تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اوباما کے دورے، سعودی شاہ کی نماز اور مودی کی چائے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 8 ربیع الثانی 1436هـ - 29 جنوری 2015م KSA 19:09 - GMT 16:09
اوباما کے دورے، سعودی شاہ کی نماز اور مودی کی چائے

سعودی عرب کے شاہی محل میں امریکی صدر اوباما کی استقبالیہ تقریب کے دوران عین اس وقت آذان کی آواز سنائی دینے لگی جب وہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام سے مل رہے تھے ۔ آذان کی آواز آتے ہی شاہ سلمان اور وہاں موجود تمام سعودی حکام نماز کے لیے روانہ ہو گئے ۔سعودی شاہ سلمان اس قدر بے پروائی سے امریکی صدر اور ان کے وفد کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے کہ جیسے ان کو ذرا برابر بھی پروا نہ ہو کہ ان کا مہمان کون ہے۔ ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائی جانے والی ویڈیو میں واضح طور پریہ دیکھا جا سکتاہے کہ اس دوران امریکی صدر اوباما ، اہلیہ مشعل اوباما اور چند امریکی اہلکار حیران و پریشان کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔پورے ہال میں صرف اوباما اور امریکی اہلکار ہی موجود تھے جو سعودی میزبانوں کے آنے تک آپس میں گفتگو کرتے اور انتظار کرتے نظر آئے۔

سپر پاور کے صدر کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہونے کے لیے چلے جانا ایک منفرد واقعہ ہے اور اس سے سعودی شاہ سلمان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر تو بڑی بات چھوٹے درجے کے عہدیداروں کو بھی دنیا بھر میں دیے جانیوالے پروٹوکول کے تناظر میں یہ شاید عجیب و غریب واقعہ ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسے واقعات کا تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ چشم فلک نے ایسے نظارے بھی دیکھے ہیں کہ جب سپر پاور کے صرف دست راست برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی آمد کے موقعے پر فیصل مسجد میں آذان تک نہیں ہونے دی گئی تھی ۔ خیر اس کو چھوڑیں ۔امریکی صدر اوباما بھارت کا دورہ مختصر کرکے سعودی عرب کے نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ملنے پہنچے تھے۔عالمی میڈیا کی جانب سے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے اہم ترین قرار دیا جا رہا تھا اور تبصرہ نگاروں کا خیال تھا کہ نئے سعودی شاہ امریکی صدر کے ممنون نظرآئیں گے کہ ان سے شاہ عبداللہ کی تعزیت کرنے اور حکمرانی سنبھالنے پرمبارکباد دینے خود اوباما ریاض پہنچیں گے ۔اسی تقریب میں ایک اور صورتحال ایسی بھی سامنے آئی کہ جس نے صدر اوباما کی اہلیہ مشعل کو پریشان کر دیا۔

ہوا کچھ یوں کہ انھوں نے پورا لباس پہننے کا تو اہتمام کر رکھا تھا لیکن سر پر سکارف نہیں لیا۔ سعودی حکام نے اسے ملکی ثقافتی روایات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انھیں جان بوجھ کرنظر انداز کیااور مسز اوباما کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملائے۔ سعودی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مشعل اوباما کی جانب سے سر نہ ڈھانپنے کو بھی شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک سعودی ٹی وی چینل نے اس تقریب کی ویڈیو دیکھاتے ہوئے مشعل اوباما کے چہرے کو دھندلا کر دیا ۔ سعودی عرب کے شہریوں کی جانب سے مشعل اوباما کی ایسی تصاویر شئیر کی گئیں جن میں انھیں پوپ بینیڈکٹ سے ملاقات کے دوران سر ڈھانپے دکھایا گیا۔ امریکی صدر کو شاہ سلمان کی ” یہ حرکت “ کچھ زیادہ ہی عجیب لگی ہو گی کیونکہ امریکیوں کو اس طرح کے سلوک کی امید نہیں ہوتی ۔ اور تو اور صدر اوباما بھارت سے سیدھا سعودی عرب پہنچے تھے جہاں کا وزیر اعظم ان کو رام کرنے کے لیے خود چائے تک بناتا رہا۔مودی امریکی صدر کے استقبال کے لیے تمام تر سفارتی آداب کو بالائے تاک رکھتے ہوئے خود جہاز تک پہنچے اور رسمی مصافحے کی بجائے ” گلے لگا “ کر دنیا کو حیران کر دیا۔

اوباما کی آمد کے موقعے پر پورے بھارت میں ہلچل مچی ہوئی تھی ۔ نئی دہلی کے شہریوں کو تو سڑکوں کی بندش اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا ہی پڑا اس کے ساتھ ساتھ شہر کے بندر اور گائے تک زیر عتاب نظر آئیں ۔فضاءکو نو فلائی زون قرار دیا گیا ۔ امریکی صدر سے پہلے ان کے سینکڑوں سکیورٹی اہلکار اور سراغ رساں کتے دہلی پہنچے جنکے لیے ایک پورا ہوٹل بک کرایا گیا۔ صدر اوباما نے بھارت میں آمد ورفت کے لیے اپنی گاڑی امریکہ سے منگوائی ۔ بھارتی وزیر اعظم مودی اس دورے کے دوران خوشی سے اس قدر نڈھال تھے کہ دن میں چھے چھے بار خصوصی طور پر تیار کیے گئے جوڑے بدلتے رہے جن کی مالیت لاکھوں میں تھی ۔ وزیر اعظم ہاوس کے لان میں دونوں سربراہان نے چہل قدمی کے دوران علیحدگی میں بات چیت بھی کی ۔ اس پوری ملاقات کے دوران مودی کو انتہائی باادب کھڑے اوباما کی باتیں سنتے دیکھائی دئیے۔صدر اوباما بھارتی یوم جمہوریہ کی پریڈ کے دوران کمال بے نیازی سے چیونگم چباتے رہے ۔جیسے بھارتی میڈیا پر خوب خوب ڈسکس کیا گیا حتی کہ مسز مشعل اوباما کی بوریت کا بھی تذکرہ ہوا جو پوری پریڈ کے دوران ان کے چہرے پر طاری رہی تھی ۔امریکی صدر اوباما نے ایٹمی معاہدے ، تجارت بڑھانے اور سلامتی کونسل میں مستقل نشت کی حمایت کا اعلان کرکے بھارتیوں کو خوش تو کر دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی نصیحتیں بھی کیں ۔ کٹڑ مذہبی خیالات رکھنے والے بھارتی وزیر اعظم مودی کو مذہبی رواداری کا سبق سکھایا ،بڑی طاقت بننے کے نشے کا شکار بھارت کو یہ بھی یاد دلایا کہ بڑا بننے کے لیے پہلے ”ذمہ دار“ ملک بنو۔بھارتی امریکی صدر اوباما کے اس اعلان پر بھی ناخوش دیکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے ” تاج محل“ دیکھنے کی بجائے دورہ مختصر کرکے سعودی عرب جانے کو ترجیح دی۔

صدر اوباما کے دورہ سعودی عرب سے اگر ہم اپنے لیے کوئی سبق حاصل کرنا چاہیں تو وہ یہی ہے کہ دنیا صرف اس کی عزت کرتی ہے اور کوئی مقام دیتی ہے کہ جو اپنے ہاں کردار میں مضبوطی اور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتا ہے۔اوباما کے پاکستان نہ آنے کا رونا روناایک عجیب سی بات ہے۔او بھائی جان جب ہمارے حکمران صرف ایک فون کال پر پوری کی پوری فارن پالیسی تبدیل کرنے پر تیار بیٹھے ہوں تو کون آپ کو قابل عزت مقام دینے پر تیار ہوگا۔ اپنی اہمیت اور قدر خود بنانی پڑتی ہے ۔ جس قوم کا صدر امریکی سے درخواست کرتا ہو کہ اس کی مدد کریں تاکہ وہ اپنی ہی فوج کو لگام دے سکیں تو کیا اس کو انتظام کرنا چاہیے کہ کسی بڑے ملک کا حکمران انھیں عزت دے گا۔جب حکمرانوں کی کرپشن کے قصے امریکیوں کو ازبر یاد ہوں گے اور انھیں یقین ہوگا کہ کسی نائب وزیر خارجہ کو بھیجنے پر بھی بات مان لی جائے گی بلکہ جو کہا بھی نہ گیا ہو وہ بھی ماننے کو تیار بیٹھے ہوں گے تو جناب امریکی صدر کو اپنا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ وہ تو وہیں جائیں گے جہاں ان کے جانے سے فائدہ ہوگا ۔سعودی شاہ سلمان کے باوقار انداز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر آپ کردار میں مضبوط ہوں تو سپر پاور کے ساتھ ایسے بھی ڈیل کیا جا سکتا ہے۔

کاش ہمارے موجود حکمران اس بات کا پتا کرائیں کہ وہ کیا وجہ تھی کہ صدر ایوب کے دورہ کے موقعے پر خود امریکی صدر استقبال کے لیے آیا تھا اور نیویارک کی سڑکوں کے کنارے شہری معزز مہمان پرپھول برسا رہے تھے۔ جی ہاں شاید ہم تب مانگنے والے نہیں تھے بلکہ محنت سے کما کر کھایا کرتے تھے ۔کاش ہم اب بھی ایسے ہو جائیں تو ہمیں پھر کسی امریکی صدر کے نہ آنے پر افسردہ نہیں ہونا پڑے گا بلکہ شاید ہمارا کوئی حکمران بھی امریکی صدر کو اکیلا چھوڑ کرکسی ضروری کام سے چلا جائے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند