تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کی زوال پذیر جمہوریت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 24 ربیع الثانی 1436هـ - 14 فروری 2015م KSA 08:39 - GMT 05:39
ترکی کی زوال پذیر جمہوریت

پچھلے چند سالوں سے ترکی کی صورتِ حال کا جائزہ نہایت مایوس کُن ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا یہ مسلمان اکثریت ممالک کا رشک تھا کہ ایک قابلِ عمل اُمیدوار عالمی انسانی حقوق، جنسی مساوات ، قانون کی بالا دستی ، کُرد اور غیرمسلم شہریوں کے حقوق کی بلندی کیلئےجمہوریت کو فعال بنانے کےلئے یورپی یونین کی طرف چلا ۔ یہ تاریخی موقع اب تُرکی کی حکمران جماعت سے ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کو اے ۔ کے ۔پی کے طور پر جانا جاتا ہے۔تُرکی کے موجودہ حکمران واضح اکثریت سے الیکشن جیتنے کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جیت اُن کو آئین اور اختلافِ رائے کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتی ، خاص طور پر جب الیکشن انتہائی سرمایہ کاری اور میڈیا کی افادیت کے ساتھ جیتے جائیں۔

اے۔ کے۔ پی کے رہنماء اب ریاست پر ہر طرح کی جمہوری تنقید کرتے ہیں۔بطور دشمن یا بد ترین غدار کے طور پر جائزہ لیتے ہوئے وہ ملک کو مطلق العنانیت کی طرف لے جارہے ہیں ۔اب آزاد میڈیا تنظیموں کے ورکرز ، افسران اور مدیران اس زوال کا شکار ہو رہے ہیں ۔اور انہیں حالیہ قانون اور عدالتی نظام میں تبدیلی کے ذریعے جیلوں میں بند کیا گیا اور انہیں الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ایک نمایاں ٹیلی وژن چینل کے ڈائریکٹر کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا وہ ابھی تک جیل میں ہے۔ عوامی افسران کو بد عنوانی کی تحقیق کرنے کے بدلے میں جیل بھیج دیا گیا ۔ایک آزاد عدلیہ ، ایک فعال شہری معاشرہ اور میڈیا حکومت کی سر کشی کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔اُن کو پُر خطر پیغام بھیجا جاتا ہےکہ جو حکومتی ایجنڈا میں رکاوٹ ڈالے گا ۔ اُن پر بہتان ، پابندیا ں اور من گھڑت الزامات لگائے جائیں گے۔تُرکی کے حکمران اب صرف مغرب سے دور نہیں بھاگ رہے بلکہ مشرق میں بھی اپنی اہمیت کھو رہے ہیں ۔ ترکی کا مثبت اثر نہ صرف خطہ میں معیشت پر انحصار کرتا ہے بلکہ جمہوریت کو فعال بنانے پر بھی ہے۔

جمہوریت کی اصل روح قانون کی بالا دستی، ہر فرد کی آزادی اور وہ بنیادی اسلامی اقدار جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہیں کسی سیاسی یا مذہبی رہنما کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ اُن کو سلب کرے۔ یہ بہت پریشان کُن بات ہے کہ مذہبی علما حکمران جماعت کے ظلم اور بدعنوانیوں پر نظریات کا اظہار کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں ۔ وہ جو مذہبی پابندیوں کی اعلامات اور زبان کا استعمال کرتے ہیں لیکن مذہب کے انتہائی اصولوں کو پامال کرتے ہیں۔ وہ مذہبی اسکالرز کی طرف سے کسی حمایت کے حقدار نہیں۔

ظلم کے خلاف بات کرنا ایک جمہوری حق ، ایک شہری ذمہ داری اور مذہبی فریضہ ہے ۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ لو گو ں کو نا انصافی کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ‘‘ اے ایمان والو انصاف کے دامن کو تھامو اور خدا کے لئے سچائی کے گواہ بنو اگرچہ وہ آپ کے والدین یا عزیزو اقارب کے خلاف کیوں نہ ہو‘‘۔ گزشتہ پچاس سالوں سے عوامی تحریک میں حصہ لینے پر میں خوش قسمت ہوں جسے بطورِ ’’ہزمت‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ جس کےلاکھوں حامی اور کارکن تُرک شہری ہیں ۔ یہ شہری دینی گفتگو ، معاشرتی خدمت ، بھلائی کی کوششیں اور تعلیم تک رسائی حاصل کرتے ہوئے زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ وہ ایک ہزار سے زیادہ جدید اسکول ، تعلیمی آگاہی کے مراکز ، کالجوں،اسپتال اور بھلائی کی تنظیمیں دنیا کے 150 ممالک میں قائم کر چکے ہیں۔ حکمران جماعت کی بار بار ’’ہزمت ‘‘ کارکنان کو ختم کرنے کی بیان بازی کچھ نہیں بلکہ اپنی آمریت کو سچ کہنے کے بہانے ہیں۔ ہزمت کارکنان نے نہ کوئی سیاسی پارٹی تشکیل دی ہے نہ ان کا کوئی سیاسی جذبہ ہے۔ تحریک میں ان کارکنان کی اندرونی ذمہ داری خدمت ہے کوئی اور بیرونی عمل کار فرما نہیں ۔ مجھے امن کی اقدار ، باہمی محبت ، اور انسان دوستی کی تعلیم اور تبلیغ کرتے ہوئے پچاس سال گزر چکے ہیں۔

میں نے تعلیم ، معاشرتی خدمت اور باہمی یقین پر زور دیا۔ میں ہمیشہ ایسی خوشی تلاش کرتا ہوں جس میں دوسروں کی خوشی ہو۔ اور دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اللہ کی خوشنودی حاصل کرتا ہوں ۔اس کے اثرات مجھ پر جو بھی ہوں میں نے ہمیشہ تعلیمی اور سماجی منصوبوں کو فروغ دیا جو ہر فرد پر اچھے اثرات رکھتا ہے۔ میں سیاسی طاقت پر یقین نہیں رکھتا۔مجھ سمیت بہت سے ہزمت کارکنان نے 2005 میں یورپی یونین کے ساتھ الحاق پر گفتگو کو شامل کرتے ہوئے حکمران جماعت کی حمایت کی ۔ ہماری حمایت اُصولوں پر مبنی تھی جیسا کہ آج ہماری تنقید ہے۔ یہ ہمارا فرض اور حق ہے کہ ہم حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں بات کریں جو کہ معاشرہ میں بہت اہم اثر رکھتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے جمہوری اظہار نے عوامی بدعنوانی اور آمریت کے خلاف آواز اُٹھانے پر ہمیں بد حالی کا شکار کر دیا دونوں ہزمت Hizmet تحریک کو اور مجھے بھی نفرت بھری تقاریر ، میڈیا کی منفی ترغیب اور قانونی دباو کا شکار بنایا ۔ترک معاشرہ کے تمام طبقات کی طرح ہزمت کارکنان کی حکومتی اداروں اور نجی سطح پر شمولیت ہے۔ یہ شہری اپنے قانونی حقوق سے انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں ہزمت کے ساتھ ہمدردی کے عوض نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔

جب تک وہ اپنے ملک کے قانون کی پاسداری اور اس کے اداروں کے قوانین اور بنیادی اخلاقی اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔معاشرہ کے کسی طبقہ کا تجزیہ اور معائنہ کسی دھمکی کے انداز میں نا قابلِ برداشت ہے۔ ہم صرف اے ۔ کے ۔ پی ۔ کے ظلم کا شکار نہیں بلکہ پُرامن ماحولیاتی احتجاج کرنے والے کُرد ، غیر مسلم شہری اور کچھ سُنی مسلمان گروپ بھی حکومتی جماعت سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ بغیر احتساب کے کوئی فرد یا گروپ حکومت کے غضب / زیادتی سے محفوظ نہیں۔ مذہبی پابندیوں کے باوجود شہری عالمی انسانی حقوق اور آزادی کے گرد متحد ہوسکتے ہیں اور متحد ہونا چاہئے اور جمہوری طورپر ان کی مخالفت کریں جو اس کو پامال کرتے ہیں۔
ترکی اب اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ میں اُمید کرتاہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ صاحب اقتداراس کو واپس غالب راہ پر گامزن کریں۔ ماضی میں ترک لوگوں نے ان منتخب رہنماؤں کو رد کر دیا جو جمہوری راستے سے بھٹک گئے تھے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے لئے دوبارہ قانونی اور جمہوری حقوق پر عمل کرنے کا دعویٰ کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند