تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستانی عام آدمی کا وقت کب آئے گا؟.
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 24 ربیع الثانی 1436هـ - 14 فروری 2015م KSA 08:37 - GMT 05:37
پاکستانی عام آدمی کا وقت کب آئے گا؟.

عام آدمی پارٹی نے نئی دہلی میں اپ سیٹ کردیا ہے لیکن اگر میں غلطی پر نہیں تو اس کا ارتعاش نہ صرف انڈیا بھر میں بلکہ سرحدپار، ہمارے ہاں بھی محسوس کیا جارہا ہے۔اس میں خاص طور پر، پرغرور اشرافیہ کے لئے وارننگ بھی ہے اورسیکھنے کے لئے گہرا سبق بھی۔ پاکستانی سیاست کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ یہ بہت دیر سے جمود کا شکار ہے۔ 1967ء میں قائم ہونے والی پی پی پی پہلی مرتبہ 1971-72ء میں اقتدار میں آئی تھی۔ اُس وقت موجودہ ووٹروں میں سے زیادہ تر نے اس دنیا میں آنکھ بھی نہیں کھولی تھی۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو کی قیادت میں یہ پارٹی 1988ء میں دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ اس بات کو بھی طویل عرصہ گزرچکا ۔ آج 2015ء کی دنیا بالکل مختلف ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (اُس وقت تک یہ بے ’’ن‘‘ تھی) نے ضیا کی گود میں آنکھ کھولی۔ اسے وٹامن کے انجکشن دے کر پی پی پی کے مد ِ مقابل کھڑا کر دیا گیا۔ شروع میں یہ بادشاہ، بلکہ جنرلوں، کی پارٹی تھی کیونکہ یہ ان کے مقاصد کی انجام دہی کے لئے ہی میدان میں اتاری گئی تھی۔ نواز شریف کو نوجوانی میں پہلے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی اور بعد میں جنرل ضیا کے دست ِ شفقت سے رہنمائی میسر آئی اور وہ اپنا سیاسی کیرئیر بنانے میں کامیاب رہے۔ تاہم جب وہ 1990ء کے انتخابات جیتنے، بلکہ سویپ کرنے، میں کامیاب ہوگئے تو اُنھوں نے اپنے پروں پر اُڑان بھرنا شروع کردی۔ اس کا اظہار سب سے پہلے صدر غلام اسحق سے چھٹکارا پاکر کیا۔ باقی تاریخ ہے، اور یوں دفاعی اداروں کے تعاون سے وجود میں آنے والی شخصیت سیاست کے حلقوں میں ایک مقبول عوامی رہنماکے طور پر ابھری۔

یہ گزرے وقتوں کی باتیں ہیں لیکن انہیں دہرانا وقت کا زیاں نہیں۔ 1997ء میں نواز شریف دوسری مدت کے لئے وزیر ِ اعظم بن گئے، لیکن مشرف کے شب خون نے اُن کو منصب سے ہٹادیا۔ اب جبکہ وہ تیسری مدت کے لئے وزیر ِ اعظم ہیں،ان کے گرد وہی پرانے چہرے دیکھ کر کسی کو حیرت نہیں ہورہی۔ آج بھی وہی سیاسی کھلاڑی، وہی وزرا، وہی کچن کیبنٹ، ہاں اگر کچھ فرق ہے تو فقط اتنا کہ خاندان کے کچھ نوخیز چہرے بھی اس ’’منتخب شدہ حلقے‘‘ میں داخل ہوکر قوم کے مسائل حل کرنے کا بیڑابخیر و خوبی اٹھا چکے ہیں۔ پاکستانی موروثی سیاست کا شاخسانہ ہے کہ ہم اگلی نسل کے بیٹوں، بیٹیوں، بھتیجوں، بھانجوں وغیرہ کو پارٹی اور آگے چل کر ملک کی سیاسی قیادت سنبھالنے کی تیاری کرتے دیکھ رہے ہیں اور اسی کو جمہوریت سمجھ کر خوش ہیں۔

تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پرانی روایتی سیاسی جماعتیں، جیسا کہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن)، جمود میں ہی اپناقیام دیکھ رہی ہیں تو دوسری طرف سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ جنرل ضیا پی پی پی کو تباہ کرنے میں ناکام ہوگئے، یہ فریضہ آصف زرداری اوران کے پانچ سالہ دور ِ اقتدار کے ہاتھوں اس طرح سرانجام پایا کہ رہے نام سائیں کا!یہ جماعت پنجاب سے تو عملی طور پر صاف ہوچکی اور فی الحال ایسا کوئی منتر دکھائی نہیں دیتا جو اسے یہاں زندہ کرسکے۔ اس کا پرچم سندھ کی حد تک ہی لہرا رہا ہے لیکن اسے وہاں بھی ابھرنے والی نئی حقیقتوں کا سامنا ہے۔ پی ایم ایل (ن) بھی اسی انحطاط سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ اس سے پہلے مشرف نے نواز شریف کی پارٹی کو تباہ کرنے کی کوشش میں اسے سیاسی شہید بنا کر مزید تقویت دے ڈالی تھی۔ اس کے علاوہ پی پی پی دور میں کی جانے والی بدعنوانی اور دکھائی جانے والی نااہلی کی وجہ سے بھی پی ایم ایل (ن) کارکردگی کا استعارہ بن کر ابھری۔ اس دہرے تاثر نے انہیں گزشتہ انتخابات میں فتح دلا دی۔

عمران خان انتخابات چرانے کی جتنی بھی باتیں کرتے رہیں، لوگوں کی اکثریت نے نواز شریف کو ووٹ ضرور دیے تھے۔ تاہم اس وقت معاملہ یہ ہے کہ ابھی یہ جماعت اپنے اقتدار کے بمشکل دوسال ہی مکمل کرپائی ہے کہ لوگوں کی توقعات کا شیش محل حقائق کی سنگ باری سے چکنا چور ہونا شروع ہو گیا ہے۔ توقعات کے بلند تر اور کارکردگی کے پست ترگراف نے پی ایم ایل (ن) کو اس طرح فاش ، بلکہ بے نقاب ، کردیا کہ اب اسے فقط اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والی ایک خاندانی پارٹی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ چونکہ لوگ اسے پاکستان کے موجودہ مسائل سے بیگانہ دیکھتے ہیں ، اس لئے فضا میں تبدیلی کا نعرہ زیادہ تقویت پکڑ رہا ہے۔ ان حالات کے پس ِ منظر میں یہ سوچنا کہ انہی پرانے سیاسی دائو پیچ سے کام چل جائے گااور ان کی اجارہ داری برقرار رہے گی جس طرح گزشتہ تیس برسوں سے تھی، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ زرداری دور کے پانچ سالوں نے پی پی پی کا تمام دم خم ختم کردیا ، پی ایم ایل (ن) کے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے جارہا ہے۔ اقتدار کے دوران اس کی نااہلی عوام پر جتنی روشن ہوتی جائے گی، اس کا مستقبل اتنا ہی تاریک ہوتا جائے گا۔ اس سے قطع نظر کہ عمران خان اور طاہر القادری کے لانگ مارچ اور دھرنوں کے پیچھے کون تھا۔

ایک لمحے کے لئے مان ہی لیں کہ کوئی پس ِ پردہ طاقت ان کی ڈور ہلارہی تھی۔ تو بھی ان کی آواز پر عوام کی ایک بڑی تعداد کا لبیک کہتے ہوئے شرکت کرنااُس حقیقت کا اظہار تھا کہ بظاہر گلے سڑے اور تعفن زدہ ’’سب اچھا ہے‘‘ نامی سیاسی سکوت کی تہہ میں پلنے والی بے چینی اور اس سے تحریک پاتے ہوئے نمودار ہونے والی تبدیلی کی طاقتیں غیر محسوس مگر یقینی طور پر سراٹھارہی تھیں۔ یہ تبدیلی روایتی سیاسی پنڈتوں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔ تبدیلی کے اس واضح احساس نے صرف کسی مخصوص طبقے یا گروہ کو ہی اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا بلکہ، چھوٹے بڑے، امیرغریب، سبھی طبقے اس سے متاثر ہوئے تھے۔ تبدیلی کی اس خواہش کا درست ادراک کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ خود اُن جلسوں میں موجود ہوں۔ اگرچہ اس تبدیلی کو کسی فلسفیانہ نظریے کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا (یقینا ہمارے ہاں کوئی لینن نہیں تھا) لیکن اس نے عوام کے دلوں میں ہلچل ضرور مچادی۔ پہلی مرتبہ پاکستانی خواتین ، جو آبادی کا نصف سے زیادہ ہیں، باہر نکلیں اور اُنہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے تبدیلی آچکی ہو۔

کون کہتا ہے کہ دھرنے ایک ناکامی تھے؟وہ سیلابی پانی جو دریا کے کناروں سے باہر بہہ نکلے اور پھر زور ٹوٹنے کے بعد واپس روایتی دھارے میں آجائے ، وہ بھی اپنے پیچھے زرخیز مٹی ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ وہ زمین جس پر وہ سیلابی پانی بہتا ہے، زرخیز ہوجاتی ہے۔ عظیم رومانوی شاعر، شیلے کاکہناہے کہ میری مردہ سوچ کائنات کو اس طرح تحریک دیتی ہے جیسے سوکھے ہوئے پتے مردہ زمین میں جان ڈال کر اس کی قوت ِ نمو میں اضافہ کردیتے ہیں۔ جب امید کا سورج ڈوب چکا ہو، چاروں طرف مایوسی کے اندھیرے کا راج ہو تو اُس کی نظم ’’ویسٹ ونڈ‘‘ سے بہتر کوئی تریاق نہیں۔ اس کے اختتامی شعر اتنے اثر آفریں ہیں کہ دل ِ مردہ کے مرض ِ کہن (مایوسی) کا چارہ بن جاتے ہیں۔

اگر پاکستان سوئٹزرلینڈ جیسا پرسکون ملک ہوتا اور اس کے حالات نارمل ہوتے تو ہم مزے سے چاکلیٹ کھاتے، مشروبات سے انجوائے کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی طرف بڑھ جاتے، لیکن افسوس، ہمارے ہاں ایسی صورت حال نہیں ہے۔ یہاں بہت سی تباہ کن قوتیں کام کررہی ہیں۔ ان میں کچھ باہم متصل جبکہ کچھ متحارب ہیں۔ یہ ایسی ہنگامہ پرورسرزمین ہے جس میں اعتدال کی دال نہیں گلتی۔ کیا یہاں کسی بہتر حکمران کی ضرورت نہیں؟کیا ہم اپنی آسمانی طاقتوں کے ساتھ یہ طے کر چکے ہیں کہ ہمارے حکمران ہمیشہ بدعنوان، نااہل اور اوسط درجے کی ذہانت کے مالک ہوںگے؟ کیا یہ ہماری قسمت میں لکھا جا چکا کہ یہاں باپ کی جگہ بیٹا یا انکل کی جگہ بھتیجا لے لے گا۔

گویا پہلے باپ قوم کے وسائل سے اپنی تجوریاں بھرے اور پھر اس کھیتی (قوم) کو اپنی اگلی نسل کے حوالے کردے؟ ہم نے دیکھا کہ بھارت میں کانگریس کے ساتھ کیا ہوا اور پھر ہم نے اپنے ہاں یہی کچھ پی پی پی جیسی عظیم پارٹی کے ساتھ بھی ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس ضمن میں تازہ ترین سبق نئی دہلی کے انتخابات سے ملا ہے۔ کیا پاکستانی سیاست کسی تنگ بوتل میں بند یا پلستر میں جکڑی ہوئی ہے کہ اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں بچی؟چونکہ اس راہ گزر پر ہم ابھی قید ِ مقام میں ہیں، اس لئے یہ بے کیف موسم ِ سرما ہمارے اعصاب پرسواررہا۔ تاہم اب بہار کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ اگر نئی دہلی میں عام آدمی کا وقت آگیا ہے تو ہمارے ہاں عام آدمی کس انتظار میں ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند