تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چینی قیادت سے کچھ عقل بھی سیکھ لیں!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 ربیع الثانی 1436هـ - 28 جنوری 2015م KSA 09:43 - GMT 06:43
چینی قیادت سے کچھ عقل بھی سیکھ لیں!

چند برس قبل چینی وزیر اعظم نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک چینی کہاوت سنائی تھے. اسکا مفہوم تھا کہ "گھر میں لگئی ہوئی آگ دور کے پانی سے نہیں بجھائی جا سکتی." مارچ 2000ء میں امریکی صدر کلنٹن نے بھی ٹی وی اور ریڈیو پر براہ راست پاکستانی قوم سے خطاب کر کے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ہم کیسے اپنے آپ کو نئی دنیا میں ڈھالیں اور یہ کہ ایک ذمہ دار قوم بن کر ابھرنا ہمارے ہی فائدے میں ہے. مگر ہم نے نہ سمجھنا تھا اور نہ ہی آج تک سمجھے. ہمارے نزدیک تو یا آپ ہمارے دوست ہیں یا پھر دشمن. صدر بس کی طرح درمیان میں ہمارے نزدیک کوئی جگہ نہیں اور یہی سوچ ہماری فارن پالیسی کا محور ہے. یہ اور بات ہے کہ بش ایسا کہنا افوورڈ کر سکتا تھا، ہم نہیں کر سکتے.

ہم نے فارن پالیسی کیسے چلائی ؟ ہنری کسنجر نے امریکہ میں پاکستان کی سفیر عابدہ حسین کو بتایا تھا کہ انہوں نے کبھی زوالفقار علی بھٹو کو عبرتناک مثال بنانے کی دھمکی نہ دی تھی، اسکا چرچا انہوں نے خود کیا تھا، انہوں نے تو بھٹو سے صرف یہ کہا تھا کہ اگر پاکستان نیوکلئر بم بنانے کی کوشش کرے گا تو اسکے لیے مشکلات پیدا ہوں گی. اب عبرتناک مثال بنانے اور مشکلات پیدا کرنے میں بہت فرق ہے لیکن ہم کیوں اس فرق کو سمجھیں!

شاید چینی لیڈر پاکستان کو ایک پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ خطے میں اپنے ہمسائے بھارت سے دوستی کرنے کا سوچے، نہ کہ ہر بار ہزاروں میل دور بیٹھے امریکہ سے مدد مانگے. چین نے پاکستان کو یہ پیغان دینے سے قبل یہ کام خود کر کے دکھایا. تائیوان سے لے کر جاپان اور بھارت تک سے اپنے تعلقات میں بہتری پیدا کی. چین نے تائیوان پر قبضہ نہیں کیا کیونکہ اسکو علم ہے کہ اس سے اسکی امریکہ سے اربوں ڈالرذ کی سالانہ تجارت کو نقصان ہوگا. کسی نے چین کو بے غیرتی کے طعنے نہ دیے. بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات کو بڑی حد تک حل کر لیا جو کہ 1962ء کی جنگ کا سبب بنے تھے. اب ہم اسی چین سے کہتے ہیں کہ وہ ہماری خاطر بھارت اور امریکہ سے دشمنی مول لے اور اپنے تعلقات خراب کرے کیونکہ ہم اسکے دوست ہیں اور ہماری خاطر بھارت اور امریکہ سے دشمنی مول لے اور اپنے تعلقات خراب کرے کیونکہ ہم اسکے دوست ہیں اور ہماری امریکہ اور بھارت سے نہیں بنتی.

یقینا چینی ہنستے ہوں گے کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں اور شاید اسی تناظر میں چینی لیڈر نے وہ قول ہماری پارلیمنٹ کو سنایا تھا کہ ممکن ہے ہمیں کچھ عقل آ جائے لیکن ساون کے اندھوں کا ایک کیا بگاڑ سکتے ہیں.
ایک اور سن لیں. صدر نکسن کی ہدایت پر ہنری کسنجر نے چین کے سفیر کو بلا کر کہا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ایک محاذ کھولیں تاکہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج پر دباٶ کم ہو. اتنی دیر میں وہ اپنا بحری بیڑا روانہ کر رہے ہیں. چینی سفیر نے جواب تک نہ دیا کیونکہ چین کو خطرہ تھا کہ اس صورت میں روس اس کے ساتھ محاذ کھولنے کو تیار ہوگا. چین نے پاکستان کی خاطر بھارت اور روس سے لڑائی کا خطرہ مول نہ لیا. امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان چند ماہ تک جنگ تو لڑے گا اور اس دوران بحری بیڑا پہنچ جائے گا. چند دن بعد پتہ چلا کہ بحری بیڑے کی ضرورت ہی نہیں رہی. آج تک امریکیوں کو طعنے ملتے ہیں کہ انکا بحری بیڑا کیوں نہ پہنچ سکا. امریکی حیران ہوتے ہیں کہ بحری بیڑے کے پہنچنے سے قبل تو پاکستان ہتھیار ڈال چکا تھا. بحرا بیڑا کوئی ایف سولہ طیارہ تو تھا نہیں کہ چند گھنٹوں میں اڑ کر پہنچ جاتا. مگر ہم آج تک ناراض ہیں.

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہو چکا ہے کہ ہم جیسے ذاتی دوستی میں ایک دوسرے سے توقعات کے پہاڑ کھڑے کر لیتے ہیں اور دوستوں سے توقعات پوری نہ ہونے پر ناراض ہو جاتے ہیں، ایسے ہی ملکوں کے ساتھ دوستی میں چاہتے ہیں. ایک ٹی وی شو میں ایک صاحب نے فرمایا "فارن پالیسی عزت اور غیرت کا معاملہ ہے." میں نے حیران ہو کر کہا، دنیا کے کتنے ممالک اس نظریے پر چلتے ہوں گے. اس طرح تو کوئی بھی ملک دوسرے سے تعلقات نہیں رکھ سکتا. پھر تو چین، بھارت، برطانیہ ، جرمنی اور فرانس میں غیرت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے جو امریکہ کے کہنے پر چلتے ہیں. یہ ممالک بے غیرت یا کمذور ہرگذ نہیں بلکہ سمجھدار ہیں. انہیں پتہ ہے کہ زیادہ فائدہ کس بات میں ہے. اگر بھارتی وزیر اعظم مودی کو روایت کے برعکس ایئرپورٹ پر جا کر امریکی صدر کا استقبال کرنا پڑے تو وہ کرتا ہے. مودی کو اپنے فائدے سے غرض ہے، نہ کہ کسی کے مزاق اڑانے سے. ہم سمجھتے ہیں کہ چین امریکہ سے نہیں دبتا. چین نے پاکستان کو ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے پانچ سو ملین ڈالر کا قرض دینا تھا. امریکہ نے پیغام بھیجا کہ قرض نہیں دینا کیونکہ امریکہ اس پائپ لائن کے خلاف ہے. چین نے اگلے روز اسلام آباد کو بتا دیا کہ ہم امریکہ کو انکار نہیں کر سکتے. امریکہ نے بھارت کو پیغام بھیجا کہ ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے سے نکل جاٶ. بھارت سمجھدار نکلا. اس نے کہا کہ پھر میری انرجی ضروریات کا کیا بنے گا. امریکہ نے بھارت کے ساتھ سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کر لیا. آپ اور میں اسے بے غیرتی کہیں گے لیکن دنیا اسے سمجھداری کہتی ہے. امریکہ سے تعلقات بھی بچا لیے اور سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی بھی حاصل کرلی.

امریکہ نے عراق پر حملہ کرنا تھا تو اس نے برطانیہ اور یورپی ملکوں کو کہا کہ اس جنگ میں شمولیت اختیار کرو، تیس لاکھ یورپین نے مظاہرے کیے. ملین مارچ ہوئی لیکن انکی حکومتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں کیونکہ انہیں علم تھا کہ معاملہ غیرت بے غیرتی کا نہیں بلکہ وہ ممالک امریکہ سے دوری افورڈ نہ کر سکتے، حالانکہ برطانیہ ، جرمنی کو یہ اندیشہ نہیں تھا کہ اگر عراق وار میں فوجیں نہ بھیجیں تو امریکہ جاپان کی طرح ان پر ایٹم بم مار دے گا. فرانس نے اس جنگ میں شمولیت سے انکار کیا لیکن بعد میں امریکہ کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگی. جاپان اور جرمنی میں آج بھی امریکی اڈے موجود ہیں. عرب ممالک میں بھی اڈے موجود ہیں وہاں کوئی انہیں بے غیر نہیں کہتا. سب سمجھتے ہیں کہ طاقتور کے ساتھ دوستی کر کے ہی کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے نہ کہ پنگا لے کر، جس میں ہم کمال رکھتے ہیں.
آج جب اوباما بھارت میں ہیں اور ہمارے ہاں مسلسل سیاپا ہورہا ہے کہ وہ یہاں کیوں نہیں آیا تو کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم نے امریکہ سے وہ فوائد کیوں نہیں اٹھائے جو آج بھارت،

چین یا خطے کے دیگر ملک اٹھا رہے ہیں. عابدہ حسین کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پاکستان میں اپنے لوگوں کو بتا رہے تھے کہ افغانستان کی جنگ ہماری جنگ تھی اور اگر نہ کرتے تو روس ہمارے ملک پر قبضہ کر لیتا. جب کہ عابدہ حسین کے مطابق انہیں امریکہ تعینات ہونے سے قبل فارن آفس نے جو بریفنگ دی تھی اسکا بنیادی نکتہ ایک ہی تھا کہ ہم نے امریکہ کی جنگ لڑی تھی اور اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں، لہذا اب انکی ہر بات اور ہر کام پر امیکہ اپنا سر ہلاتا رہے، وگرنہ ہم اس پر بے وفائی کا الذام لگائیں گے. جب بھی عابدہ حسین امریکی لیڈروں سے ملتیں تو وہ یہی کہانی دہراتیں کہ ہم نے آپ کے لیے افغانستان کی جنگ میں کیسی کیسی قربانیاں دی تھیں. امریکی ہنستے کہ جناب اس جنگ کے بدلے ہم نے آپ کو اسلحہ دیا تھا، ڈالروں کی بوریاں دی تھیں. پھر وقت بدل گیا تو امریکی ترجیحات بھی بدل گئیں. اگر پاکستان مزید امداد اور امریکی دوستی کا خواہاں ہے تو پھر اسے خود کو امریکہ کی خواہشات کے مطابق ڈھالنا ہوگا جیسے امریکیوں نے جنرل ضیاء کے مطالبے کے بعد اپنے آپ کو ڈھالا تھا. جب جنرل صاحب نے فرمایا تھا کہ تین سو ملین ڈالرذ کی امداد تو بہت کم ہے. ہمیں مزید نوٹ دکھاٶ تاکہ ہمارا موڈ بنے. امریکی سمجھ چکے ہیں کہ اس وقت کو نوٹ دکھاٶ تو انکا موڈ بن جاتا ہے.

دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت نے تین جنگیں لڑیں لیکن اس طرح کی نسل کشی نہیں کی جیسے یورپ میں کی گئی . یورپ میں نپولین سے لے کر جنگ عظیم اور اور دوم میں کروڑوں لوگ مارے گئے. ایک دوسرے کی نسلوں تک کو ختم کیا گیا. پاکستان اور بھارت کی دشمنی برطانیہ اور جرمنی یا جرمنی اور فرانس کی دشمنی سے ذیادہ نہیں مگر ان ملکوں نے نئی نسل کو اپنے ماضی کا غلام نہیں بنایا. جاپانی ایٹم بم کو لے کر بیٹھ نہیں گئے بلکہ اسی امریکہ کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا.

پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کا بہتر ہونا ہمارے اپنے مفاد میں ہیں. بھارت سے لڑنے کے لیے جو ہم نے امریکہ کے ساتھ کمپرومائذ کر رکھے ہیں. اس سے بہتر ہے کہ بھارت سے براہ راست تعلقات بہتر کر کے مسائل حل کر لیے جائیں اور سب سے پہلے دونوں ممالک پراکسی وار کے ذریعے ایک دوسرے کے بے گناہ شہری مارنا بند کریں. پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا ہمیشہ سے طاقتور کی ہے. جس دن آپ طاقتور ہو جائیں گے، اس دن آپ بھی اپنی شرائط پر دنیا کو چلا لیجئے گا. تب تک چینی قیادت کے اس قیمتی مشورے پر غور کریں کہ:
“A Distant water supply is no good in putting out a nearby fire.”

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند