تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فضائی کمپنیوں کے ہاتھوں مسافر خوار ہو گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 8 ربیع الاول 1436هـ - 30 دسمبر 2014م KSA 10:58 - GMT 07:58
فضائی کمپنیوں کے ہاتھوں مسافر خوار ہو گئے

پچھلے چند دنوں سے مختلف فضائی کمپنیوں اور خصوصاً ہماری قومی ایئر لائن (جس کا موٹو ہے کہ عظیم لوگ پی آئی اے کے ساتھ سفر کرتے ہیں) کی پروازیں لگاتار کینسل ہو رہی ہیں۔ ویسے قومی ایئر لائن کی پروازیں موسم خراب نہ بھی ہو تب بھی کینسل ہوتی رہتی ہیں اور جہاز بھی اکثر خراب رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ہمیں بھی کراچی میں قومی ایئر لائن اور ایک دوسری ایئر لائن کی خصوصی شفقت کی وجہ سے تین دن تک کراچی ایئر پورٹ پر خوار ہونا پڑا۔ خیر ہمارے پاس تو سامان وغیرہ نہیں تھا اس لئے ہم نے اکیلے ہی یہ خواری برداشت کرلی۔ اس دوران ایئر پورٹ پر جو جھگڑے ہوئے اور قوم کے بعض وہ پڑھے لکھے لوگ جو یہ بھول گئے کہ یہاں خواتین بھی موجود ہیں، لاہوری اور امرتسری گالیوں کا خوب تبادلہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض لوگ تو بجائے ایئر لائن والوں سے بحث مباحثہ کرتے آپس میں لڑ پڑے۔ یعنی قصور ایئر لائن کا اور جھگڑا آپس میں کیا جا رہا ہے اور کسی بھی ایئر لائن کا عملہ لوگوں سے تمیز اور شائستگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا بلکہ لوگوں کو مزید غصہ دلا رہا تھا۔ وہ دلچسپ خبر تو مختلف ٹی وی چینلز پر بہت سارے دوستوں نے دیکھی ہوگی کہ ایک سپروائزر نے کراچی ایئر پورٹ پر بیس مسافروں سے ٹکٹیں لیں اور کہا کہ ابھی آتا ہوں اور ٹکٹیں لے کر وہ کینسل کرکے اپنے من پسند اور سفارشی لوگوں کو جہاز پر سوار کرا کے غائب ہوگئے اور وہ مسافر خوار ہوگئے۔

ان جھگڑوں کے دوران ہم نے وہاں دیکھا کہ ایک شخص بڑے شائستہ انداز میں قومی ایئر لائن کی جو فلائٹس کینسل ہوئی تھیں ان کو مسافروں کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بات کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ تین اور نوجوان بھی بڑے اچھے انداز میں مسافروں سے ڈیل کر رہے تھے۔ حیرانگی ہوئی کہ ہمارے لوگ اس شائستگی اور تمیز سے بات کرنے کے عادی نہیں۔ ہم ذرا آگے بڑھے تو حیران رہ گئے کہ یہ ہمارے لاہور کے فاطمہ میموریل ہسپتال کے ماہر امراض معدہ و جگر پروفیسر ڈاکٹر عارف امین تھے۔ ان کے ہمراہ سرجن پروفیسر خالد مسعود گوندل بھی کھڑے تھے۔ ہم نے ڈاکٹر عارف سے پوچھا کہ آپ نے پی آئی اے کو جوائن کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ایئر لائن والوں نے تو ان مسافروں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا تھا تو ہم تین لوگوں نے اپنے طور پر پی آئی اے کے عملے سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ آپ رضاکارانہ طور پر ہماری مدد کریں اور ہم ان کی مدد کر رہے ہیں اور پھر ان ڈاکٹر صاحب نے کمال کی منصوبہ بندی کرکے تمام مسافروں کو ان کی منزل پر پہنچایا۔ اگر یہ پی آئی اے کا عملہ ہوتا تو ان کو ضرور مار پڑتی۔

کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ڈاکٹر عارف امین نے پروازیں کینسل ہونے سے جو مسافر پریشانی کے عالم میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے ان کا علاج شروع کر دیا اور اس طرح مسافروں کے پیٹ میں جو مروڑ اٹھ رہے تھے وہ ختم ہوگئے۔ آپ یقین کریں کہ اس بندے نے تین پروازوں کے مسافروں کی سیٹیں انتہائی مہارت کے ساتھ کائونٹر پر بیٹھ کر ترتیب دے دیں۔ حالانکہ اس اللہ کے بندے کو بعض ناسمجھ لوگوں نے پی آئی اے کا عملہ سمجھ کر برا بھلا بھی کہا مگر اس شخص کی خدمات کو ہمارے سامنے پی آئی اے کے چیئرمین ناصر این ایس جعفر نے خود کائونٹر پر آ کر خراج تحسین پیش کیا اور وہاں پر تمام مسافروں سے بات بھی کی۔ یہ ایک اچھی روایت ہے کہ ادارے کا سربراہ مسافروں کو پریشانی کے عالم میں چھوڑ کر نہیں بھاگا۔ بلکہ دو تین مرتبہ آئے اور مسافروں کی شکایات سنیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر عارف سب مسافروں کو جہاز پر سوار کرا کے سب سے آخر میں سوار ہوئے۔ کاش! ایسے لوگ ہر شعبے میں ہوتے ہمارے ہر شعبے میں پلاننگ کا فقدان ہے۔ دسمبر اور جنوری دو ماہ ایسے ہیں جب پورا ملک خصوصاً پنجاب کے کئی علاقے شدید دھند میں ہوتے ہیں۔ خصوصاً لاہور میں تو شدید دھند ہوتی ہے۔ اگر تمام فضائی کمپنیاں 15 دسمبر سے 25 جنوری تک صرف اپنی پروازیں باقاعدہ اخبارات اور میڈیا پر اعلان کر کے صبح گیارہ بجے سے پانچ بجے تک چلائیں صرف لاہور کے لئے تو کم از کم یہ جھگڑے اور مسافر پریشانی سے مستقل طور پر چھٹکارا پالیں گے۔

پورے سال کا شیڈول اگر ان دو ماہ کے لئے ذرا مختلف بنا دیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ مثلاً جب جمعرات کی رات کو 747 کو لاہور لے کر آئے اور یہاں پر دھند کے باعث واپس لے گئے اور یہ جہاز بھی لوگوں کے بقول پارکنگ ایریا کے بہت نزدیک آ گیا تھا، یہ تو اللہ کی مہربانی ہوئی ورنہ بہت بڑا حادثہ ہوسکتا تھا۔ اللہ نے کرم کیا کہ پائلٹ نے جہاز کو اٹھا لیا اور واپس کراچی لے گیا۔ سوچیں کراچی سے لاہور اور پھر لاہور سے کراچی کتنا پٹرول وہ بھی ہائی آکٹین ضائع ہوا۔ پھر اگلے روز اس بڑے جہاز کے بدلے تین پروازیں خصوصی طور پر چلانا پڑیں۔ اگرلاہور کا کنٹرول ٹاور بروقت کراچی والوں کو آگاہ کر دیتا، ایک تو مسافر خوار ہونے سے بچ جاتے دوسرے پی آئی اے کے وسائل ضائع ہونے سے بچ جاتے۔ ہمیں یاد ہے کہ 1964ء میں ہماری قومی ایئر لائن کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا۔ کئی عرب ممالک کی ایئر لائنز کو بنانے میں ہماری ایئر لائن کی خدمات ہیں۔

آج یہ قومی ایئر لائن جان بوجھ کر تباہ کی جا رہی ہے حالانکہ مسافروں کی بھرمار ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہالی وڈ کے سٹارز اس ایئر لائن کے ذریعے سفر کیا کرتے تھے۔ اس کی ایئر ہوسٹس کا لباس اور شخصیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ آج جہازوں کی سیٹیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ عملے کا رویہ انتہائی غیر شائستہ ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جو لوگ پی آئی اے سے سفر کرتے تھے انہیں واپسی پر ایک گرین رنگ کا بیگ دیا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے مسافروں کے لئے عالمی طور پر کچھ قوانین طے ہیں۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوائی مسافروں کے لئے کچھ حقوق کا تعین کیا ہوا ہے۔ اگر آپ ان حقوق کو سامنے رکھیں تو پتہ چلے گا کہ ہماری کوئی بھی ہوائی کمپنی ان حقوق کو پورا نہیں کرتی تو کیا حکومت کی کوئی اتھارٹی، ادارہ یا عدالت ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔ آج دنیا بھر میں حتیٰ کہ پاکستان میں بھی آپ کو ایک ایک ماہ کا موسم سے معلوم ہوتا ہے تو کیا ہماری تمام ایئر لائنز کا نظام دو صدی پرانا ہے جو آسمان کو دیکھ کر موسم کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ آج تو آپ موبائل فون پر نہ صرف اپنے ملک کا بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے موسم کا پورے مہینے کا حال معلوم کر سکتے ہیں۔

ہم یہاں پر صرف دو تین حقوق پر بات کرتے ہیں جو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کے ہر ہوائی اڈے پر نیلے رنگ کے لوہے کے بورڈ پر سفید رنگ میں لکھ کر لگائے ہوئے ہیں۔ پیرا نمبر 3 کےحصہ (ب) میں درج ہے کہ 5 گھنٹے یا اس سے زائد تاخیر پر ٹکٹ کی مکمل ادائیگی عمل میں لائی جائے گی یا پھر مسافروں کو مفت ٹکٹ کے ذریعے ان کی پہلی منزل پر پہنچایا جائے گا۔ کیا آج تک کسی ملکی ایئر لائن نے ایسا کیا۔ روزانہ بارہ تیرہ گھنٹے بلکہ بعض دفعہ تو 24 گھنٹے کی تاخیر سے پروازیں جارہی ہیں۔ پیرا نمبر 2 کی شق نمبر 1 میں درج ہے کہ پرواز کی منسوخی کی پیشگی اطلاع نہ دینے کی صورت میں فضائی کمپنی مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل قیمت ادا کرے گی یا پھر مسافروں کو ان کی خواہش کے مطابق متبادل سفر کی تمام سہولت اپنے خرچ پر ادا کرے گی۔ حضور والا کیا آج تک پاکستان کے کسی مسافر کو یہ سہولت ملی ہے؟ پھر کہا گیا کہ اگر بورڈنگ کارڈ نہ ملنے پر 50فیصد اور اگر چار گھنٹے میں بورڈنگ کارڈ مل جاتا ہے تو 25 فیصد ٹکٹ کی قیمت ادا کرے گی۔ ہم نے تو کبھی زندگی میں ایسا نہیں دیکھا۔ ہم 1975ء سے ہوائی سفر کر رہے ہیں۔ دن بدن قومی ایئر لائن کے حالات خراب ہوتے ہی دیکھے ہیں۔

پھر اس حقوق کے چارٹر میں ارشاد ہوا کہ اندرون ملک حادثے کی صورت میں مسافروں کو 50 لاکھ روپے فضائی کمپنی ادا کرے گی اور بیرون ملک میں حادثے کی صورت میں ازالے کے طور پر تقریباً مبلغ ایک لاکھ 35 ہزار امریکن ڈالر فضائی کمپنی ادا کرے گی۔ آج تک ہماری کسی ایئر لائن نے اس طے شدہ رقم کے مطابق کسی بھی حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کو ادائیگی کی؟ پھر جس کا سامان گم ہوگیا کیااس کو ایک ہزار روپے فی کلو گرام ادائیگی کی؟ اور کتنے افراد کو سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر نے ان حقوق کے بارے میں تحفظ دلایا؟

پھر ایئر لائن والوں نے لوٹ مار کا ایک اور انداز اپنایا ہوا ہے۔ آپ کی ٹکٹ اکانومی کی ہے اس کے اندر مختلف کلاسیں بنا کر زائد پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر بہت دن پہلے ٹکٹ لیتے ہیں تو کوئی قیمت اور اگر ہفتہ پہلے لیتے ہیں تو قیمت کوئی اور۔ ایک غریب ملک کے لوگوں کو آخر کتنا لوٹنا ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند