تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سینئر طالبان کمانڈر کی پاکستان حوالگی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 9 ربیع الاول 1436هـ - 31 دسمبر 2014م KSA 10:55 - GMT 07:55
سینئر طالبان کمانڈر کی پاکستان حوالگی

ہالی وڈ فلموں کی طرز کا یہ ڈرامائی واقعہ گزشتہ سال 5 اکتوبر 2013ء کو افغانستان کے صوبے لوگر میں پیش آیا۔ خوست کی مرکزی شاہراہ پر افغان فوج کا قافلہ ایک کار کو اپنے حصار میں لئے منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ قافلے کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کار میں کوئی اعلیٰ شخصیت موجود ہے جسے افغان سیکورٹی اہلکار اپنے حصار میں لئے انتہائی پروٹوکول کے ساتھ لے جارہے ہیں لیکن اچانک افغانستان میں متعین امریکی فوجیوں نے قافلے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر افغان سیکورٹی اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا اور کار میں سوار شخص کو دو ساتھیوں سمیت حراست میں لے کر بگرام ایئر بیس منتقل کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کہ کسی کو اس واقعہ کی حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا تاہم امریکہ کی ڈرامائی کارروائی سے اُس وقت پردہ اٹھا جب افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے دوران واقعہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حراست میں لئے گئے شخص کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔

بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ امریکی سیکورٹی اہلکار جس شخص کو افغان سیکورٹی اہلکاروں سے ڈرامائی انداز میں چھڑاکر اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ تحریک طالبان پاکستان کے سینئر لیڈر لطیف اللہ محسود تھے جنہیں افغان سیکورٹی اہلکار، افغان انٹیلی جنس کے سینئر حکام سے ملاقات کے لئے لے جارہے تھے۔ بعد ازاں امریکی حکومت نے لطیف اللہ محسود کی ساتھیوں سمیت گرفتاری اور ان کی امریکہ کے زیر کنٹرول بگرام جیل میں موجودگی کی تصدیق کی جس کے بعد افغان حکومت لطیف اللہ محسود کی حوالگی کے لئے امریکہ پر مسلسل دبائو ڈالتی رہی مگر افغانستان کی تمام تر کوششیں باآور ثابت نہ ہوسکیں لیکن جب امریکہ کی جانب سے لطیف اللہ محسود کی ساتھیوں سمیت پاکستان حوالگی کی خبر اچانک منظر عام پر آئی تو افغان حکومت نے خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے واقعہ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لطیف اللہ محسود کا تعلق نومبر 2013ء میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے خاندان سے ہے جسے حکیم اللہ محسود کی زندگی میں اس کا دائیں بازو اور نائب سربراہ سمجھا جاتا تھا جبکہ اُس کے افغان انٹیلی جنس اداروں سے قریبی روابط تھے اور وہ پاکستان میں جہادی کارروائیوں کے سلسلے میں اکثر افغانستان جاتا رہتا تھا۔

واضح ہو کہ امریکی سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں لطیف اللہ محسود کی گرفتاری کی بنیادی وجہ اُس کا 2010ء میں نیویارک ٹائمز اسکوائر میں ناکام بم حملے کی منصوبہ بندی کرنا، پاکستان میں امریکی سفارتکاروں پر حملے کروانا اور امریکی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونا تھی۔

ایسے میں جب پاکستانی افواج دہشت گردوں کے گرد اپنا گھیرا تنگ کررہی ہیں، لطیف اللہ محسود کی پاکستان حوالگی پاکستان کے لئے مثبت قدم جبکہ افغان حکومت کے لئے باعث شرمندگی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی رویئے میں اچانک تبدیلی کیوں رونما ہوئی؟ اگر امریکہ، تحریک طالبان پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہے تو وہ کنڑ میں موجود ملا فضل اللہ اور عمر خالد کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیوں نہیں کرتا؟ امریکہ کی جانب سے لطیف اللہ محسود کی پاکستان حوالگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے واپسی کا اعلان کر چکی ہیں جبکہ افغان سیکورٹی فورسز رواں سال کے اختتام تک بگرام جیل کا انتظام سنبھال لیں گی، ایسی صورت میں اگر امریکیوں کا قاتل افغان سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا جاتا تو افغان خفیہ ایجنسیاں اسے رہا کر کے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر سکتی تھیں۔ امریکی رویئے میں اچانک تبدیلی کی ایک اور وجہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا حالیہ دورہ امریکہ ہے جس میں لطیف اللہ محسود کی حوالگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا جبکہ پاک فوج کے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے بعد امریکہ کو پہلی بار یہ احساس ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، طالبان دہشت گردوں کے خاتمے میں سنجیدہ ہے، اس لئے وہ طالبان کے سینئر لیڈر کو پاکستان کے حوالے کرکے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ امریکہ، طالبان کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن کا حامی ہے۔

قارئین! لطیف اللہ محسود کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر پاکستان حوالگی کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ افغان حکومت، فوج اور خفیہ اداروں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی سرپرستی حاصل ہے اور انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے سینئر لیڈروں کو افغانستان میں پناہ دے رکھی ہے جنہیں وہ اپنے مذموم مقاصد اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ آرمی اسکول پر حملے کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملتے ہیں جس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے سینئر طالبان لیڈروں نے کی تھی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کو یہی کمانڈر افغانستان سے مسلسل ہدایات دے رہے تھے۔ میری نظروں سے کچھ ایسی تصاویر بھی گزری ہیں جن میں افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے لیڈرز، بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہمراہ موجود ہیں۔ یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ بلوچستان سے ملحقہ افغان سرحد پر قائم بھارتی قونصل خانے دراصل ’’را‘‘ کے مرکز ہیں جو بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہمیں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ’’را‘‘ ملوث ہے۔

اس کے علاوہ کراچی میں ڈاکیارڈ پر حملہ بھی ’’را‘‘ کی کارروائی تھی جس میں ملوث کچھ کمیشنڈ افسران حملے کی ناکامی کے بعد افغانستان فرار ہوتے ہوئے بلوچستان میں پاک افغان سرحد پر پکڑے گئے تھے۔

افغان سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کا پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو مالی مدد، اسلحہ اور افغانستان کی سرزمین فراہم کرنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ افغانستان میں افغان صدر اور ایساف کمانڈر کو سانحہ میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے شواہد فراہم کئے تھے اوران کو پاکستان کے حوالے کرنے یا ان کے خلاف آپریشن کرنے پر زور دیا تھا جس کے بعد ایسی اطلاعات آئیں کہ افغان حکومت نے کنڑ میں طالبان کے خلاف آپریشن کیا جس میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے لیکن ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ مارے جانے والے وہی دہشت گرد تھے جن کے بارے میں جنرل راحیل شریف نے افغان حکومت کو معلومات فراہم کی تھیں یا اُن کا تعلق افغان طالبان سے تھا۔

ایسے میں جب تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف متفق ہو چکی ہیں اور وزیراعظم میاں نواز شریف، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی قیادت خود کر رہے ہیں، وقت آگیا ہے کہ حکومت، اسلام آباد میں متعین افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے اور سانحہ پشاور میں ملوث ماسٹر مائنڈ، افغانستان میں موجود تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور دیگر کمانڈروں کی پاکستان حوالگی یا ان کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کا مطالبہ کرے لیکن اگر افغان حکومت ٹال مٹول سے کام لے تو ان پر یہ واضح کر دیا جائے کہ مستقبل میں سانحہ پشاور جیسا کوئی واقعہ رونما ہونے پر پاکستان کی مسلح افواج افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم دہشت گردوں کے کیمپس کو نشانہ بنانے اور ان علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند