تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دہلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 14 ربیع الثانی 1442هـ - 30 نومبر 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 22 ربیع الثانی 1436هـ - 12 فروری 2015م KSA 07:14 - GMT 04:14
دہلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی

تبدیلی نہ تو تقریروں سے آتی ہے ۔ نہ جلسوں سے اور نہ ہی دھرنوں سے۔ حقیقی تبدیلی بیلٹ بکس سے آتی ہے اور جب لوگ تبدیلی کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان کو ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی ہی تبدیلی بھارت کے شہر دہلی میں آئی ہے۔ جسے ایک یونین کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی اپنی اسمبلی ہے جسے ’’ودھن سبھا‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں کل 70 سیٹیں ہیں۔ 7 فروری 2015ء کو ہونے والے انتخاب میں اس اسمبلی میں بھارت کی عام آدمی پارٹی نے 67 سیٹیں جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ باقی تین سیٹیں بھارت کی مرکزی حکومت میں حکمران جماعت بی جے پی نے حاصل کی ہیں۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے لیے بھی کم از کم سات سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں جن میں بی جے پی اور کانگریس شامل ہیں اس قابل بھی نہیں کہ دہلی کی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا انتخاب بھی جیت سکیں۔ البتہ عام آدمی پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر بی جے پی سے ہی ہو گا جس پر وہ اعتراض نہیں کریں گے۔ یہ ہے تبدیلی جو دہلی کے انتخاب میں آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی جس کا قیام ہی نومبر 2012ء میں عمل میں لایا گیا، نے پہلی بار دہلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔

2013ء کے ان انتخابات میں عام آدمی کے لیڈر اروند کجریوال اگرچہ وزیراعلیٰ بن گئے لیکن انہیں کانگرس اور دیگر جماعتوں کے ارکان کا سہارا لینا پڑا۔ 28 دسمبر 2013ء کو انہوں نے اقتدار سنبھالا لیکن وہ ایجنڈا جس کے لیے وہ اقتدار میں آئے تھے اور قانون سازی کے خواہاں تھے۔ شریک اقتدار پارٹیوں نے اس پر ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے 14 فروری 2014ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنے استعفے کو جلد بازی قرار دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ اگر اقتدار میں آئے تو استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد دہلی میں گورنر راج لگا دیا گیا جس کے بعد اب دوبارہ انتخابات ہوئے اور عام آدمی پارٹی نے مکمل طور پر دیگر بڑی چھوٹی پارٹیوں کا صفایا کر دیا۔ اب اروند کجریوال کے پاس مکمل کنٹرول ہے۔ وہ جو چاہیں قانون بنا سکتے ہیں اور جیسے چاہیں حکومت چلا سکتے ہیں۔ اس مختصر عرصے میں اروند کجریوال نے کیسے عوام کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ تقریباً تمام کی تمام سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو گئے اور بڑی پرانی پارٹیوں کو مات دے دی۔ وہ کون سا ایجنڈا ہے جس کی تکمیل وہ اپنی سابقہ حکومت میں نہیں کر سکتے تھے اور انہوں نے صرف 49 دن بعد ہی استعفیٰ دے دیا۔ دہلی کی وزارت اعلیٰ قربان کر دینا کوئی آسان فیصلہ نہیں۔ اس کے لیے جذبے، ہمیت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔

اروند کجریوال کا ایجنڈا کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ اس کے خلاف قانون سازی کی جائے لیکن دوسری حلیف جماعتوں نے ان کا ساتھ نہ دیا لیکن ان کی ہمت کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے اپنے مشن پر اپنی حکومت، جیت اور ذاتی وزارت اعلیٰ قربان کر دی۔ لیڈر ایسے ہوتے ہیں اور ان کی تقلید اور حوصلہ افزائی پھر عوام بھی اس طریقے سے کرتے ہیں کہ اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جیسا اعزاز عام آدمی پارٹی کو دہلی میں ملا ہے شاید دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس سے قبل کہ بات کو مزید آگے بڑھایا جائے یہ ضروری ہے کہ اروند کجریوال کے بارے میں تھوڑی گفتگو کی جائے کہ ان کے سفر کا آغاز کہاں اور کیسے ہوا۔ اروند کجریوال نے اپنے کیرئر کا آغاز 1995ء میں انڈین سول سروس کے انڈین ریونیو سروس میں شمولیت سے کیا۔ وہ مقابلے کے امتحان کے بعد سروس میں آئے۔

2000ء میں انہیں دو سال کی چھٹی مکمل تنخواہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دی گئی جس میں شرط تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپسی پر تین سال تک سرکاری ملازمت سے استعفیٰ نہیں دے سکیں گے۔ اگر اس دوران انہوں نے ایسا کیا تو انہیں دو سال کی حاصل کی ہوئی تنخواہ واپس حکومت کو دینا ہو گی۔ نومبر 2002ء میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کجریوال نے دوبارہ محکمہ میں رپورٹ کی۔ انہیں تقریباً ایک سال تک کوئی پوسٹنگ نہیں دی گئی اور بغیر کام کیے تنخواہ ملتی رہی۔ 18 ماہ بعد انہوں نے حکومت کو بغیر تنخواہ چھٹی کی درخواست دے دی، جو منظور ہو گئی۔ 18 ماہ بغیر تنخواہ چھٹی گزارنے کے بعد انہوں نے 3 سال کی شرط پوری سمجھتے ہوئے استعفیٰ دے دیا لیکن حکومت نے انہیں معاف نہیں کیا اور ان سے تنخواہ کی رقم واپس لے لی۔ انکم ٹیکس افسر کی حیثیت سے کجریوال بدعنوانی اور رشوت کے خلاف علم بردار ہوئے اور اس کے لیے مختلف طریقوں سے آواز اٹھائی۔ انہوں نے انا ہزارے، ارونا رائے اور شیکھر سنگھ جیسے لوگوں کی معاونت کی اور بدعنوانی کے خلاف خوب کام کیا۔ قومی سطح پر انہوں نے بھارت میں Right to Information Act جو کہ 2005ء میں رائج ہوا کے لیے سخت محنت کی جسے قومی سطح پر سراہا گیا۔

2010ء میں انہوں نے کامن ویلتھ کھیلوں میں کرپشن کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کرپشن کے خلاف ادارہ سنٹرل ویجیلنس کمیشن کے پاس نہ تو اختیارات ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایسے وسائل ہیں کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف شفاف تفتیش عمل میں لا سکے۔ اس لیے انہوں نے عام لوگوں کو کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ پھر سیاسی جماعت تشکیل دی اور بالآخر اسی ایجنڈے پر چلتے ہوئے آج وہ کامیاب ہو کر دہلی کے وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں۔ ان کا سفر اگرچہ بہت طویل نہیں ہے لیکن ان کا ایجنڈا عوام کے لیے اس قدر پر کشش ہے کہ لوگ جوق در جو ق ان کے ساتھ آ گئے۔

بات شروع ہوئی تھی کہ تبدیلی جب آتی ہے تو لوگ خود بخود اس کو پہچان لیتے ہیں۔ اروند کجریوال نے جب دیکھ لیا کہ ان کے ایجنڈے کی پذیرائی نہیں ہو رہی اور بڑی جماعتیں ان کا ساتھ نہیں دے رہیں تو انہوں نے حکومت ہی چھوڑ دی۔ اگرچہ ان کی پارٹی نوزائیدہ تھی۔ ان کے پاس اتنی سیاسی قوت نہیں تھی۔ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آ سکیں گے یا نہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے مقصدیت کو اولیت دی اور اقتدار کو ٹھکرا دیا۔ آج اگر وہ فتح کا جشن منا رہے تو صرف اس لیے کہ انہوں نے ان عوامی امنگوں کا ساتھ دیا جس کے لیے انہوں نے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا۔ دہلی میں ان سے قبل چھ وزراء اعلیٰ آئے لیکن ان کا دور اقتدار ان سب سے کم رہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کو بہت کم عرصے میں اتنی شاندار تاریخی کامیابی ملی۔

اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سب سے کم عرصے میں دہلی کی وزارت اعلیٰ حاصل کی۔ یعنی پارٹی کی بنیاد نومبر 2012ء میں رکھی گئی اور دہلی کی وزارت اعلیٰ ان کو دسمبر 2013ء میں مل گئی ان تمام حالات و واقعات کو دیکھا جائے تو سیاسی تاریخ میں یہ ایک عجب دستان ہے۔ اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ عوام بدعنوانی اور رشوت ستانی کو پسند نہیں کرتے اور جو کوئی اس کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھاتا ہے لوگ اس کو ہر طرح سے نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی پچھلی مختصر حکومت میں کانگریس نے دیکھ لیا کہ ان کی سیاست دہلی کی گلیوں اور بازاروں میں نیلام ہو گئی۔ اتنی بڑی جماعت جو پورے بھارت پر حکمران رہی اور اس کے وزرائے اعلیٰ بارہا دہلی میں بھی رہے، ایک سیٹ بھی حاصل نہ کر سکی۔ بی جے پی سے لوگوں کی نفرت بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ پورے بھارت پر آج بھی حکمران ہے لیکن اس کی پالیسیوں سے متنفر عوام نے اس کا صفایا کر دیا اور وہ صرف تین سیٹیں لے سکی۔ عوام صرف شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو پسند کرتے ہیں، غلط سیاست کو نہیں۔ دہلی کا انتخاب اس کا مظہر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند