تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کل جماعتی کانفرنس نے اتحاد و اتفاق کا بھرم قائم رکھا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 4 ربیع الاول 1436هـ - 26 دسمبر 2014م KSA 09:33 - GMT 06:33
کل جماعتی کانفرنس نے اتحاد و اتفاق کا بھرم قائم رکھا؟

پشاور سانحہ کے زیر اثر وجود میں آنے والے مکمل اتحاد و اتفاق کے اندر سات دنوں کے عرصے میں در آنے والے تحفظات، اختلافات کے ساتھ کل جماعتی کانفرنس کے طویل اجلاس نے اتفاق رائے کا بھرم ڈھونڈ ہی نکالا۔ اس اتفاق رائے کو ڈھونڈ نکالنے میں چیف آف دی آرمی جنرل راحیل شریف کا کردار نمایاں دکھائی دیا۔ کل جماعتی کانفرنس کے اس اجلاس کے فیصلوں میں نمایاں ترین فیصلہ فوجی افسروں کی سربراہی میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ بھی جو تحفظات و اختلاف کی وجہ سے اکثریت رائے کے ذریعے کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ان خصوصی اور فوجی عدالتوں کو وجود میں لانے کے سلسلے میں مسلم لیگ نون کے حکمرانوں کی حمایت کی اورپاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر سیاسی دبائو ڈالا گیا کہ وہ اس معاملے میں اپنے تحفظات پر اصرار نہ کریں۔ کانفرنس کے بیس نکاتی فیصلوں کے باوجود مکمل قومی اتحاد و اتفاق کو شکوک و شبہات سے بالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کانفرنس کے بیس نکاتی فیصلوں کا اعلان کانفرنس کے صدر وزیراعظم نوازشریف نے طویل انتظار کے بعد نشر ہونے والی اپنی تقریر میں کیا جس کے نشر ہونے سے پہلے خبروں کی صورت میں تقریباً تمام نکات نشر کردیئے گئے تھے۔ بلاشبہ یہ کل جماعتی کانفرنس کا طویل ترین اجلاس تھا جو گیارہ گھنٹوں تک جاری رہا۔

ایم کیو ایم کے بانی صدر الطاف حسین کا یہ موقف بے بنیاد نہیں ہے کہ جمہوری دور حکومت میں فوجی عدالتوں کا قیام ایک تضاد کی نشاندہی کرتا ہے اور مارشل لاء کا نفاذ فوجی عدالتوں کو وجود میں لانے سے بہتر ہوگا۔ لال مسجد کے خلاف اپنی مہم میں مصروف الطاف حسین نے پاکستان کے فوجی سربراہ کو دو سال کے لئے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کی دعوت بھی دے دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ کے مطابق فوجی عدالتوں کا قیام بھی دو سالوں کے عرصے کے لئے ہوگا۔

کانفرنس کے دیگر فیصلوں میں مدرسوں میں پڑھائے جانے والے کورس کو قومی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور مذہبی منافرت پھیلانے والے لٹریچر اور طبع شدہ مواد کو ضبط اور تلف کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جب کہ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق یہ فیصلے اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لئے وفاق المدارس کا تعاون حاصل کرنا پڑے گا جو پہلے ہی مدارس کے تعلیمی نصاب کو قومی تقاضوں کے مطابق بنانے کا فیصلہ اور اعلان کر چکا ہے۔

بہرحال قومی سطح پر اس حقیقت کا خیرمقدم کیا جائے گا کہ کل جماعتی کانفرنس نے قوم کے متحد اور متفق ہونے کے تاثر یا بھرم کو بہت حد تک برقرار رکھنے کی امید کو مایوسی میں تبدیل ہونے نہیں دیا مگر اس موقع پر یاد آتا ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام سے کچھ عرصہ پہلے تک مشرقی پاکستان کے دانشور اس بات پر احتجاج کیا کرتے تھے کہ آپ لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے عوام بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے کہ پنجاب یا مغربی پاکستان کے عوام ہو سکتے ہیں۔ یعنی آپ نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے غیر محب وطن ہونے کا شبہ کیوں کیا؟ کسی کو اپنے بارے میں یہ کہلوانا تو اچھا لگے گا کہ وہ شریف آدمی ہے مگر یہ ہرگز اچھا نہیں لگے گا کہ وہ بدمعاش یا غنڈہ نہیں ہے۔‘‘

کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کے پہلو میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات نے بھی مثبت انداز میں آگے بڑھنے اور کسی فیصلے پر پہنچنے کی امید کا تاثر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت جوڈیشل کمشن کو وجود میں لانے پر تیار ہے۔ مگر بات اور معاملات کو انڈرسٹینڈنگ کے میمورنڈم سے آگے بھی مثبت انداز سے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور قومی سطح پر اعتماد کی فضا بھی موجود رہنی چاہئے۔ اعتماد کی فضا کے اندر ہی قومی سلامتی کے آکسیجن کی موجودگی کا یقین کیا جاسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند