تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کشمیر گورنر راج، مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 30 محرم 1442هـ - 18 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: منگل 22 ربیع الاول 1436هـ - 13 جنوری 2015م KSA 10:14 - GMT 07:14
کشمیر گورنر راج، مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش

ریاست جموں و کشمیر میں ھکومت سازی کا معاملہ 17 روز تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد ریاست میں گورنر راج کے نفاذ اور بھارتی پارلیمان کی ایک مشترکہ کمیٹی کی طرف سے 1947ء سے جموں خطے میں آباد پاکستان اور آزاد کشمیر سے آئے ہندو مہاجرین کو 67 سال بعد ریاست کا مستقل باشندہ ہونے کی سند اور اسمبلی میں انکے لیے نشستیں مخصوص کرنے کی سفارش، یہ سب اس خطے میں کسی آنے والے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال کشمیر کی سبھی پارٹیوں ، بشمول آزادی پسند اور انتخابی عمل میں شریک نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ان مہاجرین کی باز آباد کاری کو ریاست کی مسلم اکثریت آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی ایک سازش قرار دیا اور گورنر کو خبردار کیاہے کہ اسمبلی کی عدم موجودگی میں وہ اپنے اختیارات استعمال کر کے ایسا کوئی آرڈیننس جاری نہ کرے۔ دوسری طرف آزادی پسند جماعتوں نے عوام سے کہا ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا گیا تو ایک لمبے ایجیٹیشن کیلئے تیار رہیں۔

گزشتہ ہفتے بھارتی صدر پرناب مکھرجی سے منظوری کے بعد ریاستی گورنر این این وہرہ نے جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 92 (5) کے تحت اختیارات استعمال کرے ہوئے اعلان کیا کہ ریاستی آئین کی دفعہ 92(1) کے تحت ریاست میں گورنر راج کا نفاذ عمل مین لایا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ نومبر، دسمبر 2014ء میں ہونے والے اسمبلی انتخبار کے نتائج کا اعلان 23 دسمبر کو کیا گیا، جس کے فورا بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 24 دسمبر کو اپنا استعفیٰ پیش کیا، جسے گورنر نے منظور کرتے ہوئے نئی حکومت بننے تک انہیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی تلقین کی۔ گزشتہ دو ہفتوں میں گورنر نے پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے جو سب سے بڑی پارٹیاں ابھر کر سامنے آئی ہیں، حکومت سازی کے معاملہ پر بات چیت کی لیکن کسی بھی پارٹی نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش نہیں کیا۔ 7 جنوری کی شام عمر عبداللہ نے گورنر کو مطلع کیا کہ انہوں نے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ کسی بھی پارٹی نے تب تک حکومت سازی کا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا، لہذا ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری حاصل کی گئی جو 8 جنوری 2015ء سے نافذ العمل ہوا۔۔

یاد رہے کہ اسمبلی انتخابات 2014ء میں پی ڈی پی 28 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی جبکہ بی جے پی نے جموں کے ہندو خطے میں واضح اکثریت حاصل کر کے 25 نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ کانگریس بارہ اور نیشنل کانفرنس پندرہ نشستوں پر کامیاب ہوئیں۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ پی ڈی پی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کیلئے کوشاں رہی۔ تاہم دونوں جماعتوں میں بعض پیچیدہ معاملات پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور اس طرح مخلوط سرکار بنانے کے امکانات معدوم ہو گئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ریاست میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کی یہ ساری جماعتیں ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے ذاتی اور پارٹی مفادات کو عوامی مفادات پر ترجیح دی۔

ستمبر کے تباہ کن سیلاب کے بعد عوام نے الیکشن کے انعقاد کو زخموں پر نمک پاشی سے تعبیر کرتے ہوئے انتخابی عمل مارچ تک موخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اکی خواہشات کے برعکس الیکشن ان پر ٹھونسا گیا اور انہوں نے اپنی مشکلات کو بھول کر اس عمل میں صرف اس لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کہ ان کے ووٹ کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت انکی دادرسی کرے۔ موجودہ حالات میں کشمیر کی مقامی سیاسی جماعتیں نیز آزادی پسند حلقے بھی ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ اس سیلاب کو روکنے کے لیے اشاروں کنایوں میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔ ’’گھر واپسی‘‘ یعنی زبردستی ہندو مت قبول کروانا اور ’’بہو لاؤ اور بیٹی بچاؤ‘‘ جیسے پروگراموں کے بعد اب بی جے پی کے فرقہ پرست رکن پارلیمان ساکھشی مہاراج نے ہندوؤں کو چار چار بچے پیدا کرنے کا مشورہ دے کر نہ صرف بھارتی مسلمانوں بلکہ جموں و کشمیر میں بھی عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ اگ ربی جے پی جموں کے اقتدار میں براہ راست حصہ دار بنتی ہے تو نہ صرف یہاں کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت، کلچر اور تہذیب خطرے میں پڑے گی بلکہ یہ ہندو قوم پرست پارٹٰ پوری دنیا کے سامنے یہ دلیل پیش کرے گی کہ ریکارڈ توڑ پولنگ کے نتیجے میں جموں کے عوام نے اس پارٹی کے ایجنڈے کو من و عن تسلیم کیا ہے۔ اس سے کشمیر کاز کو نہ صرف اندرون ریاست اور بیرونی محاذ پر نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ پاکستان کیلئے کشمیریوں کا جائز مطالبات کی مختلف بین الاقوامی فورموں پر وکالت کرنا بھی بے حد مشکل ہوجائے گا۔

جس طرح بھارتی حکومت نے جموں خطے میں عارضی طور پر آباد شرنارتھیوں یعنی مہاجرین کی لئے بھار پیکج کا اعلان کیا ہے اس سے معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے کشمیریوں کے بھی ہوش اڑ گئے ہیں۔ بھارتی پارلیمان کی ایک مشترکہ کمیٹی نے دیگر مراعات دینے کی سفارش کرنے کے علاوہ انہیں ریاست کا مستقل باشندہ ہونے کی سند اور اسمبلی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق فراہم کرنے ، ریاستی آئین میں ترمیم عمل میں لانے اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے دونوں ایوانوں میں انکی لئے نشستیں مخصوص کرنے کی سفارشات بھی کی ہیں۔ جہاں تک آزاد کشمیر کے مہاجرین کا تعلق ہے وہ آئینی اعتبار سے ریاست کے باشندے ہیں اور انہیں نہ صرف پشیتنی باشندگی کی سند فراہم کی جاتی ہے بلکہ انہیں ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے کا بھی حق ہے۔ تاہم جہاں تک مغربی پاکستان کے مہاجرین کا تعلق ہے، وہ ریاست کے آئین کے اعتبار سے ریاست کے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے کا حق ہے گو کہ پارلیمنٹ کے لیے وہ ووٹ ڈالتے ہیں کیونکہ بھارتی آئین کی رو سے وہ بھارت کے شہری ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پشیتنی باشندگی کی اسناد نہ ہونے کی وجہ سے مغربی پاسکتان کی رفیوجیوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ریاستی حکومت میں نوکریوں کے حصول کے اہل نہیں ہیں تاہم وہ مرکزی اداروں میں نوکریاں کر رہے ہیں۔

اب جہاں تک ان دونوں زمروں میں آنے والے مہاجرین کو مراعات فراہم کرنے کا تعلق ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیںہونا چاہیے۔ ان کے بچوں کے لیے کشمیری مہاجر پنڈتوں کی طرز پر ملک کے تعلیمی و پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ کے لیے نشستیں مخصوص کی جائیں۔ یہ وہ سارے اقدامات ہیں جنکا تعلق براہ راست انکا معیار زندگی بہتر بنانے سے ہے، جس کے وہ مستحق بھی ہیں ۔تاہم پارلیمانی کمیٹی کی سفارشان کا تعلق براہ راست ریاست کی آئینی پوزیشن سے جڑا ہوا ہے جس پر عوام کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہو سکتے۔ جموں میں مقیم مغربی پاکستان کے مہاجرین کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے اور اگر ریاستی آئین میں ترمیم کر کے انہیں شہریت کا حق فراہم کیا گی اتو یقینی طور پر یہ ریاست میں ایک نئی شورش کو جنم دے سکتا ہے۔

اب جہاں تک ریاستی اسمبلی میں آزاد کمیر کے لیے مخصوص 25 نشستوں میں ہندو مہاجرین کے لیے آٹھ نشستیں مخصوص کرنے کا معاملہ ہے ، یہ خطرات سے پر ہے اور اکے نتیجے میں آئیین کی نیخ کنی ہو سکتی ہے۔ یہ نشستیں ریاستی آئین کی رو سے ریاست کے دوسرے حصے کے لیے اس غرض سے مختص کی گئیں جو ریاستی آئین کے مطابق منقسم ریاست جموں و کشمیر کی ایک اکائی ہے اور اس کے حتمی تصفیے تک یہ نشستیں اسی حالت میں مخصوص رہنی چاہئیں۔

بالفاظ دیگر ریاستی آئین میں یہ شق رکھ کر کشمیر کے متنازع ہونے کو سند عطا کی گئی ہے۔ پہلے سے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر بی جے پی برسر اقتدار آئی تو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا جائےگا۔ وہ کام جو پچاس برسوں سے زائد عرصے میں کوئی نہ کر سکا، اب بی جے پی اور سنگھ پریوار ایک سال میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر بی جے پی اپنے اس منصوبے مین کامیاب ہو گئی تو جموں و کشمیر میں مسلماوں کا اکثریتی کردار ختم ہو جائے گا۔ بی جے پی کا یہ استدلال کہ رفیوجیوں کا مسئلہ خالص انسانی مسئلہ ہے، اپنی جگہ درست ہے لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جن رفیوجیوں کو ریاست کے لوگوں نے دہائیوں تک پناہ دی اور سب کچھ دیا اب انہیں یہاں کا مالک بنا دیا جائے۔ اگر بی جے پی کو رفیوجیوں کی اتنی ہی فکر ہے تو انہیں بھارت کے مختلف شہروں میں کیوں نہیں بسایا جاتا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ بدلے مین جموں خطے سے 1947ء میں لاکھوں ایسے مسلم خاندانوں کو جنہیں ہجرت کر کے پاکستان جانے پر مجبور کیا گیا، انہیں واپس اپنے آبائی علاقوں میں بسنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
لگتا ہے موجودہ حکومت کشمیریوں کی حالت فلسطینیوں سے بھی بد تر کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس طوفان کو روکنے کے لیے نہ صرف کشمیری لیڈروں کو اکٹھے ہو کر ہوشمندی دکھانے کی ضرورت ہے بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی بھارتی لیڈروں کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ایسے کسی قدم کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جسکا یہ خطہ متحمل نہیں ہو سکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند