تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کا خوفِ کمتری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 16 ربیع الثانی 1436هـ - 6 فروری 2015م KSA 10:18 - GMT 07:18
بھارت کا خوفِ کمتری

بھارت آغاز ہی سے خوفِ کمتری کا شکار نظر آتا ہے۔ طاقت کے بے جا اظہار اور استعمال کے پیچھے ایک خوف چھپا ہوتا ہے۔ اِسی خوف کے باعث بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو سے لمحوں کی وہ غلطی ہوئی تھی جس کے اثرات صدی تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کانگریسی قیادت کہتی تھی کہ ہم بھارت ماتا کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے ، مگر جب 1946ء میں وزیر خزانہ نوابزادہ لیاقت علی خاں نے عارضی کابینہ میں بجٹ پیش کیا جو غریبوں کا بجٹ تھا، اُس نے پوری برہمن قیادت کو خوفزدہ کر دیا اور وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے قیامِ پاکستان پر تیار ہو گئی۔ اُسے خطرہ محسوس ہوا کہ اگر آل انڈیا مسلم لیگ کو بجٹ سازی کا موقع ملتا رہا ، تو ہندو سرمایہ کاروں ، سیٹھوں اور ساہوکاروں کے لئے عوام کا استحصال مشکل ہو جائے گا۔ اِسی طرح جب مہاراجہ کشمیر کی طرف سے بھارت کے الحاق کا ڈرامہ رچایا گیا اور جموں میں تین لاکھ مسلمان شہید کر دیے گئے ، تو قبائلیوں میں شدید ردِعمل پیدا ہوا اور وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے جوق درجوق نکل کھڑے ہوئے۔ پنڈت نہرو نے انصاف کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے 24 اکتوبر 1947ء کو جنگی طیاروں کے ذریعے سرینگر میں فوجیں اُتار دیں اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ برصغیر کی تقسیم جس اصول پر ہوئی ، اُس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا تھا، مگر پنڈت نہرو اُسے طاقت کے بل بوتے پر ہڑپ کر لینا چاہتے تھے ، حالانکہ سردار پٹیل نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ریاست حیدرآباد دکن بھارت میں اور ریاست جموں و کشمیر پاکستان میں شامل ہونی چاہئیں۔ طاقت کے گھمنڈ میں بھارت کے پہلے وزیراعظم نے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے جس منصوبے پر عمل کیا ، وہ آج علاقائی اور عالمی امن کے لئے بہت بڑے خطرے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور برصغیر کی تاریخ بدگمانیوں ، نفرتوں اور خونریزیوں سے معمور ہے۔

جموں و کشمیر کے عوام بڑی پامردی اور ایمانی قوت کے ساتھ بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان اُن کے حق وانصاف پر مبنی موقف کے ساتھ ایک چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ کل ہی یومِ یک جہتی کشمیر غیر معمولی جوش و خروش اور فراواں جذبوں کے ساتھ منایا گیا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں ریلیاں منعقد ہوئی ہیں اور آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں عوام کا جذبۂ حریت قابلِ دید تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس کی حدت اور شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور لاکھوں غیر انسانی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔ اِس کے باوجود شیردل مردوں اور عورتوں کے سینوں میں آزادی کا شعلہ فروزاں ہے اور بھارت پر خوف طاری ہے۔ گزشتہ سال وزیراعظم نوازشریف نے بڑی جرأت اور کمال دانائی سے اہلِ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُٹھایا اور عالمی برادری کو اِس کا عہد یاد دلایا جس میں کہا گیا تھا کہ جموںوکشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ استصوابِ رائے سے کریں گے۔ اُن کی تقریر نے انسانی ضمیر کو جھنجوڑا اور عالمی سطح پر زبردست ارتعاش پیدا ہوا۔ امریکہ جو 1989ء سے بھارت پر بہت مہربان ہے، اُسے بھی زمینی حقائق کا پورا ادراک ہے۔ امریکی صدر کلنٹن جب چھ روزہ دورے پر بھارت گئے اور پاکستان میں صرف چھ گھنٹے قیام کیا ، تو اُنہوںنے تسلیم کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایک ’’فلیش پوائنٹ‘‘ ہے اور اِس کا تصفیہ ضروری ہے۔ بھارت کی موجودہ کوتاہ نظر قیادت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز فوجی کارروائیاں کر رہی ہے اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف مصروفِ عمل ہیں، اُس نے پاکستان کے مشرقی محاذ پر شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے جو علاقائی امن کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔

ہم چشمِ تصور سے دیکھ سکتے ہیں کہ اگر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کشمیر کا تنازع پیدا نہ کرتے، تو جنوبی ایشیا کی عظمت اور قوت کس عروج پر ہوتی۔ قائداعظم بھارت اور پاکستان کے مابین امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات قائم رکھنے کے آرزومند تھے اور اُنہوں نے مشترکہ دفاع کی پیشکش کی تھی ، مگر بھارتی قیادت چانکیہ کے ’’اصولوں‘‘ پر کاربند تھی جن میں عیاری ، چالاکی ، فریب دہی اور مطلب براری کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ یہ ہتھکنڈے وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جو خوف میں مبتلا رہتے یا طاقت کے پجاری ہوتے ہیں۔ جن قوموں کے اندر یہ بیماریاں رگ و پے تک پھیل جاتی ہیں ، وہ آپس میں لڑتی اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موریاگپتا اور اشوک کے سوا ہندوستان مختلف ٹکڑوں میں تقسیم رہا اور مسلمان حکمرانوں اور بعد میں انگریزوں نے اسے ایک وحدت عطا کی۔ بلاشبہ بھارت کا رقبہ بہت بڑا ہے، اِس کے وسائل بھی بیش بہا ہیں اور اسلحے کے ذخائر بھی قابلِ ذکر ہیں ، مگر ہندو قیادت طبعاً تنگ دل، تنگ نظر اور بہت خود پسند ہے۔

وہ اندر سے خوف کی ماری ہوئی اور اوپر سے طاقت کا بے ہنگم اظہار ۔ اِس بے ہنگم اظہار کا اندازہ اِس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ من موہن سنگھ کے دورِ اقتدار میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ پر بھارتی آرمی چیف نے بڑ ماری تھی کہ ہم 96 گھنٹوں کے اندر اندر اسلام آباد اور بیجنگ کو بیک وقت تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے جو بھارت کو مکمل طور پر ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے ، چنانچہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو شدھی بنانے کی تحریک شروع ہو گئی ہے۔ یہ وہی زہر آلود ذہن ہے جس نے مسلمانوں کو 1940ء میں ایک علیحدہ وطن کے مطالبے پر مجبور کر دیا تھا اور بعد ازاں پورے ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکائی تھی اور سرحد کی دونوں طرف لاکھوں انسان مارے گئے تھے۔ بھارتی قیادت نے اپنی طاقت کا سحر قائم کرنے کے لئے سالِ نو کے آغاز میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں امریکی صدر اوباما کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا۔

وہ بڑے تزک و احتشام سے آئے اور اعلان فرما دیا کہ بھارت ہمارا ’’گلوبل پارٹنر‘‘ ہے اور ہم اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست دلوائیں گے۔ پریڈ سے ایک روز پہلے دفاعی اور اقتصادی معاہدے ہوئے اور یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت ایشیا کی علاقائی طاقت ہو گا۔ یہ بھی اعلان ہوا کہ امریکہ بھارت کا سو ارب ڈالر کا اسلحہ بیچناچاہتا ہے۔ ان دونوں ممالک کو اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کی یقیناً آزادی ہے ، مگر عالمی برادری اور علاقائی طاقتوں کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ان معاہدوں کے عالمی امن و سلامتی پر کیا کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی جو مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے آئے ہیں اور اسلحے کے بے پایاں انبار لگا رہے ہیں ہمیں اِس گمبھیر صورتِ حال کا گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ دفاع کے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت آئندہ چند برسوں میں 250 ارب ڈالر کے جدید ہتھیار خریدنے کے معاہدے کر رہا ہے۔ ان ہتھیاروں کا بڑا مقصد پاکستان کو دباؤ میں رکھنا یا اس کے خلاف جارحانہ اقدام کرنا ہے۔ اُس نے چند روز قبل لمبے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل اگنی 5 کا موبائل لانچ کی مدد سے داغنے کا تجربہ کیا۔ اِس کی مار پانچ ہزار کلو میٹر تک ہے اور ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ نے بھارت سے سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا جو معاہدہ کیا ہے ، اِس سے عالمی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ بھارت یہ مواد ایٹمی ہتھیار بنانے میں استعمال کرے گا۔

پاکستان اپنی جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو ہموار کر سکتا ہے۔ قدرت نے ہمیں کچھ اچھے مواقع فراہم بھی کر دیے ہیں۔ پاکستان کے سائنس دانوں اور انجینئروں نے سٹیلتھ میزائل ’’رعد‘‘ کا کامیاب تجربہ کر کے اپنے دفاع کو مضبوط کر لیا ہے۔ یہ ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ، زمین کی سطح پر سفر کرتا اور اپنے ہدف تک سمندر کی تہہ میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ میزائل بے آواز ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا۔ امریکہ نے اسامہ بن لادن تک پہنچنے کے لئے سٹیلتھ ہیلی کاپٹرز استعمال کیے تھے۔ پاکستان نے 23مارچ کی فوجی پریڈ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر کے بہت بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ اِس پریڈ کے مہمانِ خصوصی چین کے صدر ہوں گے جو پاکستان کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتے ہیں اور پاکستان میں اقتصادی انقلاب لانے کے لئے بڑے پُرعزم ہیں۔یہ پیش رفت بھارت کے خوفِ کمتری میں مزید اضافے کا باعث ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند