تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر اوباما کو منہ توڑ جواب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 11 ربیع الثانی 1436هـ - 1 فروری 2015م KSA 08:45 - GMT 05:45
صدر اوباما کو منہ توڑ جواب

کمال ہے کہ ہمارے سیاسی آقا یعنی امریکی صدر نے ہمارے ہمسائے اور رقیب ملک ہندوستان میں جا کر اتنی بڑی شیخی بگھاردی لیکن ہم نے اسے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا حالانکہ ہم اپنے سیاسی آقا کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کا نوٹس لیتے ہیں۔ اس بار ہم نے صدر اوباما کی ڈینگ یا شیخی کا اتنا نوٹس بھی نہیں لیا جتنا کسی ظلم کی واردات کا نوٹس وزیراعلیٰ یا وزیراعظم لیتے ہیں۔ ایک دن خبر چھپتی ہے کہ وزیراعلیٰ نے نوٹس لے لیا اور پھرمجال ہے کبھی پتہ چلتا ہو کہ اس نوٹس کا کیا بنا۔ صدر اوباما ہندوستانی وزیراعظم مودی کی جپھی اور والہانہ محبت کی ادائوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جاتے ہوئے یہ شیخی مار دی کہ ہمیں فخر ہے ہمارے ممالک میں چائے بیچنے والے کا بیٹا اور باورچی کا بیٹا وزیراعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال تھا کہ صدر اوباما نے شاید ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکستان پر طنز کیا ہے جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں امریکی صدر کی شیخی کے جواب میں اپنی شیخی مارنی چاہئے تھے کیونکہ ہم یہ گوارہ نہیں کرسکتے کہ کوئی ہمارے رقیب کے پاس جا کر ہم پر چوٹ کرے۔ ہم بھی جواباً کہہ سکتے تھے کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ملک میں باورچی کا بیٹا یا چائے بیچنے والے کابیٹا کبھی بھی حکمران نہیں بن سکتا۔ ہمیں فخر ہے ہمارے ملک میں صرف جاگیردار، گدی نشین، وڈیرے، صنعتکار اور ارب پتی ہی حکمران بن سکتے ہیں۔ رہے باورچی یا چائے بیچنے والے تو ہم ان کو اپنے کارندے، خدمتگار یعنی کمیں سمجھتے ہیں اور ’’کمیوں‘‘ کی کیا مجال وہ چودھری بننے کاخواب دیکھیں۔ چودھری صرف چودھری کے گھرمیں پیدا ہوتا ہے اور حکمرانی کا حق اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے ایک بار بیگم نصرت بھٹو مرحومہ نے یہ الفاظ برملا کہہ کر وڈیروں، موروثی سیاستدانوں، گدی نشینوں اور ارب پتیوں کے باطن کی نمائندگی کردی تھی کہ ’’بھٹو حکمرانی کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کےانتقال کے بعد سے جناب آصف زرداری ’’بھٹو‘‘ بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں کیونکہ ہماری روایت کے مطابق زرداری حکمران نہیں بن سکتے حالانکہ زرداری کا مطلب ہوتا ہے زر کا مالک، دولت کے انبار پر بیٹھ ہوا ارب پتی۔ جس طرح زمیندار کا مطلب ہوتا ہے زمین کا مالک۔

امریکی صدر کی شیخی کے جواب میں ہم یہ کہہ کر بھی اسے شرمندہ کرسکتے تھے کہ تم جن ملکوں کی مثال دے کر ڈینگیں مار رہے ہو ان کے عوام شعور سے محروم اور سیاسی حوالے سے پیدل ہیں کہ باورچیوں کی اولاد کو ووٹ دیتے ہیں ۔ اگران میں ذرا بھی غیرت اورشعورہو تو ’’کمیوں‘‘ کو اپنے سروں پر نہ بٹھائیں کیونکہ کمیں کے بیٹھنے کی جگہ اللہ پاک کی دی ہوئی زمین ہے نہ کہ کرسی۔ کرسی بڑے لوگوں کے لئے ہوتی ہے۔ امریکی اور ہندوستانی ہماری جمہوریت کو پسماندہ سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارے عوام کاسیاسی شعور، ذہانت اور حسن انتخاب اتنا پختہ ہے اور ان کامعیار اس قدر بلند ہے کہ مجال ہے کسی کمیں کمینے کو ووٹ دیں۔ وہ بھی صرف ارب پتیوں اور دولت میں کھیلنےوالوں کو ووٹ دیتے ہیں چاہے اس نے دولت عوام کا خون چوس کر کمائی ہو یا ان کا حق مارکر۔ انہیں اس سے غرض نہیںکیونکہ ہمارے عوام وسیع الظرف اور کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ ان کا سیاسی شعور بالغ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ باورچی کا بیٹا یا چائے بیچنے والا، خود غریب اور بھوکا ہے وہ بھلاانہیں کیا دےگا؟ دولت مند قوم کو کچھ دے یا نہ دےکم سے کم انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کوپرتکلف کھانے توکھلاتا ہے اوربعض اوقات ان کی پرچی کی قیمت ہزاروں میںادا کردیتا ہے حالانکہ پرچی کاغذ کاایک ٹکڑا ہی تو ہے جسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے یا بیلٹ باکس میں ٹھونس دیا جائے، ایک ہی بات ہے۔اس طرح کے بہت سے کاغذ ہم سموسے کھا کر سڑک پر پھینک دیتے ہیں جنہیں لوگ لتاڑتے رہتے ہیں۔ بیوقوف لوگ کہتے ہیں کہ یہ پرچی یعنی ووٹ مقدس امانت ہوتا ہے۔ خدا جانے یہ لوگ مسلمان بھی ہیں یا نہیں کیونکہ ہمارے لئے تو صرف قرآن مجید کے اوراق مقدس ہیں۔ ہم تو اس کاغذ کو بھی مقدس نہیں سمجھتے جس پربابائے قوم کی تصویر چھپی ہوتی ہے اور جس سے بال بچوں کیلئے دال روٹی اور معمولی قسم کے کپڑے بھی خریدے جاسکتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہم انہیں مقدس سمجھیںتو پھران کاغذوں یا نوٹوںکو رشوت دینے یا رشوت لینے کیلئے کیوں استعمال کریں؟ ان سے کسی کا ضمیر یا زمین کیوں خریدیں؟ کسی کی عصمت کی عزت کا سودا کیوں کریں؟ دراصل ہم صرف قرآن مجید کے اوراق کو مقدس سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کی کتاب ہے اور ہم اسےاتنا مقدس سمجھتے ہیں کہ وضو کے بغیر ہاتھ نہیں لگاتے۔ چنانچہ نہ ہمارا وضو قائم رہتا ہے اور نہ ہم اللہ کی کتاب کھولتے ہیں۔ پڑھنے سمجھنے یا اس پر عمل کرنے کی تو نوبت ہی نہیں آتی۔

آپس کی بات ہے کہ صدر اوباما اوروزیراعظم مودی کی شیخی کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے انہیں اتنا سا طعنہ دے دینا کافی ہے کہ حضورہمیں آپ پر ترس آتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کیسے حکمران ہیں؟ حال آپ کا یہ ہے کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اپنے آپ کو دنیا کا بے تاج بادشاہ سمجھتا ہے۔ جس بادشاہ، صدر یا وزیراعظم کو چاہے دھمکی دے دیتا ہے۔ ہنری کسنجر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ تھے تو بھٹو کو ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر یہ دھمکی دے گئےکہ ہم تمہیں نافرمانی کی سزا دے کر ایک مثال بنائیں گے۔ پھر بھٹو صاحب نافرمانی کی سزا پا گئے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ جب امریکہ بہادر نےایبٹ آباد سے اُسامہ بن لادن کو اغوا کرنا چاہا تو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیلری کلنٹن نے ہمارے صدرصاحب اور وزیراعظم کو سوتے رہنے کا حکم دیا تاکہ رات کی تاریکی میں امریکہ اپنا آپریشن مکمل کرسکے۔ حکم تھاکہ اگرتم نے رات کو آنکھ کھولی اور کوئی حرکت کی تو ہم اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ ہمارےتابع فرمان بلکہ تابع مہمل حکمرانوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ ایک غیرملکی کے لئے اُف بھی کرتے، وہ تو اپنے شہریوںاوررعایا کو کچھ نہیں سمجھتے بس کمی کمین سمجھتے ہیں۔ یہ بھی ان کی مہربانی ہے۔ صورت یہ ہے کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو ہمارے حکمران بچھ بچھ جاتے ہیں۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے جھریوں بھرے چہرے کی مسکراہٹ کےلئے ترستے رہتے ہیں اور وہ مل کر اگر تسلی بخش سرٹیفکیٹ دے جائے تو ہمارے حکمرانوں کی عیدیں ہو جاتی ہیں۔ جبکہ امریکہ کے اندر جان کیری کا یہ حال ہے کہ اگر وہ گھر کے سامنے سے برف صاف نہ کرے تو سٹی گورنمنٹ اسے پانچ سو ڈالر جرمانہ کردیتی ہے۔ سچ پوچھیں گے تو مجھے آج یہ خبر پڑھ کر جان کیری پرترس بھی آیا ہے اور غصہ بھی..... یہ کیسا سیکرٹری آف اسٹیٹ ہے جو گھر کے سامنے سے خود برف صاف کرتا ہے۔ لعنت ہے ایسی حکمرانی، عہدے ا ور افسری پر کہ کسی کو جرمانہ کرنے کی جرأت ہو۔ ہمیں امریکہ کو بتانا چاہئے کہ جان کیری نے تو حکمرانی کی ناک کٹوا دی ہے۔ ہمارے ملک میںتو کوئی تھانے دار ایم پی اے صاحب کو سلام نہ کرے تو سائے ڈھلنے تک کھڈے لائن لگ جاتا ہے جبکہ امریکہ جیسے اعلیٰ اور عظیم ملک میں تھانے دار حاکموں اور ان کی اولادوں کے چالان کرتا پھرتا ہے۔ اگر امریکہ کو اپنی عزت کا خیال نہیں تو ہم پاکستان سے چارپانچ نوجوان خدمت گار بھیجنے کو تیار ہیں جو نہ صرف جان کیری سیکرٹری آف اسٹیٹ کے گھر کے سامنے سے صفائی کردیا کریں گے بلکہ گھر کےاندر کی صفائی کے علاوہ بیگم اور مسٹرجان کیری کی بھی صفائی کردیا کریںگے کیونکہ ہم تریت یافتہ خدمتگار ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے برطانیہ اور امریکہ سے تربیت کی سندیں حاصل کی ہیں اور انہیں ہماری وفاداری پر فخر ہے۔ ہم ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ہماری غیرت کا سوال ہے کہ کوئی نتھو خیرا چھوٹا سا ملازم ہمارے حکمران جان کیری کاچالان کرے اور اسے جرمانہ کرے۔ اگر وہ پاکستان میں ایسی گستاخی کرتا تو ہم اسے معطل کردیتے یا او ایس ڈی لگا دیتے۔ ویسے ہمارے پاس گستاخوں کو سیدھا کرنے کے لئے کئی اور آزمودہ نسخے بھی ہیں۔ امریکی چاہیں تو ہم سے سیکھ لیں۔ لیکن خدا کے لئے کمی کمینوں کو منہ نہ لگائیں۔اپنی حکمرانی اور عہدوں کا بھرم قائم رکھیں بلکہ انہیں اتنا بلند وبالا رکھیں کہ عہدوں کی جانب کوئی عام آدمی دیکھ ہی نہ سکے۔ میرا خیال ہے کہ ہم امریکہ پر یہ جوابی طنز کرکے صدر اوباما کی شیخی کامنہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند