تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی صدر اوبامہ کا خطاب اور پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 3 ربیع الثانی 1436هـ - 24 جنوری 2015م KSA 08:41 - GMT 05:41
امریکی صدر اوبامہ کا خطاب اور پاکستان

امریکی صدر اوبامہ کا کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ خطاب متوازن اور حقیقت پسندانہ تھا انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دفاع کیا۔ گزشتہ سال کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور بہتر مستقبل کی نوید سنائی۔ اوبامہ کا خطاب 31.7 ملین افراد نے لائیو دیکھا جبکہ 2014ء میں یہ تعداد 31.7 ملین تھی۔ سوشل میڈیا پر خطاب کے دوران 2.6 ملین ٹویٹس ہوئیں۔ اوبامہ کا لہجہ پر اعتماد اور پراُمید تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی طویل جنگ سے انہوں نے کچھ مہنگے سبق سیکھے ہیں۔ افغانستان میں جنگ کے آغاز پر 180000 امریکی فوجی برسر پیکار تھے۔ اب صرف 01500 فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ تربیت یافتہ افغان سکیورٹی فورسز منتخب حکومت کا دفاع کر رہی ہیں۔ دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی نئی تشکیل کی ہے۔ خارجہ پالیسی کی دو رنگی کو ختم کرکے اسے شفاف بنایا ہے۔ انہوں نے امریکہ، برطانیہ، چین اور افغانستان کے کامیاب دورے کرکے بڑی عالمی طاقتوں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔

امریکہ اب پاکستان کے قومی مو¿قف کو غور سے سننے لگا ہے۔ مصدقہ رپورٹ کیمطابق امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری نے بھارت کے دورے میں وزیراعظم مودی کو یہ کہہ کر حیران کردیا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کے رابطوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ یہ شواہد جنرل راحیل شریف نے امریکی اہلکاروں کے سامنے رکھے تھے۔ امریکہ افغان جنگ پر ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرچکا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں امریکی فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں لہذا امریکہ اپنی کامیابیاں ضائع نہیں کرنا چاہتا اور اسے پاکستان کے پرخلوص تعاون کی ضرورت ہے۔ جنرل راحیل شریف نے امریکی ضرورتوں کا درست ادراک کرکے اور پاکستان کے قومی مفادات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے امریکہ کیساتھ باہمی اعتماد پر مبنی نئے تعلقات کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں پاک افغان تعلقات میں نہ صرف کشیدگی ختم ہوئی ہے بلکہ ان کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ کاروائی کا حق محفوظ رکھنا تشویشناک ہے۔ یہ حق اقوام متحدہ کی منظوری سے مشروط ہونا چاہیئے تاکہ عالمی امن برباد نہ ہو۔ اگر امریکہ اس اصول پر عمل کرتا رہا تو دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہو جائیگا۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد اور اشتراک کا عکس اوبامہ کے خطاب میں بھی سامنے آیا ہے۔ اوبامہ نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان سے پیرس تک دہشتگردوں کے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کے آرمی سکول پر حملہ کرنے والوں کا تعاقب کیا جائیگا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے سرگرم کردار سے مطمئن ہے لہذا اوبامہ نے حسب روایت پاکستان سے ”ڈومور“ کا مطالبہ نہیں کیا۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم باجوہ نے لندن میں پراعتماد لہجے میں درست کہا تھا کہ اب پاکستان عالمی طاقتوں سے ”ڈومور“ کا مطالبہ کریگا۔ پاکستان نے امریکہ کے مطالبے پر حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوة پر پابندی عائد کر دی ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق جماعت الدعوة کے فنڈز بھی منجمد کر دئیے گئے ہیں۔ اوبامہ بھارت کا دورہ کرنیوالے ہیں۔ اُمید ہے کہ وہ بھارت جاکر بھی سٹیٹ آف یونین خطاب کی روح برقرار رکھیں گے اور متعصب اور بدنیت ہندولیڈروں کے مکر و فریب میں نہیں آئیں گے۔ بھارت حکومت کے سلامتی امور کے مشیر کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ طالبان اگر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں تو اس کا ہندوستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کو علم ہونا چاہیئے کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، سرحد اور علاقہ نہیں ہوتا۔ یہ ناسور پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے اور اقوام عالم متحد اور منظم ہو کر ہی دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اس لحاظ سے امریکی صدر اپنے خطاب میں یکسو اور پرعزم نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی طاقت اور مضبوط سفارت کاری سے پوری دنیا میں دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جائےگا۔ داعش کا پوری قوت سے سامنا کرکے اسے ختم کر دیا جائے گا۔ داعش شام اور عراق کے علاوہ افغانستان اور پاکستان میں بھی ریکروٹمینٹ کر رہی ہے لہذا موجودہ حالات میں امریکی تعاون پاکستان کی سلامتی کیلئے ضروری ہے۔ امریکی ڈرون ٹیکنالوجی دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکہ دہشتگردی کےخلاف جو کاروائیاں کرے گا ان سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

اوبامہ نے پہلی انتخابی مہم کے دوران گوانتا ناموبے جیل بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب انہوں نے ایک بار پھر اپنے خطاب میں اس بدنام زمانہ جیل کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک قیدی پر 3 ملین ڈالر خرچ ہورہے ہیں اور دنیا امریکہ پر تنقید کررہی ہے نیز دہشتگرد اس جیل کا نام لیکر نوجوانوں کو اپنی تنظیموں میں شامل کررہے ہیںلہذا اسے بند کردیا جائےگا۔ اوبامہ نے جرات اور دلیری کے ساتھ ایران پالیسی کا دفاع کیا اور امریکی کانگرس کو باور کرایا کہ انکی حکومت نے کامیاب سفارت کاری کرکے ایران کو ایٹمی صلاحیت منجمند کرنے پر آمادہ کیا ہے لہذا کانگرس نے اگر ایران پر مزید پابندیاں عائد کیں تو وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس بل کو ویٹو کر دیں گے۔ ان کی حکومت نے جو کوششیں اور محنت کی ہے اس پر پانی پھر جائے گا اور ایران دوبارہ ایٹمی پروگرام شروع کردیگا۔ امریکہ اور ایران سے تعلقات میں گرم جوشی پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ پر امن اور مستحکم ہمسایے ہی پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے ضامن بن سکتے ہیں۔ اوبامہ نے اپنے خطاب میں پوری دنیا کو سبق آموز پیغام دیتے ہوئے کہا ہے۔

"When what you are doing does not work for fifty years it is time to try something new".

ترجمہ:۔”جب ایک حکمت عملی پچاس سال کے بعد بھی کامیاب نہ ہو تو وہ وقت ہوتا ہے کہ نئی حکمت عملی کو بروئے کارلایا جائے“۔
اوبامہ نے کیوبا کے ساتھ بھی امریکہ کے تعلقات خوشگوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اوبامہ دنیا میں کشیدگی کم کرکے عالمی امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ فرانس کے ایک میگزین نے حضور اکرمﷺ کے توہین آمیز اور گستاخانہ خاکے شائع کیے جن کی وجہ سے دنیا کے مسلمان اضطراب اور اذیت کا شکار ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ کاش اوبامہ اپنے خطاب میں مذاہب کے احترام کی بات بھی کرتے۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ افسوسناک ہی رہی ہے۔ امریکہ اپنے قومی مفادات کیلئے پاکستان کو استعمال کرتا رہا اور جب پاکستان پر مشکل آئی تو امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں۔ چین دنیا کی بڑی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے اور دنیا پر امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔ امریکہ کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے عالمی وقار کو برقرار رکھنے کیلئے دنیا کے ملکوں سے باہمی احترام کے تعلقات قائم کرے۔ پاکستان کے عوام بڑے اعتماد اور اُمید کیساتھ جنرل راحیل شریف کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ خدا کرے وہ عسکری قوت اور سفارت کاری کا بہترین استعمال کرکے پاکستان کے قومی مفادات کا دفاع کر سکیں۔ پاکستان کے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی جنوبی ایشیاء کی بدلتی ہوئی صورتحال کو نظر میں رکھنا چاہیئے۔تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا قومی فرض ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور بقاءکو ہمیشہ ترجیح دیںاور ہر قسم کی مہم جوئی سے گریز کریں ۔ پاکستان امریکہ کے اتحادی کے طور پر جانی اور مالی قربانیاں دیتا رہا ہے۔ اوبامہ کو بھارت کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی کرنا چاہیئے تھا مگر افسوس امریکہ قربانیاں تو پاکستان سے لیتا رہا ہے مگر اس کا جھکاﺅ ہمیشہ بھارت کی جانب ہی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی اس جانبداری کی بناء پر پاکستان کے عوام کا اعتماد امریکہ پر بحال نہیں ہوسکا۔ اوبامہ کو امریکہ کے اس رویے پر بھی نظرثانی کرنی چاہیئے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/24-Jan-2015/355729
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند