تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آزادی ٔ اظہار یا آزادی ٔ آزار؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 1 ربیع الثانی 1436هـ - 22 جنوری 2015م KSA 10:30 - GMT 07:30
آزادی ٔ اظہار یا آزادی ٔ آزار؟

فرانسیسی قیادت کی جانب سے جریدہ چارلی ہیبڈو کی صحافتی دہشت گردی کی مذمت کی بجائے تحسین اور تادیب کی بجائے توصیف عہدِ حاضر کے المناک ترین سانحات میں سے ایک ہے- فرانس کے اِس دہشتگرد جریدے نے پہلے تو تاریخِ انسانی کے عظیم ترین محسنِ انسانیت کی توہین کا ارتکاب کیا ،پھر جب اُسے اِس وحشت و بربریت پر ٹوکا گیا تب بھی اُس نے عقل کے ناخن لینے سے انکار کر دیا- نتیجہ یہ کہ چند فرانسیسی شہری اِس صحافتی دہشت گردی کے ردِعمل میں دہشت گردی کے مرتکب ہوئے۔ اِس پر فرانسیسی حکومت نے چارلی ہیبڈو کے حق میں بہت بڑا جلوس نکالاجس میں آس پاس کے ممالک کے سرکاری وفود نے بھی شرکت کر کے چارلی ہیبڈو کی صحافتی دہشت گردی کو جائز اور برحق قرار دیا-

اپنی اِس پُرزور حمایت اور زبردست تحسین سے جرأت پاکرچارلی ہیبڈو نے وہی انسانیت سوز خاکے پھر سے شائع کرنے کی انتہائی مذموم حرکت کرڈالی-چوری اور اُس پر سینہ زوری کی سی اِس حرکت نے فرانسیسی معاشرے کے امن و سکون کو غارت کر کے رکھ دیا ہے-

فرانسیسی حکومت کی اِس حکمتِ عملی پر مجھے جرمن حکومت کی دانش و حکمت کی ایک مثال یاد آئی ہے- اٹھارہ بیس برس پیشتر جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں شیکسپیئر کا ڈرامہ ’’دی مرچنٹ آف وِینس‘‘ سٹیج کرنے اور فلم کی صورت میں دکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی- جرمنی میں ہٹلر کے دورِ اقتدار میں نسل پرستی کی مجنونانہ لہر کے زیرِ اثر یہودیوں کی نسل کشی کے حقائق سے سبق اندوز ہو کر جرمن اربابِ بست و کشاد نے عظیم شیکسپیئر کے اِس کلاسیکی شاہکار پرمبنی فلم دکھانے اور اِس ڈرامے کو سٹیج کرنے پر پابندی لگا دی تھی-

وجہ یہ کہ اِس ڈرامے میں ایک سفّاک ، زرپرست یہودی ،شائی لاک کو بطور وِلن پیش کیا گیا ہے- جرمن انتظامیہ کو اندیشہ تھا کہ اِس مقبولِ عام تمثیل کی نمائش نسل پرستی کے دبے ہوئے رجحان کو پھر سے ہوا دے سکتی ہے- چنانچہ اِس امکان کو معدوم کرنے کی خاطر اِن فن پاروں پر پابندی عائد کر دی گئی- خود میرے ساتھ یہ ہوا کہ ایشیائی اقدار پر کرزن پریس لندن کی شائع کردہ کتاب میں شامل میرے مضمون کے وہ تین صفحات سینسر کی نذر ہو گئے جن میں سلمان رُشدی کی مریضانہ ذہنیت پر بحث کی گئی تھی-

میں سمجھتا ہوں کہ آزادیء اظہار پر یہ پابندی لگانے والوں کی نیّت نیک تھی اور اُنھوں نے یہ پابندیاں انسانی حقوق کے دلی احترام میں عائد کی تھیں- اِسکے برعکس آج کے فرانس میں محسنِ انسانیت ، رحمۃ اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شعوری اور بہ اعادہ و تکرار توہین پر اصرار اور یورپی قیادت اور فرانسیسی عوام کی طرف سے اِس وحشت و بربریت کی حمد و ثنا حیران کُن ہے-

مہذب دُنیا کے ہر معاشرے اور ہر قوم میں چند ایسے مسلمات اور کچھ ایسی بنیادی صداقتیں ہوتی ہیں جن کا احترام ہر حال میں پیشِ نظر رہتا ہے اور وسیع النظری اور آزاد خیالی کے نام پر اِن مسلمہ صداقتوں کو پھر سے متنازعہ فیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی- خود آزادیء رائے کے پُرجوش اور سربہ کف علمبرداران مانی جانی صداقتوں سے چھیڑ چھاڑ سے باز رہتے ہیں- یورپ ہی کی مثال لیں جہاں سے ہم نے آزادیء رائے اور وسیع المشربی کے جدید اور کچھ کچھ مادر پدر آزاد تصورات مستعار لیے ہیں تب بھی جرمن حکومت کی درج بالا مثال چراغِ راہ کا کام دے سکتی ہے-

قرنِ اوّل کے مسلمانوں نے اپنے حُسنِ خیال اور حُسنِ عمل سے یورپ کو تاریکیوں (Dark Ages) سے نکال کر خیر و برکت کی نُورانی فضائوں میں زندگی بسر کرنے کا چلن سکھایا تھا-آج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فرانس پھر سے ایک نئے ازمنہء تاریک (Dark Ages) میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے- فرانس کی آج کی تاریک اندیشی اُس نفسیاتی بیماری کا شاخسانہ ہے جوقرنِ اوّل کے اُن ’’حاملِ خلقِ عظیم اور صاحبِ صدق و یقین ‘‘مسلمانوں کی یاد سے پیدا ہوئی ہے، بقولِ اقبال ’’ظلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں‘‘ -

مسلمانوں نے یورپ کے ازمنہء تاریک کو منور کرنے کے بعد صدیوں یورپ پر حکومت کی تھی- آج کے یورپ میں تاریخِ انسانی کا یہ واقعہ ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر گیا ہے- اِس بیماری سے نجات کی خاطر یورپ کی بیشتر حکومتیں اپنے مسلمان شہریوں کو خُلقِ عظیم کے راستے سے ہٹا کے دہشت گرد بنانے میں مصروف ہیں- آج جب یہ دہشت گرد مشرقِ وسطی کے ممالک سے لوٹ کراپنے اصل ممالک میں آنے لگے ہیں تو یہ حکومتیں اِن دہشتگردوں کو ازسرِنو انسانیت اور اسلامیت کا حقیقی رحمت و برکت کا رُخ دکھانے کی بجائے ویسے کا ویسا ہی کُھلا چھوڑ دیتی ہیں- اِس پر مستزاد یہ کہ چارلی ہیبڈو کے سے دہشت گردوں کی سرپرستی میں اُس حد کو چھونے لگتی ہیں جو ریاستی دہشت گردی قرار پاتی ہے- اخلاقی اور روحانی اصول و اقدار سے عاری اِس سیاست کے باب میں علامہ اقبال کا درج ذیل شعر انتہائی بصیرت افروز ہے: …؎

ہوئی ہے ترکِ کلیسا سے حاکمی آزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیوِ بے زنجیر

آج بھی سیاست کے اِس’’دیوِ بے زنجیر‘‘ کی تباہ کاریوں کیخلاف کلیسا ہی سے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے- زیرِ بحث موضوع پر پوپ کے فرمودات قابلِ غور ہیں- وہ خاکوں کی اشاعت کی بھی مذمت کر رہے ہیںاور امن و محبت کی بھی تلقین کر رہے ہیں مگر فرنگی سیاست تو ترکِ کلیسا پر نازاں ہے- جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے مسلمان سراپا عقیدت و احترام ہیں- عیسی اور مریم کے اسمائے گرامی مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کے مقبول ترین ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں- کوئی مسلمان اِن ہستیوں کی توہین کا تصور تک نہیں کر سکتا- اِن کا احترام ہمارے ایمان کا جزو ہے- اِسی طرح پاکستان کی عیسائی برادری بھی فرانس کی صحافتی دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے مسلمانوں کے دوش بدوش سرگرمِ احتجاج ہے- اِس کے برعکس فرانسیسی سیاست عیسوی اخلاق و کردار سے محرومی پر نازاں ہے-نتیجہ یہ کہ فرانس کے حکمران اپنے معاشرے میں فتنہ و فساد کو ہوا دینے کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کا جزوِ لایُنفک قرار دیتے ہیں- یہ آزادیٔ اظہار نہیں، آزادی ٔ آزار ہے۔ اپنے ہموطنوں کو اذیت میں مبتلا رکھنے کی یہ آزار پسندسیاست جب تک روحانی اصول و اقدار اپنانے سے گریزاں رہے گی تب تک فرنگی سیاست کا بدمست ہاتھی انسانیت کے گلستان و بوستاں اجاڑنے میں مصروف رہے گا!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند