تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جے آئی ٹی رپورٹ کو منطقی نتیجے تک پہنچایا جائے.
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 ربیع الثانی 1436هـ - 11 فروری 2015م KSA 10:30 - GMT 07:30
جے آئی ٹی رپورٹ کو منطقی نتیجے تک پہنچایا جائے.

بلدیہ ٖٹائون فیکٹری آتش زدگی کیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم( جے آئی ٹی) رپورٹ جسے سندھ ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ کے سامنے رکھا گیا ہے، تاحال ادھوری ہے۔ اس کا بڑی حد تک دارومدار ایک شخص ، رضوان قریشی کے اعتراف پر ہے ۔ رضوان قریشی کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔

یہ سیاسی جماعت کون سی ہے، اس کا اندازہ لگانا زیادہ تردد کی بات نہیں۔ درحقیقت یہ رپورٹ ایم کیو ایم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ فیکٹری میں لگنے والی آگ، جس میں دوسو پچاس سے زائدافراد جل کر ہلاک ہو گئے تھے،کا تعلق بھتے کی عدم ادائیگی سے تھا اور رپورٹ سے تاثر ملتا ہے کہ اس میں پارٹی کی قیادت کے احکامات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق فیکٹری مالکان نے پارٹی کے سیکٹر کمانڈر کی مددسے پارٹی ہیڈکوارٹر میں اپیل کی، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا ، بلکہ اپیل میں تعاون کرنے والے سیکٹر کمانڈر کو معطل کردیا گیا ۔ اس کے بعد اس کے جانشین کو بھتہ وصول کرنے کا ٹاسک دیا گیا ۔ اس نے رقم نہ ملنے پر کیمیکل چھڑک کر فیکٹری کو آگ لگا دی۔ بھتے کی طلب کی گئی رقم بیس کروڑ تھی۔ آگ کے بعد جب فیکٹری مالکان جیل میں تھے اوران کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ قرار دی گئی تھی تو مذکورہ بالا پارٹی کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار نے ان کے خلاف کیس ختم کرانے کے لئے پندرہ کروڑ طلب کیے۔ دوسرے لفظوں میں، پارٹی کے مالکان نے بقول میر تقی میر، اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لی جس کے سبب بیمار ہوئے تھے۔

تاہم ان تمام واقعات کی صداقت کا دارومدار ایک شخص ، رضوان قریشی، کے بیان پر ہے۔ اُسے 2013ء میںکسی اور الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن دوران ِ تفتیش اُس نے بلدیہ ٹائون فیکٹری کو آگ لگانے کا بھی اعتراف کرلیا۔ اس کے اعترافی بیان پر مبنی رپورٹ اب پیش کی گئی ہے کیونکہ ڈویژن بنچ نے اسے کیس فائل کا حصہ بنانے کے احکامات صادر کیے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ اسی سال سنایا جائے۔

کیا بہتر نہ ہوتا اگر محترم جج صاحبان اس کہانی کے بہت سے ناتمام اور مبہم واقعات کے سرے ملانے اورلگائے گئے الزامات کے ٹھوس ثبوت اور معاون شہادت سامنے لانے کے احکامات جاری کرتے؟فی الحال واضح نہیں کہ کیا رضوان قریشی کی طرف سے بیان کیے گئے واقعات کو عدالت میں ثابت بھی کیا جاسکے گا یا نہیں؟ کیا بہتر نہ ہوتا اگر پہلے سیکٹر کمانڈر، اصغر اور اس کے بھائی ، ماجد،جو ا س کہانی کے کردار ہیں، سے بھی پوچھ گچھ کی جاتی؟ اس کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت کون سی ہے جو اس خوفناک اور دل دہلادینے والے واقعے کے پیچھے ہے؟ایک صوبائی وزیر کا بھی ذکر آرہا ہے جس نے فیکٹری مالکان کی قبل ازگرفتاری ضمانت کو منسوخ کرانے میں کردار ادا کیا۔ وہ کون ہے؟ اور پھر جس فرنٹ مین نے پندرہ کروڑ وصول کیے، وہ کون ہے اور کہاں ہے؟رضوان قریشی کی گواہی اُس وقت کارگر ہوگی جب ان سوالات کا جواب مل جائے گا۔

تاہم ان التباسات کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ پی پی پی کی سندھ حکومت اس معاملے کو نہیں چھیڑے گی کیونکہ پی پی پی خودبھی اپنی خامیوں اور نااہلیوں کے ہاتھوں اسیر ہے۔ اس وقت ، جب وہ ایم کیو ایم سے روابط بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے، کوئی بھی نہیں سوچ سکتا کہ وہ فیکٹری میں بھسم ہوجانے والے دوسو پچاس افراد کی راکھ کریدنے کی کوشش کرے گی۔ اس دوران کچھ اور بھی قابل ِ ذکر معاملات ہیں۔ قریشی کے افشائے راز کو مناسب چالان کی صورت ڈھالنااب کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے رینجرز کی ذمہ داری ہے ۔ دوسری ذمہ داری سندھ ہائی کورٹ کی ہے جس نے اس کیس کو نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئی بھی تفتیشی افسر اس معاملے کی گہرائی تک تفتیش کرنے کی جرات نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کے پاس نہ تو وسائل ہوں گے اور نہ ہی طاقت اور آزادی۔ صرف جی آئی ٹی، جس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل ہیں، ہی مناسب تفتیش کرتے ہوئے قریشی کے ہنگامہ خیز اعتراف کے ثبوت حاصل کرسکتی ہے۔ یہ مانا کہ اُس بدقسمت فیکٹری میں جل کرمرجانے والے عام پاکستانی مزدوروں کی کوئی اوقات نہیں تھی، وہ ویسے بھی خاک کا رزق تھے، جل کر مر جاتے یا کسی اور وجہ سے۔۔۔۔ لیکن کیا اُس ہولناک واقعے پر کسی کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ہم سب بحیثیت قوم اتنے بے شرم اور بے غیرت ہوچکے ہیں؟

تاہم لمحاتی اشتعال کی بجائے مناسب اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔۔۔ اُس طرح نہیں جس طرح ماڈل ٹائون فائرنگ کے واقعے کی ہوئی ، بلکہ غیر متعصبانہ، شفاف تفتیش تاکہ نہ کوئی بے گناہ مورد ِ الزام آئے اور نہ ہی کسی مقدس گائے کو چھونے سے گریز کیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک مشکل اور دشوار مرحلہ ہوگا اور اس میں بہت سے خطرات بھی لاحق ہیں۔ ایک کسی بھی کال پر کراچی بند اور اس میںتشدد اور قتل و غارت کا طوفان برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود اب اس معاملے کو قالین کے نیچے نہیں چھپایا جاسکتا۔اگر ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں تو یہ یقینا ایم کیو ایم کے ساتھ زیادتی ہے، لیکن اگریہ الزامات جھوٹے نہیں توپھر ان کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے ورنہ دہشت گردی کے خاتمے کے ہمارے دعوی بے بنیاد اور کھوکھلے ثابت ہوںگے۔

اس دوران ایک اور نکتے کوبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اگر کوئی کیس ملٹری کورٹ میں بھجوائے جانے کے لئے کوالی فائی کرتا ہے تو وہ یہ کیس ہے۔ پاکستان کا مسئلہ صرف ایک قسم ، مذہبی دہشت گردی ہی نہیںبلکہ اس کی اور بھی بہت سی اشکال ہیں۔ اس جماعت کا ابتدائی رد ِعمل ہیملٹ میں ایک لیڈی کی طرح ہے جو اتنا احتجاج کرتی ہے کہ مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے۔اگر یہ دل جمعی سے جوڈیشل کمیشن،جو صرف وقت کا زیاں ہوتا ہے، کی بجائے مکمل کریمنل انوسٹی گیشن کے لئے تعاون کرے تو بہتر ہوگا۔یہ تفتیش سندھ پولیس نہیں کرسکتی، لیکن جے آئی ٹی کرسکتی ہے جس میں سندھ پولیس کی بھی نمائندگی ہوگی۔ اب، جو کہا جاتا ہے، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوجانا چاہیے۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا انصاف اقتدار کی مجبوریوں اور طاقتور حلقوں کے احکامات سے بلند ہوسکتا ہے؟

ماڈل ٹائون فائرنگ کیس میں اقتدار عدل سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔۔۔ چودہ افراد کوگولیوںسے بھون دیا گیا اورچالان تک نہ کٹا، نہ عدالت میں ٹرائل ہوا اور نہ ہی کوئی ثبوت ملا۔ اس کی بجائے ، اس واقعے کے ایک مشتبہ شخص کو ورلڈٹریڈ آرگنائزیشن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ یقینا پاکستان میں انصاف ایسے ہی ہوتا ہے۔ پشاوراسکول میں بچوں کے قتل کا بھی دلخراش واقعہ تھا، لیکن ایک فرق ہے کہ ہم اس میں ملوث ہاتھ کو جانتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، دہشت گردوں کی طرف سے اُس واقعے کا اعتراف بھی سامنے آچکا ہے۔ تاہم ماڈل ٹائون فائرنگ کا واقعہ ہو یا بلدیہ ٹائون فیکٹری کا سانحہ، ہم ملوث ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر اس تفتیش سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا اور یہ بے نتیجہ ختم ہوجاتی ہے تو بھی اس کا ایک فائدہ تو ہوگا۔ اس سے پہلے کراچی کے طاقتوحلقوں کو اس طرح جواب دہ نہیں ہونا پڑا تھا۔ ایسا کب ہوا تھا کہ لیاری گینگ وار کے کسی ڈان کو انٹر پول کی مدد سے دبئی سے گرفتار کرکے لایا گیا ہو۔ کیا یہ روشنی کا عارضی کوندا ہے یا پھر ہمارے سامنے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اندھیرا چھٹنے جارہا ہے ؟ ان تمام معاملات میںقابل ِ تشویش ایک ہی بات ہے کہ یہ سب اقدامات فوج، یا اس کے معاون بازو، رینجرز، کی طرف سے اٹھائے جارہے ہیں۔ سویلین حلقے تصورات اور اقدامات سے تہی داماں سکوت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ کیاہمارے ہاںگن کی طاقت ہی سیاسی دانائی کا سرچشمہ ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند