تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پارلیمانی جمہوریت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 3 ربیع الثانی 1436هـ - 24 جنوری 2015م KSA 08:18 - GMT 05:18
پارلیمانی جمہوریت

 

یہ جمہوریت کی ناکامی نہیں ، لیکن جمہوریت کی ایک قسم ، جسے پارلیمانی جمہوریت کہا جاتا ہے، کی ناکامی ضرورہے۔ کم از کم ہمارے ہاں یہ نظام کام کرتا دکھائی نہیں دیتا ہے.... نہ اس کی روایات استحکام پذیر ہیں، نہ اس میں صبر اور نہ ہی اس کی روح کے مطابق فعالیت ہویدا ہے۔ وہ سیاست دان، جن کی کارگزاری اپنے علاقوں اور حلقوں میں تھانے اور پٹوار تک ہی محدود رہی ہو، وہ کس طرح پارلیمانی شیر بن کر اسلام آباد میں کچھ کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟ وہ رہنماء، جنھوں نے اپنی زندگی میں کوئی کتاب نہیں پڑھی اور جن کے لئے کسی بھی قسم کا حصولِ علم ایک اذیت سے کم نہیں، وہ فوجی اور سرکاری افسران کی برابری کس طرح کر سکتے ہیں؟

اس وقت پاکستان ایک بحران کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ابھی ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا جب دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔ نااہل قیادت نہ صرف مسائل کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے نت نئے مسائل پیدا بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہمارے پاس قدرے بہتر قیادت ہوتی تو کیا فوج سے اس طرح محاذآرائی کی جاتی جس طرح موجودہ حکومت نے مشرف کیس میں فوج کے ساتھ تنائو اور اپنے لئے ناروا مشکلات پیدا کیں؟ کیا تھوڑی سی سمجھ داراور دردِ دل رکھنے والی قیادت ماڈل ٹائون سانحے سے بآسانی بچ نہ جاتی اور کیا عمران خان اور ڈاکٹر قادری کے دھرنوں کے دوران اٹھائی جانے والی ہزیمت سے اس کا دامن آلودہ ہوتا؟ اگر ملک کے معاملات چلانے والی ٹیم میں تھوڑی سی بھی صلاحیت ہوتی تو کیا ملک میں موجودہ پٹرول کا بحران، جس کی ہماری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، پیدا ہوتا؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تمام معاملات پارلیمانی جمہوریت کی ناکامی کی کس طرح دلالت کرتے ہیں؟ اگر ہمارے ہاں صدارتی نظام ہوتا تو کیا ہم بہتر حالت میں ہوتے؟ میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ پاکستان کی تاریخ سے دو اہم ترین سبق حاصل ہوتے ہیں...

(1) بلاشرکت ِ غیرے طاقت رکھنے والے آمر، جیسا کہ یحییٰ، ضیاء اور مشرف، ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

(2) سویلین وزیرِ اعظم، جیسا کہ بھٹو اور نواز شریف، بھی منتخب ہونے کے بعد خود کو ہر قسم کی پابندی اور احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، چنانچہ وہ بھی ملک وقوم کے لئے بہتر نہیں۔ اگر کوئی طاقتور صدر ہوتا تو بھٹو اپنی من مانی کرنے کے لئے آزاد نہ ہوتے۔ اسی طرح نواز شریف بھی اُس طرح حماقتیں کرتے ہوئے خود پر اعتماد کرنے والے رائے دہندگان کو مایوس نہ کرتے اگر اُن کو چیک کرنے والی کوئی طاقت ان کے پر سر ہوتی۔ اسی طرح پارلیمنٹ بھی خالی شوکیس ثابت نہ ہوتی اگر اسے تحلیل کرنے کی طاقت، جیسا کہ آرٹیکل 58 2(b)، صدر سے واپس نہ لی جاتی۔

شاید ہمارے ماحول میں کوئی خامی ہے کہ ہمارے ہاں عظیم قائد، جیسا کہ اتاترک، ڈیگال، سنگاپور کے لی کان یو (Lee Kuan Yew ) یا جنوبی کوریا کے پارک چنگ ہی (Park Chung Hee) پیدا نہیں ہوتے۔ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران غلام محمد، اسکندر مرزا، ایوب، یحییٰ اور اسی طرح کے دیگر رہنما ءہی ہمارے نصیب میں تھے۔ اسی طرح ہماری آب و ہوا یا مٹی کی کسی نامعلوم خاصیت کی وجہ سے ہمارے ہاں پارلیمانی جمہوریت بھی پروان نہیں چڑھ پائی۔

ہمیں جتنے بھی حکمران ملے، اُن میں بھٹو سب سے بہترین تھے ، لیکن وہ بھی وزیر ِ اعظم بننے کے بعد اپنے ذاتی عزائم اور فطری مطلق العنانیت کو لگام نہ دے سکے۔ وہ اپنی خواہشات کا بھی گلا نہ گھونٹ پائے اور بھول گئے کہ دوسروں پر حکمرانی کرنے کے لئے اپنے اوپر حکمران ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جمہوریت کو تقویت دینے کی بجائے ان کے دور نے صرف جنرل ضیا ءکا راستہ ہموار کیا اور ضیا ءکے ہموار کردہ راستے پر آج بھی ہمارے قدم لہولہان ہیں۔ ضیا ءنے ہمیں جہاد، اسلامی انتہا پسندی اور ، مبادا کوئی فراموش کردے، نواز شریف، جی ہاں یہ قوم کو ضیاء کی ہی دین ہے، عطا کئے۔

اب ان مہاخرابیوں کا حل کیا ہے؟ زیادہ انقلابی جدوجہد نہیں، صرف اپنے آئین پر کچھ نظر ِثانی، تھوڑا سا ردوبدل، تھوڑی سی تبدیلی ہمیں فرنچ سسٹم جیسا نظام دے سکتی ہے..... براہ ِ راست منتخب شدہ صدر، جو دفاع ، خارجہ پالیسی اور سروس چیفس کی تعیناتی کا اختیار رکھتا ہو، جبکہ قومی اسمبلی حکومت کے روز مرہ کے معاملات چلانے کے لئے موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے بڑھتی ہوئی نااہلی اور خراب ہوتے ہوئے حالات نے وزیر ِ اعظم اور ان کی حکومت کو ایک کونے میں دھکیل دیا ہے جبکہ خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات فوج کے اختیار میں چلے گئے ہیں ، تاہم یہ ’’انتظام‘‘ وقتی اور ہنگامی ہے۔ اس کا دارومدار صرف آرمی چیف کی شخصیت پر ہے وگرنہ کوئی مشرف جیسا طالع آزما ہوتا تو کب کا حکومت پر قبضہ کرچکا ہوتا جبکہ نواز شریف ایک مرتبہ سرور پلیس کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا رہے ہوتے۔ کیا ہمیں اس جزوقتی انتظام کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی خوش قسمتی پر تکیہ کیے بیٹھے رہیں یہاں تک کہ کسی خوش گوار صبح، کوئی جنرل ا ٹھے اور حکومت کی چھٹی کرادے؟ کیا ہمیں تخیل اور عقل کا بہتر استعمال زیب نہیں دیتا؟ کیا سیاسی معاملات میںدماغ سے کام لینا اس ملک میں ممنوع ہے؟ آخر ہماری نااہلی کا کوئی توحل ہوگا! سوچنے اور تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے؟

یقیناً، جیسا کہ ہمارا ماضی گواہ ہے، ہمیں فوجی حکومت درکار نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں مزید خرابیاں ہی پیدا ہوں گی۔ لیکن دوسری طرف ہمیں ایسے وزیر ِا عظم کی بھی ضرورت نہیں جو ہر کام میں ون مین شو چاہتا ہو حالانکہ بارہا ثابت ہو چکا ہو کہ وہ کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں.... کم از کم ایسے معاملات جن میں ذہن پر زور دینے کی ضرورت ہو۔ ویسے بھی انسان کو ایسے کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے جن کے لئے وہ بنا ہی نہیں۔ جنرل ضیا کی مثال سے بڑھ کر فوجی حکومت کے خلاف کوئی دلیل نہیں ۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہی آپ فوجی حکومت کی برائیوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ہاؔں پارلیمانی جمہوریت کی خامی اجاگر کرنے کیلئے وہ تصویر ہی کافی ہے جس میں نواز شریف جی ایچ کیو میں جنرل راحیل کے برابر میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وزیر ِا عظم کا سوچ سے عاری چہرہ سب کہانی کہہ رہا ہے۔ جب ہمارے دور کی حتمی تاریخ لکھی جائے گی تو یہ تصویر کئی درجن صفحات رقم کرنے سے بچالے گی۔ یہ پاکستان کے لئے بھی ایک المیہ ہے اور وزیر ِا عظم کے عہدے کے لئے بھی۔ ہم بھی دکھی ہیں کیونکہ وزارت ِا عظمیٰ کی اس طرح بے توقیری کرنے کا کسی کو حق نہیں.... وزیر اعظم کو بھی نہیں۔

کیا وقت نہیں آگیا جب اس دوطرفہ اذیت کا خاتمہ کردیاجائے؟پائوں کا کانٹا نہ نکالنا اور لنگڑاتے پھرنا کہاں کی دانائی ہے؟ پی پی پی اپنے پانچ سال پورے کرگئی ۔ اس کے بعد انتقال ِ اقتدار کو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا گیا۔ اس وقت پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے اپنے دوسال ہی پورے کئے ہیں کہ لوگ چھتوںپر سے اذانیں دینے کا سوچ رہے ہیں۔ جب کچھ بھی بن نہ پڑے تو ہم خالق ِ کائنات کی طرف دیکھتے ہیں۔ پی پی پی نے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی صورت میں ہمارا جمہوریت کا شوق پورا کردیا تھا،اب ان دوسالوں میں رہی سہی کسر بھی پوری ہوچکی ہے۔ایک وقت تھا جب نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے اور اُنہیں جنرل حمید گل جیسے اساتذہ سے اکتساب فیض کے مواقع حاصل تھے....

کیا سنہرے دن تھے وہ بھی۔ 1990ء کے انتخابات اور آئی ایس آئی کی تجوریوں کے منہ کھل گئے۔ وہ دن اور آج کا دن، سیاست میںہن برستا ہے.... بلکہ برسات لگی ہے۔ کبھی کہا گیا کہ ’’پی پی پی اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے‘‘۔ اب سوال یہ آن کھڑا ہوا ہے کہ کیا موجودہ پارلیمانی جمہوریت اور پاکستان اکٹھے چل سکتے ہیں؟ اس مسئلے کا حل وہی ہے جو جنرل راحیل شریف نے موجودہ وزیرِاعظم اور ان کی حکومت کو ’’تعلیم ِ بالغاں‘‘ کے سلسلے میں ایک سبق کی صورت دے دیا ہے۔ کیا مزید اسباق کی حاجت ہے؟ میرا نہیں خیال کہ کچھ کسر رہ گئی ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی تصورات مدہم ہوگئے ہیں۔ اس تمام فعالیت کا باعث دو عامل طاقتیں تھیں.... عمران اور قادری۔ فی الحال ان میں سے ایک ازدواجی مصروفیت سے سرنہیں اٹھا پا رہا تو دوسرے کو دھرنوں کی تھکاوٹ ہوگئی ہے۔ تھکاوٹ تو خاں صاحب کو بھی تھی لیکن..... کیا اب ایک مرتبہ پھر وہ تال میل کرتے ہوئے حکومت کی نیند حرام کر دیں گے؟ کیا اذانیں دی جائیں گی؟ کیا پھر بقول عدم’’بڑی رونقیں ہیں فقیروں کے ڈیرے‘‘ یا پھر ہم معقول فیصلے کرتے دکھائی دیں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند