کیوں سانس لے رہے ہیں، کیوں لوگ دشمن کے آلہ کار بنتے ہیں، یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عالمی دہشت گردوں نے اس مرتبہ افغانستان اور عراق کے بجائے نئے اسلامی ملک کو کیوں چنا، یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اس کیوں کے جواب کے لئے آپ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار دوول کی کچھ تقریریں ضرور سنیں، کچھ عرصہ قبل اجیت کمار دوول نے کہا تھا کہ بھارت خطے میں کچھ خاص کاموں کیلئے سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس کے اثرات پاکستان کی دوسری سرحد پر نظر آئیں گے۔

یہی اجیت کمار ہے جو گزشتہ ماہ قندھار میں تحریک طالبان کے اہم رہنمائوںسے ملاقاتیں کرتا رہا، ان ملاقاتوں کی تفصیلات سانحہ پشاور کے بعد افغان صدر کو پہنچا دی گئی تھیں۔ یہ ایسے ثبوت تھے جن سے انکار ممکن نہیں۔ اجیت کمار دوول ، تحریک طالبان اور داعش کو ملا کر پورے جنوبی ایشیا کو غیر مستحکم کرنا ہی چاہتا ہے، کوئی اور کھیل بھی کھیلنا چاہتا ہے، کیونکہ اجیت کمار ددول نے شام اور عراق کے کئی دورے کئے، ایک شامی سفیر نے میڈیا پر اس کا اقرار بھی کیا، ان دوروں میں اجیت کمار ، دوول ’’عبادت‘‘ نہیں کرتا تھا بلکہ داعش کے لوگوں سے مل کر کئی منصوبے بناتا تھا۔ اس کے یہ دورے کچھ تو سی آئی اے کی مرضی سے ہوئے، کچھ دورے اجیت کمار دودل نے امریکی حکام کی مرضی کے بغیر کئے۔ان دوروں نے کئی الجھنوں میں اضافہ کیا۔ اجیت کمار دوول اس حوالے سے خاص شہرت کا حامل ہے۔ اس شخص کی کہانی عجیب ہے۔ یہ سابق پولیس افسر ہے، سابق اسپائی ماسٹر ہے،اس نے 1990میں درگاہ حضرت بل کا واقعہ کروایا ۔

مقبوضہ کشمیر میں اس نے ایک اور کھیل کھیلا، 1995ء میں چند غیر ملکی سیاح کو کشمیر سے اغوا کروایا۔ گجرات کے مسلم کش فسادات کا ’’ہیرو‘‘ بھی یہی اجیت کمار دوول تھا۔ اس شخص کی کارروائیاں بھارت کے اندر اور باہر دراصل ہندو توا کیلئے ہیں اس کے آر ایس ایس اور بی جے پی سے قریبی مراسم ہیں، نریندر مودی کے پسندیدہ آدمی ہیں۔ بی رامن ،سنجیو تریپاتھی ،انوگ جوشی اور امیتابھ ماتھور اس کے اہم ساتھی ہیں، انہی ساتھیوں کی مدد سے وہ چھوٹا راجن گینگ بناتا ہے پھر اس گینگ سے بہت سا کام کرواتا ہے۔ اجیت کمار دوول کی ’’سہولت کاری ‘‘کیلئے بھارت کے سابق آرمی چیف وی کے سنگھ نے ایک ٹیکنکل ونگ قائم کر کے دیا۔ یاد رہے کہ اجیت کمار دوول کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے انڈر ورلڈ کے لوگ کھلے دل سے فنڈنگ کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا تمام خصوصیات کا حامل شخص پچھلے مہینے قندھار میں تحریک طالبان کے اہم ترین رہنمائوں سے ملاقاتیں کر رہا تھا، کیا یہ کوئی مذہبی تبلیغ ہو رہی تھی، اس کا بہتر جواب مولانا عبدا لعزیز یا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمٰن دے سکتے ہیں، میں تو صرف قتیل شفائی کے شعر پر اکتفا کرتا ہوں کہ

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں دیکھا
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند