تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قائداعظم اور اتاترک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 17 ربیع الثانی 1436هـ - 7 فروری 2015م KSA 09:40 - GMT 06:40
قائداعظم اور اتاترک

سانحہ پشاور کے بعد مذہب اور ریاست کے تعلق کے بارے میں بحث کا احیاء ہوا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی نے مقتدر قوتوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ مذہبی بیانیئے پر نظرثانی کریں۔ 1973ء کے آئین میں قرارداد مقاصد کی موجودگی میں اکیسویں ترمیم شامل کرکے اعتراف کیا گیا ہے کہ مذہب اور مسلک کے نام پر دہشت گردی نے پاکستان کی سلامتی اور بقا کو شدید اور سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ مقتدر قوتوں نے ہی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کیلئے مذہبی جماعتوں کو جہادی لشکر بنانے کی ترغیب دی تھی۔ خرابیٔ بسیار کے بعد یہ مقتدر قوتیں اس نتیجے پر پہنچ گئی ہیں کہ مذہب کو سیاست کیلئے استعمال کرنے سے پاکستان کے قومی مسائل حل ہونے کی بجائے پیچیدہ ہوگئے ہیں اور انتہا پسندی تشویشناک ہوچکی ہے۔ ترقی پسند لبرل حلقے ایک بار پھر مذہب کو ریاست اور سیاست سے جدا رکھنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں اتاترک پر شائع ہونے والی ایک کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہوریہ کا ظہور‘‘ مصنفہ پیٹرک کینر اسکی تقریب رونمائی ہوئی۔ اس تقریب میں اعتزاز احسن نے خصوصی خطاب کیا جبکہ دوسرے مقررین میں سینیٹر حاصل بزنجو، محمود مرزا، کتاب کے پبلشر فرخ سہیل گوئندی اور افتخار مجاز شامل تھے۔ تقریب میں غیر معمولی حاضری اس حقیقت کا مظہر تھی کہ پاکستان کے باشعور تعلیم یافتہ لوگ مذہب کے سیاسی استعمال سے بیزار ہوچکے ہیں۔ مذہب کا جو چہرہ پیش کیا جارہا ہے اس کا کوئی تعلق ریاست مدینہ کے ساتھ نہیں ہے۔ اتاترک پر کتاب کے مطالعہ سے قائداعظم اور اتاترک کے درمیان کئی باتیں مشترک نظر آئیں۔ قائداعظم نے لندن میں جلاوطنی کے دوران اتاترک کی سوانح ’’گرے ولف‘‘ کا مطالعہ بڑی دلچسپی کے ساتھ کیا تھا اور سیٹنلے والپورٹ کیمطابق قائداعظم کو اتاترک کی شخصیت کے کئی پہلو پرکشش نظر آئے۔ اتاترک لباس کے معاملے میں بڑے نفاست پسند تھے۔ قائداعظم کا لباس بھی دیدہ زیب اور پرکشش ہوتا تھا۔ جدید ترقی کا قیام اتاترک کی زندگی کا نصب العین تھا۔ قائداعظم نے مسلمانوں کیلئے جدید جمہوری پاکستان کا حصول اپنی زندگی کا مشن بنایا۔

اتاترک نے کہا ’’میں عوامی رائے یا تاثر کیلئے کام نہیں کرتا میں قوم کیلئے اور اپنے اطمینان کیلئے کام کرتا ہوں‘‘۔ قائداعظم بھی بے مثال لیڈر تھے وہ اپنے زمانے کے دوسرے لیڈروں کی طرح عوام کے وقتی اور عارضی جذبے اور جوش سے متاثر نہیں ہوتے تھے بلکہ انکی نگاہیں منزل مقصود پر رہتی تھیں اور عوامی جذبات کے ٹریپ میں آنے کی بجائے عوام کی رہنمائی کرتے تھے۔ آخر کار عوام بھی تسلیم کرتے کہ قائد کی رائے درست تھی۔ اتاترک نے سیاسی اصولوں کی بنیاد منصوبہ بندی، تنظیم، عمل اور بروقت تدابیر پر رکھی تھی۔ قائداعظم کی سیاسی زندگی میں بھی یہی اصول نمایاں نظر آتے ہیں۔ اتاترک کا سب سے بڑا ہتھیار اخلاقی ہتھیار تھا۔ قائداعظم نے بھی اخلاقی ہتھیار سے ہی پاکستان کی جنگ لڑی۔ علامہ اقبال نے کہا تھا قائداعظم کو نہ خریدا جاسکتا ہے اور نہ کرپٹ کیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص نے اتاترک سے پوچھا کہ ماڈرن کا کیا مطلب ہے۔ اتاترک نے جواب دیا ’’ماڈرن کا مطلب ہے انسان ہونا‘‘ گویا جو ماڈرن نہیں وہ مکمل انسان ہی نہیں۔ قائداعظم اپنے خطبوں میں ماڈرن کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ قدامت پرستی اور رجعت پسندی کیخلاف تھے۔ علامہ اقبال بھی جدید یت کے قائل تھے۔

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اُڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

اتاترک ایک ایسی مضبوط حکومت کے حامی تھے جس کی کابینہ تجربہ کار ہو اور اپنے حقوق اور فرائض سے پوری طرح آگاہ ہو اور عوام کی بالادستی کی قائل ہو۔ قائداعظم نے پہلی کابینہ انہی اصولوں پر تشکیل دی تھی۔ اتاترک باعقل مسلمان تھے۔ ان کیلئے اسلام دین فطرت تھا۔ یہ دین عقل، سائنس، علم اور منطق سے ہم آہنگ تھا۔اتاترک انتہا پسندی کو ’’زہر یلا خنجر‘‘ سمجھتے تھے۔ انہوں نے خلیفہ کو جلاوطن کرکے ریاست کو مذہب سے علیحدہ کردیا اور ہر شہری کو مذہب کی آزادی دی۔

قائداعظم نے تحریک خلافت سے خود کو الگ تھلگ رکھا۔ مذہبی رہنما مہاتما گاندھی کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے۔ قائداعظم نے اس موقع پر کہا ’’مذہب کو سیاست میں شامل کرنا ایک جرم تھا جس کا مظاہرہ گاندھی نے کیا‘‘۔[ٹرانسفر آف پاور جلد ششم صفحہ] اتاترک نے اقتدار سنبھال کر مذہبی امور کی وزارت ختم کردی اور مساجد کے خطبے سے خلیفہ کا نام حذف کردیا۔ خطبے میں کہا گیا ’’اے خدا ہماری ری پبلکن حکومت اور مسلمان قوم کی مدد کیجئے۔ مسلمانوں کی شان و شوکت میں اضافہ فرمائیے اور اسلام کے اس پرچم کو تمام پرچموں میں سربلند کردیجئے جو جمہوریہ ترکیہ پر سایہ فگن ہے اور ان مسلمانوں کو نبی کریمﷺ کی زندہ مثال پر اپنی زندگیاں بسر کرنے کی توفیق دیجئے‘‘۔ [اتاترک: قوم اور جمہوریہ کا ظہور صفحہ 432] قائداعظم نے اپنے پالیسی خطاب 11 اگست 1947ء میں مذہب اور مسلک کو ریاست اور سیاست سے علیحدہ رکھنے پر زور دیا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے اصرار اور اسلام پسند رفقاء کے دبائو کے باوجود مذہبی امور کی وزارت قائم نہ کی۔ قائداعظم وژنری لیڈر تھے ان کو پورا ادراک تھا کہ سیاست میں مذہب شامل کرنے سے انتہا پسندی اور شدت پسندی جنم لے گی۔ قائداعظم کی سوچ درست ثابت ہوئی آج پورا پاکستان مذہبی جنونیت کی لپیٹ میں ہے۔ قائداعظم اسلام کے سنہری اصولوں دیانت، امانت، صداقت، شجاعت، عدل و انصاف، برداشت، مساوات، معاشی عدل پر بہت زور دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان حضور اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں اور پاکستان کا جمہوری سیاسی نظام اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔ اتاترک خواتین کی آزادی اور مساوات کے قائل تھے۔ قائداعظم اپنی ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناح کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ وہ عملی طور پر ثابت کرسکیں کہ خواتین کو مساوی مواقع دے کر ہی قومیں اپنا نصب العین حاصل کرسکتی ہیں۔ قائداعظم اور اتاترک دونوں کو آخری عمر مین بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔

قائداعظم نے 27 اکتوبر 1937ء کو اپنے خطاب میں فرمایا ’’میں شاعر نہیں ہوں، میں خطیب نہیں ہوں میں صرف استدلال کرسکتا ہوں۔ یہاں ایک شخص نے مجھے ہندوستان کا مصطفی کمال اتاترک قراردیا ہے۔ کاش میں اتاترک ہوتا اس صورت میں آسانی سے ہندوستان کا مسئلہ حل کر سکتا تھا۔ میں اتاترک نہیں میرے پیچھے فوج کی حمایت نہیں ہے لہذا مجھے استدلال ہی کرنا ہوگا۔ میری مضبوط ترین اور طویل ترین بندوق یہ استدلال ہی ہے۔ [قائداعظم تقاریر و بیانات: بزم اقبال لاہور صفحہ 172] قائداعظم نے 18 نومبر 1938ء کو مصطفی کمال اتاترک کے یوم وفات پر آل انڈیا مسلم لیگ کی تمام تنظیموں اور شاخوں کو یوم سوگ منانے کی تحریری ہدایت کی۔ علامہ اقبال پاکستان کے مفکر اور مصور تھے۔ قائداعظم پاکستان کے بانی تھے ہم نے ان دونوں لیڈروں کے نظریات اور تصورات سے انحراف کرکے ناقابل تلافی نقصان اُٹھالیا ہے۔ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے لہذا مذہب سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اختلاف مذہب کی اس تعبیر تشریح اور بیانیئے پر ہے جس نے پاکستان کو لہولہان کردیا ہے۔ مستقبل میں نمودار ہونے والی مشکلات اور مسائل کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے بانیوں نے اسلام کے سنہری اصولوں پر زور دیا تھا۔ حضور اکرمﷺ کی عملی زندگی ان اصولوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اگر ہم سیکولرازم اور بنیاد پرستی کی بحثوں میں پڑنے کی بجائے ڈائیلاگ یا اجتہاد کرکے اعتدال کے راستے پر آجائیں تو ہم ایٹمی پاکستان کو دنیا کا طاقتور ملک بناسکتے ہیں۔ وہ مذہبی بیانیہ جو 68 سال کے بعد بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکا اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مذہبی جنونیت نے اس قومی ضرورت کو اُجاگر کردیا ہے۔ علمائے حق نئے زمانے کے نئے تقاضوں کے مطابق نئے مذہبی بیا نیئے پر اتفاق کر لیں تو پاکستان انتہا پسندی پر قابو پا سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند