تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر باراک اوباما سے صدر جنرل ایوب خان تک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 30 ربیع الاول 1436هـ - 21 جنوری 2015م KSA 10:22 - GMT 07:22
صدر باراک اوباما سے صدر جنرل ایوب خان تک

اکیسویں صدی کی واحد یا اکلوتی رہ جانے والی عالمی سپر پاور اور انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ طاقت ور اور تباہ کن جنگی طاقت ہونے کے باوجود سب سے زیادہ عالمی خطروں میں گھری ہوئی عالمی سرمایہ داری نظام کی جنت ارضی امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر مملکت باراک اوباما اپنی حکومت کے آخری دو سالوں میں بھی مالیاتی لحاظ سے مڈل کلاس کی گراف کو روکنے اور زوال سے بچانے کا بلند بانگ دعویٰ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور 2009ء سے اب تک ’’وائٹ ہائوس‘‘ پر قابض گھرانے کی چمڑی کا رنگ تبدیل ہونے کے علاوہ کچھ نہیں بدلا۔ اقوام عالم پر سرمایہ داری نظام کی دو صدیوں کی گرفت ضرور ڈھلی ہوئی ہے۔

نسلوں کے بدترین مالیاتی بحران کے دوران صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد باراک اوباما کی ’’سٹیٹ آف یونین‘‘ تقریر کا غالب حصہ مڈل کلاس کو تباہی سے بچانے کے ارادے کا تھا مگر اس دوران سرمایہ کاری میں بے پناہ اضافے سے باوصف روزگار کے وسائل میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

سرمایہ داروں کو مزید سرمایہ دار بنانے کے سرمایہ داری نظام کے تحت نفع خوری میں اضافے کے لئے بیشتر شعبوں میں انسانی محنت کشوں سے زیادہ مشینی (روبوٹس) کو بروئے کار لانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ مشینی کارندے انسانی محنت کشوں کے مقابلے میں سستے پڑتے ہیں اور بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے سرمایہ داری نظام ترقی کی راہوں پر ’’غلام داری نظام‘‘ کی طرف ’’یو ٹرن‘‘ لینے پر مجبور ہو رہا ہے۔

امریکی معیشت نے صدر اوباما کے دور حکومت میں کچھ ہوش ضرور سنبھالا ہے مگر امریکی مڈل کلاس ابھی تک مالیاتی بحران کے بدترین چنگل میں ہے۔ ’’امریکی فیڈرل ریزرو‘‘ کے مطابق وسطی طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے اور فیملیز کی آمدنی میں اس دوران نمایاں کمی دکھائی دی ہے اور ان کے اثاثوں کی مالیت بھی کمزور ہوئی ہے۔ باراک اوباما کے عہد صدارت میں 2009ء سے 2013ء تک کے چھ سالوں میں بہت اوپر کی کلاس اور بہت نیچے کی سطح پر روزگار کے وسائل میں اضافہ ہوا ہے مگر جیسے زراعت کے شعبوں میں آلات کے استعمال میں اضافے سے محنت کشوں کی بے روزگاریوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ویسے ہی کمپیوٹرز سے لے کر ’’روبوٹس‘‘ تک کے استعمال نے عالمی سرمایہ داری نظام کی گرفت میں آئے ہوئے علاقوں میں بے روزگاروں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھا دی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں اگر انسانیت کو غرق کرنے والا سیلاب ٹھنڈ تنور سے برآمد ہوا تھا تو آنے والے انقلابات محنت کشوں کے ٹھنڈے چولہوں سے جنم لے سکتے ہیں۔ زیادہ سرمایہ کاری کے باوجود روزگار کے وسائل میں بہت کم اضافے کی ایک مثال یہ دی گئی ہے کہ ایک صنعت کے ہنر مند کارکنوں کی تعداد ’’پری ری سیشن‘‘ کے عرصے میں 28 ہزار تھی اور اب صرف پانچ ہزار رہ گئی ہے۔ 23 ہزار ملازمتیں مشینیں کھا گئی ہیں اور گزشتہ پانچ چھ سالوں کے عرصے میں امریکہ کے ڈالروں میں ارب پتی لوگوں کی تعداد پہلے سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہوگئی ہے اور بے روزگار حد نگاہ تک پھیل گئے ہیں اور پہلے سے کمتر تنخواہوں اور اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

صدر باراک اوباما کے عہد صدارت میںمعاشی شعبے کی مڈل کلاس کا جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ اس کے مطابق 2013ء تک پہنچنے والے چھ سالوں میں مڈل کلاس کی پانچویں اوسط کی کمائی 53 ہزار آٹھ ڈالروں سے گھٹ کر 47 ہزار دو 43 ڈالرز رہ گئی ہے۔یاد پڑتا ہے کہ پاکستان میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے دنوں میں زرعی اصلاحات کے ماہرین نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ پاکستان میں بکریاں پالنے پر پابندی عائد کردی جائے کیونکہ بکری جب کسی پودے کو کھاتی ہے تو اسے جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے۔ یار لوگوں نے اس تجویز کے زیر اثر اشتہارات بھی تیار کرنے شروع کر دیئے۔ ایک اشتہار میں شاعر نے لکھا کہ؎

کہی کیا بات ایوب جری نے
کہ پاکستان کی دشمن ہے بکری

ایک تجویز میں کہا گیا تھا کاشت کاروں کی مرغیاں کھیتوں کی زرعی پیداوار کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ کھیتوں میں جو فصلوں کا بیج ڈالا جاتا ہے اس کا ایک نمایاں حصہ مرغیاں اور چوزے کھا جاتے ہیں چنانچہ دیہات میں مرغیاں پالنے پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سلسلے میں تحقیقات کے لئے گھر سے روانہ ہونے والی ایک ٹیم ایک گائوں پہنچی اور وہاں کے میراثی سے پوچھا گیا کہ تمہاری کتنی مرغیاں ہیںاس نے بتایا کہ پانچ ہیں۔ پوچھا گیا کہ یہ مرغیاں کھاتی کیا ہیں؟ میراثی نے جواب دیا کہ معلوم نہیں کیا کھاتی ہیں صبح ڈربے سے نکالتے ہی ہر مرغی کو آٹھ آٹھ آنے دیتا ہوں اس میں جتنا کچھ اور جو کچھ بھی آجائے کھا لیتی ہوں گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند