تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کا کشتی ڈرامہ بے نقاب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 13 شوال 1441هـ - 5 جون 2020م
آخری اشاعت: منگل 15 ربیع الاول 1436هـ - 6 جنوری 2015م KSA 12:40 - GMT 09:40
بھارت کا کشتی ڈرامہ بے نقاب

بھارت کی جانب سے گجرات کے قریب مبینہ پاکستانی کشتی کی تباہی کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا کیونکہ جس کشتی کو تباہ کیا گیا وہ شراب اور ڈیزل کے سمگلروں کی نکلی۔ اس سے بھارت کا پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا۔ کشتی کا ملبہ اکٹھا کیا جاتا تو فورنزک معائنے سے دھماکا خیز مواد کی نوعیت کا پتہ چل سکتا تھا۔ مچھلیاں پکڑنے والے تمام بھارتی ماہی گیروں نے بھی یہ بیان دیا کہ انہوں نے اس رات کوئی کشتی جلتی ہوئی نہیں دیکھی۔

بھارتی وزارت دفاع اور کوسٹ گارڈز نے سمند ر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والی کشتی کی تباہی کو پاکستان سے منسوب کرکے زہریلا پراپیگنڈا کیا کہ یہ ممبئی طرز کے حملوں کی ایک اور کوشش تھی۔ بھارت نے واویلا کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما کے دورہ بھارت کے موقع پر بڑے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا تاہم پہلے کی طرح بھارت کا یہ پراپیگنڈا بھی ناکامی سے دوچار ہو گیا۔ اس خبرکے بھارتی میڈیا میں پہنچنے کی دیرتھی کہ تمام ٹی وی چینلزنے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی تھی ممبئی حملہ کی طرح اس باربھی کہانی گھڑ کر پاکستان کو بدنام کرنیکی کوشش کی گئی لیکن بھانڈہ اپنے ہی گھر کے بھیدی نے کھول دیا۔

جس طرح بھارتی حکومت پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اسی طرح پاکستان سے متعلق رائی کو پہاڑ بناکر پیش کرنا متعصب بھارتی میڈیا کی پرانی عادت ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے اسی روایت کو دہرایا مگر اس واقعے کو صرف 48 گھنٹے بعد ہی انڈین ایکسپریس نے اپنی وزارت دفاع کے دعووں کا پوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جو شواہد سامنے آئے آن سے پتہ چلتا ہے کہ ماہی گیروں کی کشتی میں شراب اور ڈیزل کے سمگلر تھے۔سب سے اہم بات کہ ماہی گیروں کی کشتی کا انجن اتنا طاقت ور نہیں ہوتا کہ کوسٹ گارڈ کی تیز رفتار کشتیوں کو شکست دے سکے۔بھارتی سرکار اور میڈیا کی طرف سے کشتی کی جو تصویریں جاری کی گئیں انہیں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس میں ’’پلاسٹک ایکسپلوسو‘‘ نہیں بلکہ دستی بم جیسا عام دھماکہ خیز مواد ہو سکتا تھا۔پھر 31 دسمبر کی شب مچھلیاں پکڑنے گئے تمام ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی کشتی جلتی ہوئی نہیں دیکھی۔ اس سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ شاید بھارتی سمندری حدود کے بجائے بین الاقوامی پانیوں میں ہوا ہے۔

اگر واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا ہے تو بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، اس کا حساب کون دے گا۔ کہیں بھارتی کوسٹ گارڈ کے ہاتھ بیگناہوں کے خون سے تو نہیں رنگے گئے؟ کہیں بھارتی وزارت دفاع تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کرکے خود بھی شریک ملزم تو نہیں بن رہی۔ دوسری جانب بھارتی کوسٹ گارڈ حکام اپنی ہٹ دھرمی پر اٹکے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 31دسمبر کی شب کشتی میں دھماکہ ہوا اور اس کشتی کے عملے نے انڈین کوسٹ گارڈ کے تعاقب کے باعث کشتی کو خود آگ لگائی اور وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔ سب سے بڑھ کر یہ جھوٹ کہ نعشوں کی تلاش جاری ہے۔کیونکہ نعشوں کے مل جانے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔

بھارتی حکومت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے ممبئی حملوں کی طرز پر متعدد ناکام ڈرامے کر کے سارا الزام پاکستان پر عائد کر رہی ہے۔ لہٰذا ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دباؤ میں نہ آئے اور پوری سیاسی قیادت کو اس مسئلے پر اعتماد میں لیتے ہوئے حکمت عملی تیار کرے۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کو اہمیت نہ دی اور مستقبل میں بھارتی حکومت اور میڈیا کے منہ بند نہ کئے تو اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ بھارت کا جارحانہ طرز عمل ’اکھنڈ بھارت‘ کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ حکومت کو بھارت کی دھمکیوں سے ڈرنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑے ہو جانا چاہئے کیونکہ اس موقع پر کمزوری دکھانے کا مطلب جنگ سے پہلے ہی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند