تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اوباما سے درخواست
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 9 ربیع الثانی 1436هـ - 30 جنوری 2015م KSA 08:26 - GMT 05:26
اوباما سے درخواست

صدر بارک اوباما کی دلی یاترا کے بڑے چرچے ہیں، میں نے بھی انہیں چند ڈائیلاگ بولتے ہوئے سنا ہے۔ اوباما کے زیادہ تر ڈائیلاگ فلمی تھے۔ ان کے ان ڈائیلاگ پر شاہ رخ خان اور عامر خان بہت خوش ہیں۔ شاہ رخ خان تو اتنے خوش ہیں کہ انہوں نے یہ تک ٹویٹ کر دیا ہے کہ اوباما اگلی مرتبہ چھیاں، چھیاں پر ڈانس بھی کریں گے۔ دورۂ بھارت کے دوران اوباما کی انسانی حقوق کی رگ بھی پھڑک اٹھی، انہیں اچانک یاد آیا کہ…’’رکشہ چلانے والے غریب، گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور سائیکل پر لنچ پہنچانے والوں کے خواب، ہمارے خوابوں جیسے ہوتے ہیں۔ دنیا میں آج بھی بہت عدم مساوات ہے لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں ایک باورچی کا بیٹا امریکہ کا صدر بن سکتا ہے اور ایک چائے بیچنے والا (مودی) وزیراعظم بن سکتا ہے۔ بھارت اور امریکا ہی وہ ممالک ہیں جہاں سب کو برابر کے مواقع دستیاب ہیں۔‘‘

دورۂ بھارت کے موقع پر صدر اوباما نے چائے بھی پی، کھانا بھی کھایا، سول نیوکلیئر پروگرام کا معاہدہ بھی کیا اور بھارت کو قابل اعتماد دوست قرار دیا۔ خطّے میں جمہوریت کے علاوہ کچھ دوسرے کاموں کا ٹھیکیدار بھی قرار دیا۔ یہ سب کچھ کرنے کےبعدشاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ خواتین و حضرات! میں لمبی چوڑی باتوں کا قائل نہیں ہوں، میں صدر اوباما سے مختصر سی درخواست کروں گا۔ اگرچہ میرا یہ مقام نہیں ہے کہ میں دنیا کے طاقتور ترین ملک کے سربراہ سے درخواست کروں، وہ امریکہ کے صدر ضرور ہیں مگر رنگ کے ہاتھوں مار کھا گئے ہیں۔ میں کم از کم رنگ، روپ کے اعتبار سے ان سے آگے نکل گیا ہوں مگر یہ سچ ہے کہ وہ اس امریکا کے سربراہ ہیں جو طاقتور ترین ملک ہے۔دنیا کے پونے دو کروڑ امیر ترین لوگ امریکہ میں رہتے ہیں۔

میری اوباما سے درخواست ہے کہ وہ بے شک انڈین فلموں کے ڈائیلاگ بولیں مگر یہ تو نہ کہیں کہ دنیا میں صرف بھارت اور امریکہ ہی ایسے ممالک ہیں جہاں عام آدمی سربراہ بن سکتا ہے۔اس بات سے کئی ممالک ناراض ہوں گے، خاص طور پر ایران جیسا دشمن ملک بھی ناراض ہو جائے گا۔ صدر اوباما کی معلومات تو بہت وسیع ہوں گی مگر شاید انہیں یہ خبر نہ ہو کہ الیکشن سے قبل بھارت کے خفیہ کام کرنے والوں نے ساڑھے چار ارب روپے صرف اس بات پر لگا دیئے تھے کہ مودی چائے فروش کا بیٹا ہے۔ حضور! آپ کو اپنا تو پتہ ہی ہو گا کہ محض آپ کی رنگت کے نام پر پنٹاگون کو کیا کچھ کرنا پڑا۔ اب آپ بھارت کو افغانستان میں قابل اعتماد اتحادی دیکھنا چاہتے ہیں تو ایسے موسم میں میری آپ سے درخواست ہے کہ پاکستان میں بہت سے افغانی آباد ہیں، جن میں سے چند ایک شدت پسندی کرتے ہیںانہیں آپ بھارت لے جائیں تاکہ پاکستان صاف ہو جائے۔ پاکستان نے نہ صرف خطّے میں بلکہ دنیا میں امن کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آپ ان قربانیوں کو نمستے کہہ کر بھارت کے نام کر دیں، بھگوان بھلی کرے گا۔ آپ سے باقی کام نہیں ہو سکتے تو کم از کم ان شدت پسندافغانیوں کو پاکستان سے بے دخل کر دیں، اللہ آپ کو مزید کامیابیاں دے۔ مجھے امید ہے کہ کسی نہ کسی سادھو نے آپ کو یہ دعا دے دی ہو گی کہ بھگوان اگلے جنم میں تمہاری رنگت درست کرے اور تمہیں گنگا کے قریب رکھے۔اوباما نے بھارت میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بڑی باتیں کیں، ہو سکتا ہے کہ انہیں بھارتی خواتین کے علاوہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والیوں کو بھی خوش کرنا ہو، ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں ہو کہ پاکستانی خواتین باقی باتیں بھول کر یہ کہیں کہ…’’

اڑی اے اوباما بڑا چنگا اے، ساہڈی گل کردا اے۔‘‘ (اے عورت، اوباما بڑا اچھا آدمی ہے، ہمارے حق کی بات کرتا ہے)۔جس وقت اوباما عورتوں کے حوالے سے بھاشن دے رہے تھے، پاکستان میں ایک خاتون ثمینہ خاور حیات عدالت میں سرخرو ہو رہی تھی، اس شیر دل خاتون پر الزام تھا کہ اس کی ڈگری جعلی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے تمام باتوں کو جھوٹ قرار دے دیا۔ ثمینہ خاور حیات کو فتح مبارک ہو۔ اس خاتون کے عزم اور حوصلے کو سلام کرنا چاہئے کہ اس نے مخالف حکومت کی تمام تر سختیاں برداشت کیں۔ اپنی جائیدادوں کے نقصان کئے مگر جھکنے سے انکار کر دیا۔ عدالت کو چاہئے تھا کہ وہ الزام لگانے والوں کو سزا دیتی تاکہ آئندہ کوئی کسی کی عزت نہ اچھالے، کوئی کسی کو بدنام نہ کرے۔

قارئین کرام! مجھے فخر ہے کہ میں عورتوں کے حوالے سے ہمیشہ لکھتا بھی ہوں، گفتگو بھی کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک عورتیں قومی دھارے میں شامل نہیں ہوتیں، ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ہمیں ترقی کے راستے میں عورتوں کیلئے رکاوٹ نہیں بننا چاہئے بلکہ عورتوں کو یہ احساس ہو کہ ہم ان کے معاون ہیں۔ میں ذاتی طور پر عورت کی آزادی کا قائل ہوں اس لئے جب بھی کسی عورت کو کامیابی ملتی ہے تو مجھے دلی مسرّت ہوتی ہے۔ ثمینہ خاور حیات ایسی دبنگ عورت ہے کہ پوری پنجاب اسمبلی کی رونق اسی سے تھی۔ اس نے بہت احتجاج کئے، حکمرانوں کی ناک میں دم کیا تو ثمینہ خاور حیات کے خلاف جعلی ڈگری کی سازش ہو گئی۔ اب یہ سازش ناکام ہو چکی ہے اور ثمینہ خاور حیات کامیاب ہو چکی ہے۔ ایک اور شاباش بھی اس خاتون کے حصّے میں آتی ہے کہ اس نے مشکلات کے دور میں بھی سیاسی وابستگی تبدیل نہیں کی۔

ثمینہ خاور حیات کے ذکر کے ساتھ ہی مجھے دو، چار اور خواتین یاد آ گئی ہیں جنہیں بدنام کرنے کیلئے سازشیں ہوئیں۔ کچھ کے ساتھ ذاتی پرخاش میں لوگوں نے غصّہ نکالا، کچھ کے مخالفین نے ان کا راستہ روکا۔ مثلاً سمیرا ملک کی ڈگری کو کبھی درست، کبھی غلط کہا گیا اور بالآخر وہ ذاتی پرخاش کا نشانہ بنیں۔ سمیرا ملک کو اس سابق اعلیٰ شخصیت کا بہ خوبی علم ہے جنہوں نے ان پر غصّہ نکالا۔ اب سمیرا ملک کا مقدمہ عدالت کے روبرو ہے۔ ایسا ہی عائلہ ملک کے ساتھ ہوا، ان کے مخالفین نے ان کا راستہ روکنے کیلئے ملی بھگت سے کھیل کھیلا، ان کا مقدمہ بھی عدالت میں ہے۔ پنجاب اسمبلی کی سابق رکن شمائلہ رانا کے دشمن اپنی ہی پارٹی کے اندر موجود تھے۔ انہوں نے اس کے خلاف بھرپور سازش کی۔ عتیقہ اوڈھو کی مشہور زمانہ بوتلوں کا مقدمہ بھی آپ کو پتہ ہی ہو گا، کیوں بنا تھا؟ یہ کیوں…؟ عورتوں کے پیچھے لگی رہتی ہے۔ کسی اگلے کالم میں ایک خاتون اور جج کا قصّہ لکھوں گا، فی الحال ثمینہ خاور حیات کو سلام اور جاتے جاتے ثروت زہرا کا خوبصورت شعر:

خواب اور تمنّا کا کیا حساب رکھنا ہے
خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

نوٹ: خواتین کے حوالے سے میں اور اوباما ایک پیج پر ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند