تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیا انقلابِ فرانس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 22 ربیع الاول 1436هـ - 13 جنوری 2015م KSA 08:58 - GMT 05:58
نیا انقلابِ فرانس

انہوں نے تو ایسی بنیادی بحثیں چھیڑ رکھی ہیں کہ پتا چلتا ہے کہ زندگی کس طرح سانس لیتی ہے۔ کئی سوال اٹھا رکھے ہیں۔ احتجاج بھی اپنے انداز کا کیا۔ ایسا تو نائن الیون پر بھی نہ ہوا ہو گا۔ پورے یورپ کو اکٹھا کر لیا۔ کون کون نہ تھا۔ چالیس تو سربراہ تھے۔ جرمنی، برطانیہ، اٹلی حتیٰ کہ ترکی بھی۔ ادھر سے اسرائیل بھی اور فلسطینی بھی۔ امریکہ ہی نہیں، روس بھی۔ حماس تک نے اس کی حمایت کر دی۔ ادھر اپنا حال یہ ہے کہ ہم سوچ میں ہیں، حملہ آوروں کی مذمت کریں یا نہ کریں۔ کام تو انہوں نے سچ مچ ایسا کیا ہے کہ اس کی حمایت نہیں ہو سکتی، مگر ہمارے ہاں تو غازی علم الدین شہید کی روایت بھی تو ہے۔ سلمان تاثیر کو قتل کرنے والا ممتاز قادری بھی ہیرو ہے۔ مغرب ہماری جس حساسیت کو سمجھ نہیں پا رہا ، وہ یہی تو ہے کہ ہم اپنے نبیؐ کی ذات پر کچھ نہیں سنتے۔ وہ کہتے ہیں ہم اپنے پیغمبروں کا مذاق اڑا لیتے ہیں، اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ اس بات کا کسی کے پاس کوئی جواب ہو تو بتائے۔ میں اس بحث میں الجھنا ہی نہیں چاہتا۔ عام طور پر ہم کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم تاریخ کی اپنی تعبیر پر تو سنتے نہیں ہو۔ کہہ دیا جائے کہ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودی نہیں مارے تھے، دو چار کم کر لو تو تم سیخ پا ہو جاتے ہو، یہ تو تاریخ کا معاملہ ہے، ادھر عقیدے کا مسئلہ ہے۔

چلئے، اس کو چھوڑئیے، یہ بھی کیا دل لگی ہوئی کہ بیٹھے کسی کے عقیدے سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں یہ آزادیٔ اظہار کا مسئلہ ہے۔ یہ اسی ملک کا حال ہے جہاں ژاں پال سارتر پیدا ہوا تھا۔ جس نے جب آزادیٔ اظہار کا مظاہرہ کیا تو فرانس سے آوازیں اٹھیں کہ اسے گرفتار کر لو۔ ایک دوسرے بڑے فرانسیسی نے کیا خوبصورت جواب دیا، ڈیگال نے کہا نہیں فرانس کو گرفتار کر لوں، سارتر تو فرانسیسی ہے۔ اس سارتر کا کہنا تھا کہ آزادی کا مطلب ہے، ذمہ داری۔ میں اسی کے برتے پر اس بات پر اصرار کیا کرتا ہوں کہ دنیا میں آزادی کا کوئی تصور ایسا نہیں جو ذمہ داری سے ہٹ کر ہو۔ میں آزاد ہوں، اگر میں ذمہ دار ہوں۔

مگر وہ کہتے ہیں یہ آزادیٔ اظہار کی جنگ ہے۔ فرانسیسی اس پر زیادہ شیر ہوئے، پر ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے شہریوں میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ان کے مضافات میں جو یوں کہہ لیجئے، کچی آبادیاں ہیں، ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ یہ ان کا بہت بڑا سماجی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ مسلمان آبادی فرانس کے نو آبادی عہد کا اندوختہ ہے۔ اب اسی کے ڈانڈے تارکین وطن کے مسئلے سے جا ملتے ہیں۔ آخر یہ لوگ معاشرے میں پس ماندہ کیوں ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ان بستیوں میں ایک طوفان اٹھا تھا۔ فرانس کی ریاست اور معاشرے کے پاس اپنے تمام آئیڈیل کے ساتھ تو اس کا کوئی جواب ہے۔

اب بات یہاں آ رکی ہے کہ ان بستیوں میں ایک جریدہ بہت جانا جاتا تھا اور پڑھا جاتا تھا۔ گویا یہاں رہنے والے مسلمانوں کو تنگ کرنے کا ایک ڈھنگ تھا۔ یہ جو حملہ آور تھے، یہ کیا کسی کے مدرسے سے پڑھے ہوئے تھے، درس نظامیہ سے فارغ التحصیل تھے، مذہبی لوگ تھے؟ کون تھے؟ لمبے لمبے بال اور نشے کے عادی، مار جونا، جانے کیا نام ہے کا شوق کرتے۔ بس چند ہفتے پہلے ہی ان کے اندر ایک آگ بھڑکی جب انہوں نے عراق میں مظالم کی تصویریں دیکھیں ،ابو غریب اور گوانتاناموبے کے قصے سنے۔ ان کے اندر ایک بھونچال برپا ہو گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا۔

ادھر بروس ریڈل یہ کہتا ہے کہ بھئی یہ ’’جہادیوں‘‘ کے اندر کی جنگ ہے۔ القاعدہ اور داعش میں مقابلہ جاری ہے۔ القاعدہ کے تین دھڑوں نے ویب سائیڈ پر داعش کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے۔ ان میں ایک جریدہ تھا عرب کا گروپ، دوسرا المغرب کا اور تیسرا النصرہ ہے۔ ان میں سے ایک نے تو 96ء کی رپورٹ جاری کی ہے۔ دعویٰ ان کا یہ ہے کہ داعش خلافت کے اصل حق دار نہیں ہیں۔ داعش نے بھی زوردار جواب دیا۔ ان کا کہنا ہے، القاعدہ والے بہت سست جا رہے تھے‘ خلافت قائم کرنے میں ان کی رفتار تیز نہ تھی اور یہ ملا عمر تو ان صلیبیوں کے ساتھ مذاکرات پر بھی آمادہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف یہ جنگ ہے کہ اسامہ بن لادن کا وارث کون ہے۔ دوسری طرف اسامہ پر بھی دھیمے لفظوں میں تنقید ہو رہی ہے۔

اس شخص کو چھوڑئیے، موصوف کے تجزیوں کے تو ہم بہت ڈسے ہوئے ہیں، مگر فرانس کے اندر بھی بہت سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ فرانس پر حملہ ہے ، فرانس کے کلچر پر حملہ ہے۔ کیا یہ فرانس کی موت کا نشان بن جائے گا یا فرانس اس سے ایک نئی طاقت بن کر ابھرے گا۔ انہیں فکر ہے، فرانس کے اندر کئی قوتیں ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ کون جیتے گا؟ کس کی فتح یا ہار کیا نتائج پیدا کرے گی۔ جیسے ہم لبرل فاشسٹ کے اصطلاح طنزاً استعمال کرتے ہیں ، وہاں میں نے ’’لبرل طالبان‘‘ کا ذکر بھی سنا یعنی گویا لبرل ملائیت سے بھی وہ ڈرتے ہیں۔ ان کے وزیراعظم نے تو صاف کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہماری جنگ سیاسی اسلام سے ہے۔ تاہم انہیں یہ بھی احساس ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد فرانسیسی معاشرے میں جذب ہو چکی ہے یا ایسے بھی ہیں جو شاید مذہب اور سیاست کو الگ بھی رکھتے ہیں۔ پھر یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے کہ فرانس کی سیکولرازم بڑی جارحانہ سیکولرازم ہے۔

سیکولرازم کا یہ ماڈل امریکی سیکولرازم یا دوسری اقسام کی سیکولرازم سے الگ ہے۔ یہ سیکولر، لبرل لابی کس طرح حملہ آور ہوتی ہے اور اس کے فرانسیسی معاشرے پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔

یہ بحث بھی کہیں دیکھنے کو ملی ہے کہ یورپ کے بقاء کی جنگ فرانس میں لڑی جا رہی ہے۔ ان معنوں میں نہیں کہ انہوں نے مذہبی گروہوں کا خاتمہ کرنا ہے، بلکہ ان معنوں میں ہے کہ اس سارے تصادم میں فرانس کی فوج کس طرح اپنی توانائیوں کے ساتھ ابھرتی ہے۔ کسی نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ یہ جو دونوں کارٹونسٹ تھے، یہ کوئی 78 اور 80 کے پیٹے میں تھے۔ ان کا تعلق گویا مارچ 68ء کی نسل سے ہے۔ میں اس نسل کا تجزیہ کرتا رہتا ہوں۔ ہم پاکستان میں گویا اسی عہد کی پیداوار رہے، اگرچہ فرانس سے مختلف ہے، نوجوانوں کی بغاوت کا آغاز اسی برس ہوا تھا جس کے اثرات امریکی یونیورسٹی کیمپسوں تک گئے۔ ہم بھی اس زمانے میں سڑکوں پر تھے۔ فرانسیسی نوجوانوں کی اس بغاوت نے فرانس ہی کو نہیں دنیا کو بھی بہت کچھ دیا۔ یہ آزادی کی نسل تھی جو مذہب کے خلاف بھی آواز اٹھاتی تھی۔ چینی آزادی بھی مانگتی تھی اور مذہبی اقدار کے مقابلے میں اپنا الگ تشخص رکھتی تھی۔ اس عہد نے نئے فلسفوں کو بھی جنم دیا۔ یہ کارٹونسٹ اسی نسل کے نمائندے ہیں۔ یہ نسل اگرچہ بقول فرانسیسی تجزیہ نگاروں کے اب اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے، تاہم ان کے اندر وہ سب جذبے موجود ہیں جو اس عہد نے انہیں دیئے تھے۔ کہا جاتا ہے، فرانس کی مخصوص حسن ظرافت اور اس نسل کے آئیڈیل نے مل کر یہ کام دکھایا ہے۔

وہ پوچھتے ہیں ، لوگ ہمارے اس مخصوص انداز کو سمجھتے کیوں نہیں۔ بتائیے، کیا جواب دوں۔ وہ اب تک ہماری حساسیت کو نہیں سمجھ پائے۔ اس کا جواب میں کس سے مانگو۔

بہرحال اس وقت ہم فرانس کے اندر اٹھنے والے طوفان کا ذکر کر رہے ہیں۔ کسی نے اسے فرانس کی شدت پسند لبرل ازم کے لئے چیلنج کہا ہے، کسی نے تضادات کے ابھر آنے کا ذکر کیا ہے۔ عجیب بات ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں ، کون سی طاقت فرانس کو زیر کرتی ہے یا کونسا ردّعمل ابھر کر فرانسیسی معاشرے کا حصہ بنتا ہے، اس کا تعلق یورپ کے مستقبل سے ہے۔ مثال کے طور پر اگر یہ معاشرہ مسلمانوں کو اپنا حصہ نہیں بنا سکتا، تو بھی اچھی طرح جاننا ہے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، وہ ہر انداز سے پس رہے ہیں۔ کاش وہ ہمارے اندر اثرانداز فکر اور انداز عمل پر ردّعمل کا بھی ادراک کر پائیں۔ اس سے ان کے اندر بہت سی نئی برقی لہریں پیدا ہوں گی۔ کیا کوئی نیا انقلاب ِ فرانس آ پائے گا یا فرانسیسی بھی امریکیوں کی طرح اس چیلنج کا جواب دیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند