تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فرانس میں شام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 22 ربیع الاول 1436هـ - 13 جنوری 2015م KSA 11:00 - GMT 08:00
فرانس میں شام

راولپنڈی میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ یہ ناسور ’’آپریشن‘‘، ’’قومی یکجہتی‘‘ کی نعرہ بازی یا تمام قوتوں کے ایک پیج پر آ جانے سے ختم نہیں ہو سکتا ۔ یہ کینسر ریاست اور معیشت میں اتنا گہرا سرایت کئے ہوئے ہے کہ علاج کے لئے پورے نظام کو ہی اکھاڑنا ہوگا۔ فرانس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بیس افراد کی ہلاکت سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی اور مذہبی جنون کی وبا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں شام دنیا بھر کے جہادیوں کی آماجگاہ کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ یورپ سے بھی جہادیوں کی بڑی تعداد شام آ رہی ہے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق فرانس سے ہے۔ فرانس میں مسلمان آبادی کے بڑی حجم پچاس لاکھ کے پیش نظر یہ کوئی حیران کن بات نہیں، لیکن پیرس میں 7 جنوری کو ہونے والی دہشت گردی کے حقیقی ذمہ دار کیا فرانس کے حکمران نہیں ہیں؟ یورپ کے کئی دوسرے ممالک کی طرح فرانسیسی حکومت بھی شام میں سامراج کی پراکسی وار لڑنے والے مذہبی جنونیوں کو ’’فریڈم فائٹر‘‘ ثابت کرنے میں پیش پیش رہی ہے۔ آج کل ’’اسلامک سٹیٹ‘‘ کے نام سے عراق اور شام میں قتل عام کرنے والا گروہ کچھ عرصہ قبل تک امریکہ، برطانیہ اور قطے کے ساتھ ساتھ فرانس سے بھی بھاری عسکری اور مالی امداد حاصل کر رہا تھا۔ اب یہی ’’فریڈم فائٹر‘‘ یکا یک ’’دہشت گرد‘‘ کیوں ہو گئے ہیں؟ اس لئے کہ انہوں نے چند ایک مغربی باشندوں کے سر بھی قلم کر ڈالے ہیں؟ لیکن انسانی حقوق کے یہ مغربی علمبردار تب کہاں تھے جب یہی لوگ گزشتہ کئی سال سے شام میں عورتوں اور بچوں سمیت لاکھوں لوگوں کو ذبح کر رہے تھے؟ مہذب دنیا کے ان حکمرانوں کو کیا معلوم نہیں تھا کہ اربوں ڈالر خرچ کر کے پوری دنیا سے جو جہادی گروہ شام میں جمع کئے جا رہے ہیں وہ انسانی تاریخ میں بربریت کے نئے معیار مقرر کرنے میں مصروف عمل ہیں؟ منافقت جہاں ختم ہوتی ہے ان سامراجیوں کی سیاست اور سفارتکار وہاں سے شروع ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہوانے والی سالانہ ہلاکتوں کی تعداد عراق جنگ سے قبل ایک ہزار تھی جو 2014ء میں انیس ہزار سے تجاوز کر گئی۔ 2014ء میں ہونے والی ہلاکتیں 2013ء کی نسبت تیس فیصد زیادہ تھیں۔ القاعدہ کو جواز بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔ امریکی جارحیت سے قبل عراق میں القاعدہ کا نام و نشان نہ تھا لیکن آج کا عراق ایسے خوفناک جہادی گروہوں کا علاقائی گڑھ بن چکا ہے جن کے سامنے القاعدہ بھی معتدل معلوم ہوتی ہے۔ شام اور عراق اس خونخوار سامراجی سلسلے کی صرف دو کڑیاں ہیں۔ امریکی سامراج کی جانب سے جدید اسلامی بنیاد پرستی کو پروان چڑھانے کی پالیسی کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا تھا۔ آج کے طالبان اور القاعدہ کو افغانستان میں ڈالر جہاد لڑنے کیلئے امریکی سامراج نے ہی 1980ء کی دہائی میں بعض دوسرے ممالک کے ذریعے عسکری اور نظریات طور پر منظم اور مسلح کیا تھا۔ آج شام ، عراق ، افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں دہشت اور وحشت کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس ڈالر جہاد کا ہی تسلسل ہے۔ مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور جنوب ایشیا کو عدم استحکام سے دوچار کر کے مغربی سامراج نے وہ دیو پیدا کیا ہے جسکے سائے اب انکے اپنے ممالک پر بھی منڈلا رہے ہیں۔

شام میں لڑںے والے یورپی جہادی اب واپس لوٹ رہے ہیں اور فرانس سمیت پورے یورپ کی انٹیلیجنس ایجنسیاں خظرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہیں۔ اب خطرناک دہشت گرد بن جانے والے سابق فریڈم فائٹر شام اور عراق سے قتل و غارت گری کے جدید فنون سیکھ کر ماہر ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ مقامی آبادی میں گھل مل کر لمبے عرصوں کے لئے غاہب ہو جاتے ہیں اور پھر اچانگ نمودار ہو کر وار کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے پیرس میں کیا تاکہ یورپ کے لوگ گبھی شام کے روز مرہ زندگی کا تھوڑا مزہ چکھ سکیں۔ جیسا کہ ایک فرانسیسی خاتون نے میڈیا سے بات گرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ اب فرانس میں آ گیا ہے۔‘‘

مغربی کارپوریٹ میڈیا سامراج کے گماشتے کا روائیتی کردار ادا کرتے ہوئے سارے تنازعے کو مغربی جمہوریت اور مزہبی بربریت کی جنگ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ دوسرے خطوں میں مغربی جمہوریت کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے مغرب پہنچ کر بربریت کیسے بن جاتے ہیں؟ یہ سوال بہر حال جواب طلب ہے۔ اپنی پالیسیوں کے مضمرات کو تہذیبوں کا تصادم قرار دینا سامراج کی پرانی واردات ہے تاکہ ایک طرف جمہوریت کی حفاظت کے نام پر اپنے عوام کے جمہوری حقوق سلب کئے جا سکیں تو دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف نئی جنگوں کے جواز تراشے جا سکیں۔ مضحکہ خیز المیہ یہ ہے کہ جہادیوں کی نظریاتی اساس بھی تہذیبوں کے تصادم کا تھیسس ہے جسکا موجد سی آئی اے کا دانش ور سیمول پی ہٹنگٹن تھا!

مذہبی جنون کسی ایک مذہب کے پیروکاروں تک محدود نہیں۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکار اپنے جرائم کا جواز کیا مذۃبی صحیفوں کو نہیں بانتے؟ صہیونی ریاست کی بنیاد کیا دیو مالائی تصورات نہیں ہیں؟ نریندر مودی جیسے ہندو بنیاد پرست کیا جہادیوں سے کم خونخوار ہیں؟ عیسائیت میں بھی بنیاد پرستوں اور مذہبی جنونیوں کی کمی نہیں ۔ عراق پر بمباری کا آغاز جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلئیر نے مشترکہ دعا سے کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں لاکھوں انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ان دو راسخ العقیدہ عیسائی حضرات سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔

تارکین وطن کے مخالفت اور مسلمان دشمنی پر سیاس تکرنے والی فاشسٹ پارٹیوں کا یورپ میں ابھار سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کی واضح علامت ہے۔ پیرس میں دہشت گدی کے بعد یہ سماجی بیماری اور بھی شدت اختیار کرے گی۔ بظاہر مخالفت کے باوجود مختلف یورپی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست اور اسلامی بنیاد پرست ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ دونوں رجعتی رجحان درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں مسلامان تارکین وطن کی نئی نسل کا رجحان مذہبی بنیاد پرستی کی طرف بڑھا ہے لیکن اس مظہر کی وجوہ مذہبی سے زیادہ معاشی اور سماجی ہیں۔ غربت، بے روزگاری، ریاستی مشینری کا متعصب رویہ، سماج کی عمومی گراوٹ، بہتری کی کسی امید سے خالی مستقبل اور سماجی بیگانگی ہی نوجوان نسل کو مذہب اور ماضی بعید کے تعصبات میں پناہ تلاش کرنے پر مائل کرتی ہے۔

سامراجی ریاستوں کو داخلی اور خارجی سطح پر اپنے مفادات آگے بڑھانے کے لئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ’’بیرونی خطرہ‘‘ درکار ہوتا ہے۔ ماضی میں سوویت یونین کی طرف سے یورپ اور امریکہ کو کمیونزم کا خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد جنگوں ، اسلحہ سازی اور ریاستی جبر کو جاری رکھنے کے لیے کوئی نیا خطرہ چاہیے تھا جو پہلے سے تیار شدہ اسلامی بنیاد پرستی کی شکل میں میسر آ گیا۔ 1979ء میں سوویت یونین کے خلاف شروع ہونے والا ’’جہاد‘‘ اب دو دھاری تلوار بن گیا ۔ جہادی دہشت گردی کو پراکسی جنگوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بوقت ضرورت براہ راست مسلح جارحیت بھی کر دی جاتی ہے۔

آج سارا یورپی میڈیا اسلامی بنیاد پرستی کو ’’جمہوری روایات کے لئے ’’سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہا ہے۔ کل جب یورپ کے نوجوان اور محنت کش اپنے بنیادی حقوق کے لئے کوئی ہڑتال یا مظاہرہ کریں گے تو یہی میڈیا انہیں دہشت گردوں سے بھی بڑا شر پسند اور ملک دشمن قرار دے گا۔ یہی سرمایہ داری کی جمہوری روایات ہیں۔ پیرس میں دہشت گردی کے بعد جذبات کی لہر عوام کو وقتی طور پر تو کنفیوژ کر سکتی ہے لیکن ابراہم لنکن کے بقول ہر کسی کو ہر وقت بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ فرانسیسی ریاست گہرے معاشی ، سیاسی اور سماجی بحران کا شکار ہے۔ فرانس کے محنت کش عوام بہت جلد اپنی حقیقی مسائل کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں گے۔ فلاحی ریاست کے خاتمے، بیروزگاری، انتہاؤں کو چھوتی عدم مساوات نہ ختم ہونے والے ’’آسٹیریٹ‘‘ اور گرتے ہوئے معیار زندگی کے خلاف پورے یورپ میں جو عومی طوفان امڈ رہے ہیں انکا رخ زیادہ دیر تک نہیں موڑا جا سکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند