تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پھر "PK"
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 20 ربیع الاول 1436هـ - 11 جنوری 2015م KSA 10:53 - GMT 07:53
پھر "PK"

ہندوستان میں لبرل سوچ کے حامل لوگ خود حیران ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے کہ جہاں ایک طرف تو "PK" جیسی فلم کی ایسی پذیرائی ہوئی ہے کہ اس نے بزنس کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور بہت سی ریاستوں میں اسے ٹیکس فری قرار دینے کے لئے کوششیں جاری ہیں، وہاں دوسری طرف انتہا پسندی کا یہ حال ہے کہ اس فلم کو دیوتائوں کی توہین کے الزامات کا سامنا ہے۔ آخر یہ ہے کیا؟ کیا فلم اتنی ہی زبردست چیز ہے کہ پورے معاشرے کو تہس نہس کر دے اور اس کے اندر موجود بڑے تضادات کو بے نقاب کر دے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ معاشرے جن میں تخلیقی طور پر تضادات جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے وہاں اس طرح کی فلمیں یقیناً ایسے محرکات پیدا کرتی ہیں کہ جو تضادات کو سامنے لاتی ہیں اور یہ ایک طرح سے بہت ہی صحت مند رویہ ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ ہندوستان کا اس وقت کا حکمران طبقہ اور سنگھ پریوار کی پیدا کردہ تنظیمیں ایسی ایسی مضحکہ خیز تحریکیں پیدا کر رہی ہیں کہ لبرل سوچ کے لوگ یا سائنسی ذہن رکھنے والے ایسی باتوں سے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی تحریکوں کو عوامی پذیرائی ملتی ہے؟ اور کیا ایسی تحریکوں کے نتیجے میں ہندوستان سیکولر اثرات سے نکل کر ایک ایسا دقیانوسی ملک بن جائے گا کہ جہاں تخلیقی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی؟ لیکن آیئے پہلے ایک نظر ایک سائنسی ذہن سے ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر دوڑائیں ۔ یہ رپورٹ میں نے سائنسی امور کے ماہر امیتابھ پانڈے سے لی ہے ۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک خطاب میں ہندو دیوتا گنیش کے سر پر ہاتھی کا سر ہونے کو زمانہ قدیم میں بھارت میں تبدیلی اعضا کی سائنس میں مہارت کے دعوے کے طور پر پیش کیا تھا۔ابھی اس مضحکہ خیز دعوے پر قہقہہ جاری ہی تھا کہ سنیچر کو شروع ہونے والی انڈین سائنس کانفرنس 2015ء نے لوگوں کو حیران ہونے کا ایک اور موقع فراہم کردیا۔سائنس کانفرنس میں دو نام نہاد ماہرین کیپٹن آنند جے بوڈاس اور امیاجادھو نے قدیم ہندوستان میں طیارہ ٹیکنالوجی پر ایک مقالہ پڑھا جس پر بھارت میں بحث شروع ہوگئی ہے۔آسمان میں پرندوں کی طرح اڑنے کا خواب کون نہیں دیکھتا۔ دنیا کی تمام تر تہذیبوں کے اساطیر، قدیم رزمیوں اور تخلیقات میں اڑنے والے دیومالائی کرداروں، غیر حقیقی جانوروں اور جادوئی اڑن کھٹولوں کے قصے بھرے پڑے ہیں۔ان قصوں کو حقیقت مانیں تو گلگمیش اور ہنومان کے پاس اڑنے کی جادوئی طاقت تھی جبکہ ایکارس نے پرندوں کے پروں کو موم کی مدد سے اپنے بدن پر چپکا کر سورج تک اڑانے کی کوشش کی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔والمیکی کی رزمیہ داستان رامائن میں راون کے پاس ایک ایسا طیارہ تھا جو سوار کی مرضی کو ازخود جان کر نہ صرف زمین پر کہیں بھی پہنچ سکتا تھا بلکہ دوسری دنیائوں میں بھی پلک جھپکتے یہ لے جاتا تھا۔ایودھیا کے راجکمار رام کے پاس شاہد قدرے پسماندہ ٹیکنالوجی تھی اس لیے وہ پیدل ہی راون سے لڑنے پہنچ گئے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تصور کی یہ اڑان واقعی دلچسپ ہے۔اگر انجن سے بغیر گلائیڈر اور گرم ہوا کے غباروں کو چھوڑ دیں تو رائٹ برادران نے1903ء میں پہلی بار انجن سے چلنے والا ہوائی جہاز ایجاد کیا اور یہ کام خلا میں نہیں ہوگیا بلکہ آسمان میں اڑنے کے خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی عقل کو کئی گتھیاں سلجھانی پڑیں۔پہلے تو ہلکی مخلوط دھاتیں ایجاد کرنی پڑیں جو پرواز میں معاون ثابت ہوسکیں۔ پھر تھرموڈائنیمکس اور ایئروڈائنیمکس کے قدرتی اصولوں کو سمجھنے کی مشقت بھی کرنی پڑی جس کا ہندوستان کی کسی بھی قدیم سنسکرت کی کتاب میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

18 ویں صدی میں سوئس سائنس دان برنولی کے ہوا کے چکر کھانے کی سطح پر بہنے سے کم دبائو بننے کے اصول کی تلاش کے بغیر ہوائی جہاز کے پروں اور روڈولف کلیسیئس کے حرارت کے تبادلے اور تحفظ کے اصولوں کی تلاش کے بغیر انجن کی ایجاد ممکن ہی نہیں تھی۔سائنس کی ترقی قدیم صحیفوں کے محض مطالعوں اور تبصروں سے نہیں بلکہ قدیم سائنس کے استعمال اور جانچ کی کسوٹی پر رکھنے سے ہوتی ہے۔بھارت میں اس سائنسی طریقہ کار کی واحد مثال آریا بھٹ تھے جن کا نظریاتی قتل آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل نیم حکیم نجومیوں نے کردیا تھا اور بھارت میں سائنس کی جڑ پر ہی کلہاڑی چلا دی تھی۔آج کے دور میں جب کمپیوٹر مشینوں کو دماغ سے براہ راست منسلک کر کے دماغ میں جاری ہلچل اور خیالات کو جاننے کی ٹیکنالوجی پر دنیا بھر میں کام ہورہا ہے تب سائنس کے اجلاس میں اس طرح کی قدامت پرست روش سے ملک کے بچے کیا سیکھیں گے؟ یہ سوچ کر ہی جی ڈرنے لگتا ہے۔لیکن اس طرح کے آرٹیکل دیکھ کر اور پڑھ کر اور خاص طور پر فلم PK کی پذیرائی دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جتنی مضبوط ہندوستان میں سنگھ پریوار سے متاثر تحریکیں ہیں اتنی ہی مضبوط سائنسی بنیادوں پر استوار اور لبرل سوچ کی حامل تنظیمیں بھی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندوستان میں اتنی تخلیقی سرگرمیاں نہ ہوتیں اور نہ ہی سائنس کے میدان میں اتنی ترقی۔ ہمیں بھی اپنے ملک پر غور کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ کیا یہاں بھی سائنسی بنیاد پر مضبوط تحریکیں موجود ہیں اور اگر ہیں تو انہیں مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہئے۔ ہم شاید یہاں PK جیسی فلم نہ بنا پائیں لیکن اور بہت سے میدان ہیں جن میں کوشش کرتے رہنا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند