چین کے صدرژی چنگ پنگ مارچ کے آخری ہفتے میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ 23 مارچ کو اسلام آباد میں یوم پاکستان کی تقریب میںمہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرینگے۔ اپنے قیام کے دوران چینی صدر گوادر بھی جائینگے وہاں وہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے قیام کی عظیم بین الاقوامی شاہراہ کی تعمیر کا افتتاح بھی کرینگے۔ چینی صدر کے دورے کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دینے کیلئے چین کے وزیر خارجہ 12 فروری کو اسلام آباد آ رہے ہیں۔

گوادر کی بندر گاہ کو پاکستان کے مستقبل کی تجارتی اور معاشی لائف لائن کہا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے یہ عظیم منصوبہ نصف دہائی گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہ کیا جا سکا۔ پاکستان کے اکثر ترقیاتی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بڑے تلخ حقائق لیے ہوئے ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کو موزوں قرار دینے کا فیصلہ 1964ء میں ہوا۔ 1965ء میں پا ک بھارت جنگ چھڑنے کی وجہ سے اس جانب ترجیحاً توجہ نہ دی جا سکی۔ ملک کے غیر مستحکم سیاسی نظام، سانحہ مشرقی پاکستان اور سیاسی کھینچا تانی کی بناء پر بھی یہ منصوبہ بھی مسلسل نظر انداز ہوتا رہا۔ 32 سال بعد 1993ء میں گوادر بندر گاہ کی جانب پھر توجہ دی گئی اور اس بندر گاہ کی تیکنیکی اور مالی منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا۔

2002ء میں اسکی تعمیر کا سنگ بنیاد چین کے نائب وزیر اعظم Wu Bangguo نے رکھا اور تین سال بعد چین کے وزیر اعظم Win Jiya Yen نے گوادر بندر گاہ کا افتتاح کیا۔بندر گاہ کی تعمیر کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ ایک ارب سولہ بلین ڈالر لگایا گیا پہلے مرحلے کے تعمیراتی اخراجات میںچین نے 198 بلین ڈالر صرف کئے جن سے تین ملٹی پرپز برتھیںبھی بنائی گئیں۔چین نے کراچی گوادر ہائی وے بھی تعمیر کرنے میں بھی معاونت کی۔جب اس بندر گاہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا اور بحری جہازوں کی آمد رفت شروع ہوئی تو کسی خفیہ ہاتھ نے اس بندر گاہ کے آپریشنل اور انتظامی حقوق 2007ء میں چین کی بجائے سنگا پور کی جہاز راں کمپنی کو دے دئیے۔ پورٹ آف سنگا پورچھ سال کے عرصے میں اس بند گاہ کو فعال نہ بنا سکی۔ چین پاکستان کیساتھ مل کر گوادر کوEnergy Transport Hub بنانا چاہتا ہے۔ چین سنگیانگ سمیت اپنے مغربی صوبوں تک گوادر کے راستے تیل کی پائپ لائن بھی بچھانا چاہتا ہے۔ تکمیل کے بعد یہ پائپ لائن عرب اور افریقی ممالک سے آنیوالے خام آئل کو چین تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہو گا۔ خلیج فارس اور ایران سے تیل اور گیس کی درآمد کیلئے گوادر انتہائی آئیڈیل ٹرانزٹ کوریڈور ہے۔ چین کو بحری تجارت کیلئے شنگھائی کی بندر گاہ استعمال کرنا پڑتی ہے۔ سولہ ہزار کلو میٹر تک کے سفر کے دوران چین کے تجارتی جہازوں کو بحری قزاقوں، متحارب سیاسی قوتوں اور شدید موسموں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ گوادر کے گرم پانی کی بندر گاہ استعمال کرنے سے چین کے بحری جہازوں کو اڑھائی ہزار کلو میٹر فاصلہ کم ے پرنا پڑیگا۔ گوادر کی بندر گاہ سارا سال کام کر سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع گوادر کو دوبئی کا متبادل تجارتی مرکز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔گوادر کی بندر گاہ کے پوری طرح فعال ہونے اور مواصلاتی نٹ ورک کی تکمیل کے بعد پاکستان کا شمار دنیا کے ایک مثالی اقتصادی کاریڈور میں ہو گا۔گوادر بندر گاہ افغانستان اور وسط ایشیا کے land locked ممالک کیلئے واحد بحری راستہ بھی ہے۔ گوادر کو ہر مز کی بندر گاہ کے مقابلے میں متبادل راستے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ چین کیلئے ساٹھ فیصد تیل ہرمز کے راستے بڑا طویل اور پرُ خطر بحری راستہ طے کر کے چین پہنچتا ہے۔ گوادر کو چین تک تجارتی راستہ فراہم کرنے کیلئے چین کے شہر کاشغر سے شاہراہ قراقرم کے راستے ہزارہ ڈویژن کے شہر حویلیاں تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بھی ہے۔اس طرح گوادر کو ریلوے لائن کے ذریعے ملک کے دوسرے حصوں سے ملایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے پاک چین تجارتی راہداری سے متعلق بحث چل رہی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختصر اور پسماندہ علاقوں سے اس راستے کو گزارنے کی بجائے اسے زبردستی پنجاب سے لے جایا جا رہا ہے جس سے ان علاقوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ اس منصوبے سے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے علاوہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی مستفید ہوں گے۔ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان میں مال کی نقل وحمل کیلئے کام آئیگی۔ منصوبہ بندی اور ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ دونوں ملکوں کے بے مثال سیاسی تعلقات کو اقتصادی بلندیوں پر لے جانے کا اہم منصوبہ ہے۔ روٹ کا پہلا نقشہ گوادر سے کوئٹہ، ژوب ،ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی سے ایبٹ آباد اور خنجراب کے راستے کاشغر تک جائیگا۔ دوسرا نقشہ ڈیرہ غازی خان ، بھکر، دریا خان، حسن ابدال سے خنجراب تک ، تیسرا اور نیا روٹ اسلام آباد سے ملتان ،سکھر ،رتو ڈیرو گوادر پر مشتمل ہے۔ اس مقصد کیلئے گوادر کی پہلی رابطہ شاہراہ رتو ڈیرو ،ڈیرہ اللہ یار مئی 2015ء میں مکمل ہو جائیگی حیدر آباد کراچی ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد بھی اسی ہفتے رکھ دیا جائیگا۔

پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کے کسی ایک حصے کی ترقی کا منصوبہ نہ ہے بلکہ یہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کا عظیم منصوبہ ہے۔اسکی تکمیل سے پاکستان کی اقتصادی خوشحالی کی منزل آسان ہو گی۔میری گذاش ہے کہ سول سوسائٹی اور میڈیا جس طرح سیاست، حکومت ، کھیل اور شوبز پر ترجیحاً توجہ دیتا ہے وہاں اسے ان قومی اہمیت کے منصوبوں کا پوسٹ مارٹم اور مانیڑنگ بھی کرنی چاہئیے کیونکہ یہ منصوبے ہمارے خوشحال مستقبل کی ضمانت ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے