تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یورپ میں مسلمانوں کے مخالف رجحانات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 16 ربیع الثانی 1436هـ - 6 فروری 2015م KSA 10:13 - GMT 07:13
یورپ میں مسلمانوں کے مخالف رجحانات

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق ہالینڈ میں 10 سال کے دوران مذہبی رواداری اور عدم برداشت میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور اب ہالینڈ کے لوگوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ رائے سرکاری ملازمین کے ہفت روزہ اخبار کے ایک سروے میں سامنے آئی ہے۔ دوسال قبل ایسے ہی سروے میں لوگوں نے اس پابندی کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی لیکن اس بار 533 جواب دہندگان میں سے اکثریت نے سرکاری ملازمین کے ہیڈ ا سکارف پہننے پر پابندی کے حق میں رائے دی ہے۔ 58 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ مقامی حکام سرکاری ملازمین کےہیڈ سکارف پر پابندی لگائیں جبکہ 83 فیصد مزید اسلامی لباس پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں۔ اسی کے ساتھ جڑی ہوئی رائٹر ہی کی ایک اطلاع کے حوالے سے ایک بُری خبر یہ ہے کہ ہالینڈ کے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ہالینڈ میں بھی پشاور اور بمبئی کی طرح کے حملے ہوسکتے ہیں۔ ہالینڈ میں ایک ملین سے زائد مسلمان قیام پذیر ہیں چند سال قبل فلم میکر اور دانشور تھیو فان فوخ کے قتل کے بعد صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔ ادھر ہالینڈ کے ہمسایہ جرمنی میں مسلمانوں نے استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ناقابل قبول ہیں کیونکہ اسکولوں میں عیسائی علامات استعمال کرنے کی اب بھی اجازت ہے۔

ریاست کے پابندی کے فیصلے سے جرمن قانون میں تمام مذہب کو دی گئی آزادی اور مساوی سلوک کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ اسلام عورتوں سے غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے۔ مسلمان حجاب نہ پہننے پر امتیاز کی اتنی ہی مذمت کرتے ہیں جتنا ان عورتوں کے ساتھ امتیاز کی مذمت کرتے ہیں جو اپنی مرضی سے حجاب پہنتی ہیں۔ جرمنی نے اسکولوں میں استانیوں کے حجاب پہننے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی تھی کہ حجاب خواتین پر جبر کا ایک سمبل ہے۔ جرمنی کی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ دے رکھا ہے کہ جرمنی کی ہر ریاست اسکولوں میںا سکارف کے بارے میں خود فیصلہ کرے اس پر 16 میں سے 10 فیڈرل آریاستوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کلاسوں میں حجاب پر پابندی لگائیں گی۔ ایسے ہی مسائل نے یورپ میں ایک تنازع کھڑا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو یورپی معاشرہ میں مدغم کرنے پر تقسیم اجاگر ہو رہی ہے۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلم آبادی رکھنے والے ملک فرانس نے مذہبی علامات کے استعمال اور حجاب پہننے کے بارے میں جو گائیڈ لائنز جاری کر رکھی ہیں۔

ان میں اسکارف، یہودی ٹوپی اور بڑی صلیب پر پابندی ہے لیکن سکھوں کی پگڑی پر پابندی نہیں لگائی گئی یہ اس قدر مبہم ہے کہ ان سے طلباء اور اسکولوں کی انتظامیہ کے درمیان اکثر تنازع کھڑا ہوتا رہتا ہے۔ فرانس نے جب سے یہ قانون منظور کیا ہے اسکولوں کی پرنسپلوں کی یونین کا کہنا ہے کہ گائیڈ لائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کو کئی طریقوں سے موڑا جاسکتا ہے اور ہر کوئی قانون کی مختلف توجیہات نکال رہا ہے۔ اسکول ٹیچرز نے کہا ہے کہ وہ گائیڈ لائنز کے مسودہ کی منظوری کے سلسلے میں اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔ ادھر ’’گریٹ بریٹن‘‘ نے اپنی گریٹنس دکھاتے ہوئے برطانوی اساتذہ کو حجاب کے حوالے سے فرانس کی تقلید نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

نیشنل یونین آف ٹیچرز نے برطانیہ بھر کے ٹیچرز کو وارننگ دی ہے کہ اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی سے نسل پرستی کیخلاف جنگ کو زبردست دھچکا لگے گا۔ یونین نے کہا ہے کہ کلاسوں میں حجاب سمیت دوسری نمایاں مذہبی علامات پر فرانس کی پابندی کی تقلید نہ کریں اور فاشسٹ نسل پرست برٹش نیشنل پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف جنگ لڑیں۔ نیشنل یونین آف ٹیچرز کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے مسلمان یورپ میں خطرہ بنتے جارہے ہیں اور ان کی ثقافتی علامات غالب آتی جارہی ہیں۔ یونین کا کہنا ہے کہ ہمیں بچوں کو ایک مخلوط النسل معاشرہ میں رہنے کے لئے تیار کرنا ہوگا اور یہ کہنا بے عقلی ہے کہ حجاب یورپ میں جبر کی علامت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند