تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
United Slaves of America
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 22 ربیع الثانی 1436هـ - 12 فروری 2015م KSA 07:10 - GMT 04:10
United Slaves of America

11 ستمبر 2001ء کے بعد جب یکم جنوری 2002ء کے جھروکے سے سالِ نو کے سورج کا چہرہ دکھائی دیا تو اربابِ عالم کی آنکھوں نے اسے ضو باری کے بجائے اشک باری میں مصروف پایا۔تب سے ہر سالِ نو کے سورج کا چہرہ بیگناہ، نہتے اور معصوم شہریوں کے خون سے گلنار دکھائی دیتا ہے۔ 2002ء کے سالِ نو کے سور ج کے چہرے پر قندھار، ہرات، جلال آباد ، قندوز، طالقان، قلعہ جھنگی، کابل، زابل، تورا بورا اور غزنی کے حریت پسندوں کا خون لو دے رہا تھا۔۔۔ 2003ء کی بالکونی پر کھڑے ہو کر نئے سال کی آمد کا اعلان کرنے والے سورج کی آستین سے چیچنیا کے بیگناہ شہریوں کا خون ٹپک رہا تھا۔۔۔یکم جنوری 2004ء کی صبح مشرق کے آکسیجن ٹینٹ میں تڑپنے والے سورج کے وجود کے ہر مسام سے بصرہ، موصل، بغداد اورکرکوک کے ان شہدائے آزادی کا خون رس رہا تھا جو عالمی استعمار امریکہ سے نجات کے لئے سرگرمِ جدوجہد ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یکم جنوری 2015ء کا سورج مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے ذاتی طور پر اس امر کو پسند کرتا ہو گا کہ مشرق لحد بن جائے اور اس میں اسے لاوارث نعش کی طرح دفن کر دیا جائے۔ وہ اپنی کھلی آنکھوں سے سری نگر، کاشغر،قاہرہ،گروزنی،کربلائے معلی، نجفِ اشرف، فلوجہ ،تکریت،دمشق، حلب،کوبانی اورصنعا کی بستیوں میں خونِ مسلم کی مزید ارزانی نہیں دیکھنا چاہتا۔

مجھے یقین ہے کہ سال نو کے موقع پربھی ’’دنیا بھر کے حریت پسندوں کو مطلوب‘‘ عالمی دہشت گرد اوباما ایک بار پھر اس مفہوم کا بیان ضرور داغے گا کہ ’’2015ء میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘‘۔ یہ لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے کہ سکہ بند، مستند اور مسلمہ دہشت گرد ’’دہشت گردی کے خاتمہ‘‘کی بڑ ہانک رہے ہیں۔۔۔ گویا چمگادڑیں اور اُلو اعلان کر رہے ہیں کہ وہ ظلمتوں اور تاریکیوں کو مٹا کر دم لیں گے۔۔۔گویا تیز دانتوں اور نوکیلے پنجوں والے نیلی اور سبز آنکھوں والے بھیڑیئے یہ منادی کر رہے ہیں کہ درندگی کا خاتمہ ان کی زندگیوں کا نصب العین ہے۔ رواں صدی کا سب سے قہقہہ آور واقعہ یہ ہے کہ اسلام، مسلمانوں اور اقوام عالم کی آزادی، خود مختاری اور حریت کا سب سے بڑا دشمن امریکا ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا سپہ سالار بنا ہواہے۔

یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے کہ امریکا کی بے دام باندی اقوام متحدہ نامی تنظیم اس نام نہاد جنگ میں سامراجیوں کی ڈھال بنی ہوئی ہے۔ پنجابی محاورے کے مطابق منظرنامہ کچھ یوں ہے کہ ’’چور‘‘ اور ’’کتیا‘‘ رَل گئے ہیں۔۔۔احوال و ظروف سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ نے آنے والے ایک ڈیڑھ عشرے کے دوران عالم اسلام کا حلیہ بگاڑنے، بھر کس نکالنے اور تیاپانچہ کرنے کا ’’عزم مصمم‘‘ کر رکھا ہے۔ اس اسلام مخالف اور مسلم کش مشن کو بام تکمیل تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کیلئے اقوام متحدہ صہیون نواز صلیبی سامراج کے ہاتھ کی کدال بن چکی ہے۔۔۔
دیوانے کے ہاتھ میں خنجر تھما دیا گیا ہے

پاگل بھینسے کو ’’چائنا شاپ‘‘ میں داخلے کا ’’اجازت نامہ‘‘ مل چکا ہے.
ہرے بھرے کھیت اجاڑنے ولاے ارنے سوؤوں کے گلوں میں سلامتی کونسل کے جاری کردہ این او سیز کی مالائیں دمک رہی ہیں
ڈریکولاؤں کے سینوں پر امن کے ’’نوبل تمغے‘‘ جگمگا رہے ہیں۔
کروڑوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے جدید و قدیم سامراجی راکشش اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے ’’مہان راون‘‘ کے پھریرے تلے اکٹھے ہو چکے ہیں۔

کالعدم استعماری طاقتیں (سپین، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور روس) سب سے بڑے استعمار امریکا کے خون آلود ہاتھوں پر ’’عالم اسلام کی مکمل تباہی و بربادی‘‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے ’’غیر مشروط بیعت‘‘ کر چکی ہیں۔ جدید و قدیم استعماری طاقتوں کے اس اتحاد کے بازوہائے شمشیر زن بھارت اور اسرائیل ہیں۔

یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ مسلم ممالک کے عاقبت نااندیش حکمران بھی اس ’’صلیبی، صہیونی‘‘ اور’’ ترشولی اتحاد‘‘ کی فوج ظفر موج کا ہراول دستہ بنے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام کے بے حمیت اور بزدل حکمرانوں نے چند سفلی اور پیش پاافتادہ مفادات کیلئے مسلم ممالک کی قومی خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ کو امریکا کے بخشی خانے میں رہن رکھ دیا ہے۔ عالم اسلام کے یہ حکمران تاریخ کے اس نازک اور حساس موڑ پر ابن علقمی، میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر 59 ملک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے۔۔۔سنا ہے کہ صفحہ ہستی پر ایک بھی ملک ایسا نہیں جہاں اسلامی حکومت ہو۔۔۔کڑوا ترین سچ تو یہ ہے کہ عالم اسلام کے اکثرممالک بالواسطہ طور پر امریکا کے غلام ہیں۔ ان ممالک پر امریکا کے تابع فرمان جرنیلوں، کٹھ پتلی پارلیمنٹوں، پٹھو امراء، شیوخ، صدور ، وزرائے عظام اور بادشاہوں کا قبضہ ہے۔ دو چار مسلم مملکتوں کو چھوڑ کر باقی ماندہ امریکی نیاز مندوں کی ’’مقبوضات‘‘ ہیں۔
یادش بخیر! افغانستان کی آزادی 5دسمبر 2001ء اور عراق کی آزادی اپریل 2003ء میں سلب ہو چکی ۔ کیا بعید کہ چند آزاد مسلم ممالک کو چھوڑ کرباقی ماندہ مسلم ممالک پر قابض حکمران اپنے اپنے ممالک کو امریکا کی ذیلی توسیعی ریاستیں قرار دے دیں اور اس اقدام کو وہ کھلی ہوئی باچھوں کے ساتھ’ عملیت پسندی‘ قرار دیں۔۔۔ان کا بس نہیں چلتا۔۔۔ ان کا بس چلے تو یہ عالم اسلام پر مشتمل بلاک کو بھی ’’یو ایس اے‘‘ بنا دیں۔۔۔ جی ہاں! نیا یو ایس اے

الطاف بھائی کی خواہش
محمدثقلین رضا

اللہ بخشے نوابزادہ نصراللہ خان کو‘ ان کے متعلق کہاجاتاتھا کہ وہ جمہوریت کے دور میںآمریت کیلئے اوردورآمریت میں جمہوریت کیلئے جدوجہدکرتے ہیں لیکن یہ ماضی کا قصہ ہے فی زمانہ پاکستانی سیاست ایسے بے شمارسیاستدانوں سے بھری ہوئی ہے جن میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ لولی لنگڑی جمہوریت کو پاؤں پاؤں چلتے دیکھ نہیں پاتے اورخواہشمند ہوتے ہیں کہ ’’فوراً سے پہلے‘‘ ہی فوج کو دعوت دے کر عنان اقتدار سونپاجائے۔ لیکن جونہی آمر مسلط ہوتاہے تو پھر دال ساگ پورا ہونے پر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اب جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیلا جائے۔ ایسے ہی سیاستدانوں میں ایم کیو ایم والے الطاف بھائی بھی شامل ہیں‘ جب تک پرویز مشرف کاطوطی بولتا رہا تو موصوف فرنٹ سیٹ کے سوارتھے، جونہی مشکلات پڑیں اور کچھ پیپلز پارٹی سے ان کا یارانہ ہوا تو انہیں فرنٹ سیٹ چھوڑنا پڑی۔ پھر جونہی مشرف وداع ہوکر دبئی ‘لندن یاترا کو نکلے تو بھائی کے بیانات کارخ بھی بدل گیا اور ان کے ’’خطبات ‘‘ میں پی پی کارنگ نمایاں ہوگیا اور پانچ سال روپیٹ کر پورے کرنے کے بعد جب دوبارہ انتخابات میں انہیں کئی مقامات پر تحریک انصاف کے سامنے حزیمت اٹھاناپڑی تو موصوف عمران خان کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑے۔ وہاں سے کام نہ بنا توپھر کبھی مولانافضل الرحمن اور کبھی کسی دوسرے سیاسی رہنما کا پیچھاکرنا شروع کردیا ۔بات نہ بنی تو اب پھر فوج کو ترغیب دینا شرو ع کر دیا ہے۔

بھائی نے فوج کو اپنی غیرت بیدار کرنے، بچانے اور ناقابلِ قبول احکامات ماننے سے انکار کرنے کا مشورہ دیدیا ہے۔ایم کیو ایم کے یوم تاسیس پر کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ہم چند ٹکوں کی خاطر اپنی غیرت بیچ چکے ہیں، فوج کو بغیر سوچے سمجھے دوسرے ممالک میں لڑنے کیلئے بھیج دیا جاتا ہے اس لیے مسلح افواج ایسا کوئی بھی حکم ماننے سے انکار کر دیں۔ ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ ان پر مارشل لاء پسند ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، کچھ حاصل کرنا ہوتا تو کسی بھی آمر کی حمایت کر کے حاصل کر چکے ہوتے لیکن کرپٹ سسٹم تبدیل کرنے جب بھی کوئی آیا فوج سے ہی آیا۔مظفر گڑھ میں انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خودسوزی کرنے والی طالبہ کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ غیرت کاسودا کرنے والے بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، ایک ہفتے کا اقتدار مل جائے تو تھانے داروں کو الٹا لٹکا دیں گے،اس موقع پر وہ آبدیدہ ہو گئے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ انقلاب راتوں رات نہیں آتے، اصل تحریک ظلم کی چکی میں پسنے والے طبقات سے جنم لیتی ہے۔ ایم کیو ایم کی تحریک کا سیلاب بڑھتے بڑھتے اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچ جائے گا

ان کے الفاظ کی گونج گرج اسلام آباد کے ایوانوں میں بھی پہنچ گئی اور حکومت نے الطاف حسین کے بیان کو غیرسنجیدہ ، سازشی اور خطرناک قراردے کر انہیں اپنے بیانات پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراطلاعات پرویز رشید نے ایم کیوایم کے قائد کے بیان پر ردِعمل میں کہا کہ الطاف حسین کو بیانات دیتے ہوئے سوچنا چاہئے،غیرسنجیدہ بیانات غیرسنجیدہ نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے بیانات خطرناک رجحان کو فروغ رہے ہیں اور افراتفری پھیلا رہے ہیں۔

الطاف بھائی اکثر کہتے ہیں کہ اگر انہیں ان باتوں کی و جہ سے غدار کہاجاتا ہے تو وہ ہرمقدمہ بھگتنے کو تیار ہیں۔ پتہ نہیں اب غداری کامقدمہ کون درج کراتاہے اور بھائی یہ مقدمہ بھگتنے کیلئے پاکستان آتے بھی ہیں یا نہیں ‘ خیر یہ خیالی پلاؤ پکانے والی بات ہوگئی ورنہ بھولاکہتا ہے کہ ہردوتین ماہ بعد بھائی ایسی کوئی موشگافی چھوڑتے ہیں جس کا ظاہراً کوئی منہ سر نہیں ہوتا یعنی غریب کی اس چادر کی طرح ہوگئی کہ سرڈھانپو تو پاؤں ننگے اورپاؤں ڈھانپو تو سر ننگا۔ لگتاہے کہ سند ھ کی سیاسی چادر بھی الطاف بھائی پر کم پڑرہی ہے اسی لئے تو کبھی سیاست بچانے کیلئے سر کی فکرکرتے ہیں اورپھر جب پاؤں پرسیاسی ٹھنڈ اثر پذیرہوتو سر ننگا کرکے پاؤں ڈھانپ لیتے ہیں

صاحبو!بات چلی تھی بابائے سیاست نوابزادہ نصراللہ خان سے اور آن پہنچی الطاف بھائی تک‘ گوکہ دونوں میں کوئی ایک قدر بھی مشترک نہیں ہے اس کے باوجود بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں میں ایک قدر بہرحال مشتر ک ہے کہ دونوں جب چاہیں یا چاہتے کوئی بھی ان کی قربت میں آجاتا ۔عرف عام میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ نوابزادہ نصراللہ خان کسی دور میں بینظیربھٹو کے سخت مخالفت تھے اور پھر جب’’ جمہوریت بچانے کیلئے‘‘ اتحاد قائم ہوا تو یہی نوابزادہ صاحب بینظیر بھٹو کی بدولت اسی اتحاد کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے والے کھلاڑی تھے ۔خیردونوں مرحومین کیلئے اب دعا ہی کی جاسکتی ہے ۔ بہرحال بعض سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ بھائی اب نوابزادہ صاحب کے مشن پر کسی نہ کسی طرح سے کاربند ہیں۔

ہم اکثر عرض کیاکرتے ہیں‘کہ پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کاعجیب مزاج ہے جمہوریت کی ٹھنڈی ہوااگر مسلسل پانچ سال تک چلتی رہے تو بیچارے بے چین ہوجاتے ہیں اوران کی خواہش ہوتی ہے کہ اب آمریت کی لو سے فائدہ اٹھایاجائے یایوں کہئے کہ ٹھنڈے ٹھار خون کو گرمایاجائے جب آمریت کی لُو جسم کوشدید حد تک گرمادیتی ہے تو پھر یہ صاحبان جمہوریت جمہوریت کی راگنی گانے لگتے ہیں ۔ ستم ظریف ایسے جلد باز واقع ہوئے ہیں کہ کسی ایک نظام کو ٹکنے تک نہیں دیتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے چاہنے یا خواہش پر نظام فوراً تبدیل ہوجائے۔ حالانکہ بعض ناقدین کاخیال ہے کہ پاکستان میں سرے سے جمہوریت آئی ہی نہیں ہے‘ پتا نہیں یاران وطن جس کو جمہوریت سمجھتے ہیں وہ بھی آمریت کی چھوٹی بہن ہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن جمہوریت کی تسبیح پھیرنے والوں کاخیال ہے یہ بڑی بہن یعنی آمریت نے بیچاری چھوٹی بہن یعنی جمہوریت کے حق پر ہمیشہ ڈاکہ ڈالا ہے اور ہرپانچ سات سال کے بعد آکر اس کا ہنستا بستا گھر تباہ کرکے خود ’’گھس بیٹھیا‘ ‘ بن کر اس کے آنگن میں راج کرتی ہے اورپھرسبھی کچھ تباہ کرنے کے بعد دامن جھٹک کر اور یہ کہہ کر چل نکلتی ہے کہ ’’ میں اپنی بہن جمہوریت کا حلوہ کھانے آئی تھی‘ کھالیا اب چل پڑی ہوں‘‘۔ شاید الطاف بھائی بھی دونوں بہنوں میں سے کسی ایک کو ناراض کرنا نہیں چاہتے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند