تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کون ستارے چھو سکتا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 26 ربیع الاول 1436هـ - 17 جنوری 2015م KSA 09:18 - GMT 06:18
کون ستارے چھو سکتا ہے؟

عالمی انقلابات اور جمہوری طر زِ حکومت کا تاج اپنے سر پر سجانے والے ملک فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذریعے اپنے میگزین کی نئی حداشاعت دریافت کرنے والے لوگوں سے عیسائی مذہب کے عالمی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ آزادی ٔ اظہار کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ برہنگی کو کوئی فیشن نہیں بنایا جا سکتا، دلربائی بھی دل آزاری کی حددد میں داخل نہیں ہوسکتی اور ہمارے ایک شاعر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ:

کون ستارے چھو سکتا ہے
راہ میں سانس اکھڑ جاتی ہے

اگر بفرض محال اور خدانخواستہ لوگ مذہبی انتہاپسندی کی آخری انتہائوں کو چھونے والی خودکشی میں مبتلا ہو جاتے اور انہیں اپنے مذہب کے ماننے والوں کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کے لوگوں پر یہ الزام عائد کرنےسے روکنے والا کوئی نہ ہوتا کہ وہ ان کے مذہب کے واجب احترام اور مقدس بزرگوں کی شان میں توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں چنانچہ لائق تعزیر اور واجب قتل قرار دیئے جاسکتے ہیں اور یہ واجب فریضہ ادا کرکے اپنے مذہب کا بول بالا کرنے کے علاوہ اگلی دنیا میں جنت الفردوس کی نعمتوں اور رحمتوں سے لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس سے انکار بھی مشکل ہوگا کہ اگر دنیا کے مذہبی لوگ اس نوعیت کی انتہاپسندی کے مرتکب ہوتے تو شاید دنیاسے مذہبی سوچ رکھنے والے لوگ بھی ڈائناسور کی طرح اپنا نام و نشان مٹا چکے ہوتے۔
دنیا کے تمام بڑے اور زیادہ تعداد میں پائے جانے والے مذاہب میں مسلمانوں کا مذہب اسلام ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی ہجرت کے بعد روئےزمین پر پھیلا تھا چنانچہ اسلام کو دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں جدید ترین مذہب سمجھا جاسکتا ہے اور بلاشبہ اس مذہب کی تعلیمات میں جدید ترین دنیاوی اور دینوی تقاضوں کو پورے احترام کے ساتھ پیش نظر رکھا گیا ہے۔

ان تقاضوں کے تحت دین کے معاملات میں جبر، زبردستی، ظلم اور زیادتی کی مخالفت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ خداوند کریم کو بھی صرف مسلمانوں کا رب ہی نہیں قرار دیا گیا ’’رب العالمین‘‘ کے طور پریاد کیا گیا ہے او ر جس مذہب کے پیغمبر ؐ اپنے جسم کے اوپر اوجھڑی کی غلاظت پھینکنے والی عورت کی عدم موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے اس کی صحت او ر زندگی کے بارے میں فکرمند ہوسکتے ہیں اس مذہب کی برداشت، ہمت اور جرأت کا مکمل طورپراحاطہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ا و اس مذہب میں جبر اورزبردست کا اظہار کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ جس مذہب کے خلیفہ سے دریائے دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کا ا حتساب بھی واجب قرار دیا گیا ہو اس سے زیادہ ذمہ دار او ر مہذب مذہب اور کونسا ہوسکتا ہے؟

یہ اس مذہب کے حق میں پیش کئے جانے والا خراج عقیدت و احترام نہیں ہے تو او ر کیا ہے کہ ملک سپین کےاسلامی دور کی صدیوں میں صرف مسلمانوں کے دانشوروں اور علمائے کرام نےہی نہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے اہل علم اور اہل فضل نے بھی بہترین تخلیقی اور تعمیراتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔اس دور کی ایجادات اور دریافتوں کا کسی اور د ور کی ایجادات اور دریافتوں سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا او ر وہ پوری دنیا اور انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ پرامن حالات زندگی کا ا تنی ہی زیادہ تخلیقی پیداوار کا دور بھی تھا۔ عالم انسانیت کو ویسے پرامن تخلیقی دور کا انتظار رہے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند