تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دنیا کے پہلے اور دوسرے امیر ترین انسان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: اتوار 11 ربیع الثانی 1436هـ - 1 فروری 2015م KSA 08:53 - GMT 05:53
دنیا کے پہلے اور دوسرے امیر ترین انسان

"بحریہ فائونڈیشن" کے سربراہ ملک ریاض حسین حیدر آباد میں الطاف حسین یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک سو ارب پتی تاجر اگر بل گیٹس سے سبق حاصل کر کے اپنی دولت غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں تو پاکستان ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔

دنیا کے پہلے اور دوسرے نمبر کے امیر ترین لوگوں میں بل گیٹس اور وارن بفٹ کے بارے میں ملک ریاض حسین اپنی کتاب ’’حقیقت‘‘ میں بتاتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات پچھلے کئی برسوں سے دنیا کے پہلے اور دوسرے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے آ رہے ہیں بل گیٹس نے 1975ء میں پال ایلن کے ساتھ دنیا کی پہلی سافٹ ویئر کمپنی بنائی جس کا نام ’’مائیکرو سافٹ‘‘ رکھا۔ یہ کمپنی ترقی کرتے کرتے 1990ء میں امریکہ کی پہلی دس بڑی کمپنیوں میں شامل ہو گئی 1998ء میں صدر بل کلنٹن نے بل گیٹس کے بارے میں بڑا تاریخی فقرہ کہا تھا کہ ’’ہم بل گیٹس کی قوم ہیں‘‘ WE ARE THE NATION OF BILL GATES بل گیٹس کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ دنیا کا سب سے مضبوط اور بڑا صدر اپنی قوم کو بل گیٹس کی قوم قرار دیتا ہے۔

بل گیٹس انسانی تاریخ کا واحد شخص ہے جو 38برس کی عمر میں دنیا کا امیر ترین شخص بنا تھا اور اس نے یہ اعزاز مسلسل 12برس برقرار رکھا تھا۔ اس کی کمپنی میں 63ہزار پانچ سو 69لوگ ملازم ہیں۔ کاروبار 102ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے ایک لاکھ 28ہزار لوگوں کو ڈالروں میں ارب پتی بنا چکی ہے۔ ملازمین اوسطاً 90 ہزار ڈالرز فی کس سالانہ تنخواہ لیتے ہیں۔ کمپنی کے پانچ ڈائریکٹرز ہیں 98کروڑ شیئرز ہیں۔ امریکہ کے میڈیا نے بل گیٹس کو پچھلے پندرہ سالوں سے سب سے زیادہ کوریج دی۔ اس کا شمار با اثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ دنیا کے 35ممالک میں اسے سربراہ مملکت کا پروٹوکول حاصل ہے۔ اس بل گیٹس نے 15جون 2006ء کو ایک ایسا اعلان کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ بل گیٹس نے اعلان کیا وہ جولائی 2008ء میں اپنی مائیکرو سافٹ کمپنی چھوڑ دے گا اور زندگی فلاح عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر دے گا۔ اپنی دولت کا 80فیصد لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گا۔ اس نے وصیت کی کہ اپنے بچوں کے لئے دس دس لاکھ ڈالرز اور اپنی بیوی کے لئے 18لاکھ ڈالرز چھوڑ جائے گا۔ باقی دولت اس کی سماجی بہبود کی فائونڈیشن ’’بل اینڈ ملینڈا گیٹس‘‘ کو چلی جائے گی۔ بل گیٹس کے اس اعلان کے بعد ’’ٹائم‘‘ اور ’’اکانومسٹ‘‘ نے اس کی تصویر کور پر شائع کی اور اعلان کیا بل گیٹس 15؍ جون 2006ء سے پہلے دنیا کا امیر ترین شخص تھا لیکن 15؍ جون کے بعد دنیا کا عظیم ترین انسان بن گیا۔

ملک ریاض حسین مزید کہتے ہیں کہ ’’میں نے جب بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن کا پروفائل دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اس کے اکائونٹ میں 29ارب ڈالرز ہیں جو اسی دنیا کے غریبوں، بیماروں، بے کسوں اور طالب علموں پر خرچ ہوں گے۔ بل گیٹس اس سے لیبارٹریاں اور ہسپتال بنائے گا۔ کینسر اور ایڈز پر ریسرچ کروائے گا اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرے گا۔

اب وارن بفٹ کی طرف آتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ اس نے چھ سال کی عمر میں کاروبار شروع کیا۔ دادا کی دکان سے 25 سینٹ میں کوکا کولا کی چھ بوتلیں خریدتا اور میدان میں جا کر اپنے ہم عمر بچوں کو یہ فروخت کر دیتا۔ اسے روزانہ پانچ سینٹ منافع ہوتا وارن بفٹ کو دنیا شیئرز جینئس کہتی ہے۔ امریکہ میں لوگ بنک آف امریکہ پر اتنا اعتماد نہیں کرتے جتنا وارن بفٹ پر کرتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر سیلف میڈ انسان ہے۔ اسی نے 30برس پہلے 5 ہزار ڈالرز سے ایک سرمایہ کار کمپنی بنا لی۔ آج اس کمپنی کا منافع اربوں ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے پاس 44ارب ڈالرز ہیں۔ اس نے بھی 26جون 2006ء کو ایک ایسا اعلان کیا جس نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔ اس نے اپنی دولت کا 87فیصد حصہ بل گیٹس فائونڈیشن کو دینے کا اعلان کر دیا اور اعلان کیا کہ وہ ہر سال فائونڈیشن کو ڈیڑھ ارب ڈالرز دے گا اور جب تک زندہ ہے اپنی دولت کا 87 فیصد حصہ فائونڈیشن کے حوالے کرتا رہے گا۔‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند