تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کی پاکستانی سرحدوں پر بڑھتی جارحیت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 12 ربیع الاول 1436هـ - 3 جنوری 2015م KSA 12:59 - GMT 09:59
بھارت کی پاکستانی سرحدوں پر بڑھتی جارحیت

31 دسمبر 2014ء کو پوری دنیا جب نئے سال کی آمد کے جشن کی تیاری میں مشغول تھی۔ بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاکستان کے چناب رینجرز کے دو جوانوں کو شہید کر دیا۔ ان میں نائیک ریاض شاکر اور لانس نائیک صفدر کو اس وقت شہید کیا گیا جب وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف تھے۔ فائرنگ کے بعد جب چناب رینجرز کے جوان زخمی ہوئے تو پاکستان کی طرف سے انہیں اٹھانے کی کوشش کی گئی تو بھارتی فورسز کی طرف سے مزید فائرنگ کی گئی تا کہ زخمیوں کو نہ اٹھایا جا سکے۔ کافی وقت گزرنے کے بعد جب زخمیوں کو اٹھایا گیا اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا تو وہ جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ بھارتی فورسز کی اس بلا اشتعال فائرنگ اور زخمیوں کو اٹھانے کی اجازت نہ ملنے پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ کا بھی مناسب طریقے سے جواب دے کر ان کی گنوں کو خاموش کرا کر زخمیوں کو واپس لایا گیا لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔

پاکستان بھارت سرحد پر فائرنگ کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ پچھلے سال نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ سرحد کے ساتھ ساتھ بھی فائرنگ کے بے شمار واقعات ہوئے جس میں بھارت نے بغیر وجہ کے گولہ باری اور فائرنگ کی۔ یہ گولہ باری اور فائرنگ زیادہ تر سویلین آبادیوں اور لوگوں پر کی گئی۔ پاکستان کی فورسز کی جوابی کارروائی سے ہی ان توپوں اور بندوقوں کو خاموش کیا گیا۔ اس سیکٹر میں شکر گڑھ کے علاقے میں بھارتی فورسز نے مئی کے مہینے میں فجر کی نماز کے بعد فائرنگ کی جو کہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ مارٹر گولے بھی فائر ہوئے اور ہلکے توپ خانہ سے بھی گولہ باری کی گئی۔ اسی طرح کے واقعات 20 جون کو بھی ہوئے جس میں ایک سویلین شہید ہوا۔ 16 جولائی کو بھی فائرنگ ہوئی اور گولہ باری بھی کی گئی جس میں جانی نقصان ہوا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری ہیں لیکن پاکستانی فورسز کی طرف سے صرف جوابی کارروائی اس حد تک کی جاتی ہے کہ بھارتی فورسز اس کارروائی سے باز رہیں لیکن ان واقعات کا براہ راست اثر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر پڑتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جو معاملات موجود ہیں ان کو جب بھی درست سمت لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے بھارت کی طرف سے اس قسم کی اشتعال انگیز کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ جب سے بھارت میں مودی سرکار آئی ہے بطور خاص اس قسم کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ بھارت کی طرف سے سرحدی گاؤں پر گولہ باری اور فائرنگ ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال جب پاک بھارت سیکرٹری سطح کے مذاکرات ہونے جا رہے تھے تو بھارت نے عین موقع پر ان مذاکرات کو منسوخ کر دیا اور اس کا بہانہ یہ بنایا گیا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات کیوں کی۔ حالانکہ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی اور ویسے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ کشمیر ہے جو کہ ہر بات چیت میں ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر اس ضمن میں کشمیری رہنماؤں سے مشاورت نہ کی جائے تو کشمیر کے بارے میں بات چیت کو آگے کیسے بڑھایا جا سکتا ہے لیکن مودی سرکار بے بنیاد باتوں کے ذریعے ان مذاکرات کو ختم کر چکی ہے۔ خود بھارتی وزیراعظم مودی حکومت میں آنے کے بعد مختصر عرصے میں دو سے تین بار کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں۔

حکومت پاکستان نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی کوششیں کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑا خیر سگالی بڑے جذبہ کا اظہار پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کیا کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے ان جذبات کا اظہار کیا کہ ہم نہ صرف پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں بلکہ خطے میں موجود مشکلات کو بھی دور کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے بھارت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت نے ان خیر سگالی کے جذبات کا بھی منفی طریقے سے جواب دیا۔ پاکستان نے بھارتی قیدیوں کی فہرست بھی انہیں مہیا کی اور معمولی جرائم میں ملوث بھارتی قیدیوں کو بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا لیکن بھارت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی تو دور کی بات ہے قیدیوں کی فہرست اور جرائم کی تفصیل تک بھی فراہم نہ کی گئی۔

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعض اشارے بھی بھارت نواز لوگوں سے جا ملتے ہیں جو کہ افغانستان میں کسی نہ کسی وجہ سے موجود ہیں۔ بھارت کی افغانستان میں سفارتی اور ترقیاتی سرگرمیاں عملی طور پر افغانستان میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکی ہیں۔ البتہ ان کی سرحد پار پاکستان کی طرف منفی کارروائیوں کا خوب چرچا ہے۔ وہ دہشت گرد جوان کارروائیوں میں پاکستان کی طرف ملوث ہیں، ان کی تربیت، پیسہ، ہتھیار اور معلومات سب ہی بھارت کے کونسل خانوں سے مہیا کیے جاتے ہیں جو کہ افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ بنائے گئے ہیں، جن کے قیام کا مقصد سفارتی اور ترقیاتی سرگرمیاں برائے نام اور پاکستان کے خلاف منفی سرگرمیاں بنیادی مقصد بن چکا ہے۔ ان تمام حالات و واقعات سے اظہر من الشمس ہے کہ بھارت پاکستان پر دونوں اطراف سے بے جا دباؤ بڑھا کر خطے میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہی عزائم کی بنیاد پر بھارتی حکومت پاکستان کے ہر مثبت رویے کا جواب منفی طریقے سے دینے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ مشرقی سرحد پر فائرنگ، گولہ باری اور بے جا کھچاؤ اسی پالیسی کا حصہ نظر آتا ہے۔

پچھلے سال کے اختتام میں نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک کانفرنس بھی بنیادی طور پر بھارت کے اسی قسم کے رویوں کی وجہ سے تقریباً بے نتیجہ ہی رہی۔ نومبر 26 اور 27 کو ہونے والی اس کانفرنس میں بھی بھارت کا رویہ پاکستان کے ساتھ منفی رہا۔ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو بھارت کا یہ منفی رویہ اگرچہ پاکستان کے ساتھ بہت زیادہ ہے لیکن خطے کے دوسرے ممالک بھی بھارت کے اس منفی رویے سے محفوظ نہیں۔ سری لنکا ہو یا نیپال، بھوٹان یا بنگلہ دیش،کسی نہ کسی مسئلے پر بھارت کے منفی رویوں پر شاکی نظر آتے ہیں۔ خطے میں ہونے والی کوئی بھی مثبت تحریک جو لوگوں کی حالت تبدیل کرنے کے لیے کی گئی بھارت نے اس کو کسی نہ کسی طریقے سے سائیڈ لائن کر دیا۔

پاک بھارت سرحدی جھڑپیں بلاوجہ نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے بھارتی عزائم پوشیدہ ہیں اور وہ منصوبے ہیں جو کہ پاکستان کی صورت حال کو خراب کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت کسی نہ کسی کارروائی میں مصروف ہے۔ اس کے لیے بہانہ سازی اور وجوہات تلاش کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اگرچہ ان واقعات پر نہ تو کوئی بڑا ردعمل آتا ہے اور نہ ہی جوابی کارروائی کی جاتی ہے بلکہ پاکستان صرف سفارتی سطح پر ان واقعات کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے اور جوابی کارروائی اس حد تک ہوتی ہے کہ پاکستانی سرحد کا دفاع قائم رہے کیونکہ پاکستان کے نہ تو توسیع پسندانہ عزائم ہیں اور نہ ہی وہ خطے میں اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ بھارت کو بھی چاہیے کہ ملکی سطح پر جارحانہ پالیسیاں رکھنے کی بجائے غربت میں پسے اپنے عوام کے لیے عوام دوست پالیسیاں بنائے۔ بجٹ سامان حرب پر خرچ کرنے اور علاقے میں اسلحہ کی دوڑ لگانے کی بجائے بھوکے اور ننگے عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم سمجھے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند