تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کو اس خطرناک کھیل سے روکا جائے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 25 ربیع الثانی 1436هـ - 15 فروری 2015م KSA 08:51 - GMT 05:51
بھارت کو اس خطرناک کھیل سے روکا جائے

پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یہ جنگ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے ہے۔ پاکستان جس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے، وہ دہشت گردی عالمی سامراجی مفادات کا شاخسانہ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اس خطے کااہم ملک ہے، جہاں ان سامراجی مفادات کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ پاکستان کو اس گھناؤنے کھیل اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی دہشت گردی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقاء کے لئے اس دہشت گردی کا ہر حال میں خاتمہ کرنا ہے لیکن یہ پاکستان کی ہی نہیں بلکہ اس خطے کے دنیا کے تمام ممالک کی یہ ضرورت ہے کہ دہشت گردی ختم ہو۔ لہذا پوری دنیا کو اس جنگ میں پاکستان کی مدد اور حمایت کرنی چاہئے لیکن انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی حمایت نہیں کررہے بلکہ وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں بھارت سرفہرست ہے۔

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیاجاتا ہے۔ وہ اس خطے کا ایک بڑا ملک ہے ۔ بھارت اپنے آپ کو ایک عالمی طاقت کے طور پر منوانے کے لئے کوشاں ہے۔ لہذا اس کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑی ہیں لیکن جو کچھ وہ پاکستان کے ساتھ کررہا ہے، اس سے خطے کے امن کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بھارت نہ صرف لائن آف کنٹرول پر مسلسل فوجی کارروائیاں کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اپنی فوجوں کے اجتماع سے پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان پر مسلسل دباؤ رکھنے کی بجائے ایسے حالات پیدا کرتا کہ پاکستان کی افواج اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور انہیں مشرقی سرحدوں کی کوئی فکر نہ ہو مگر بھارت مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو اس کی مشرقی سرحدوں پر مصروف (Engage) رکھا جائے۔ پاکستان بیک وقت مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اپنی توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتا۔ مغربی سرحدوں سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان کی سرحد سے پاکستان کے اندر دہشت گردوں کو کارروائیاں کرنے کا موقع مل سکے اور پاکستان ان دہشت گردوں کو روکنے یا کچلنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف نہ کر سکے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بجا طور پر درست کہا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے یہ بات بھی بڑے وثوق کے ساتھ کہی ہے کہ بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے اور وہاں دہشت گردوں کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے کیونکہ اتنی بڑی فنڈنگ بیرونی امداد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ باتیں صرف الزام تراشی کے لئے نہیں کہی ہیں بلکہ پاکستان نےاس حوالے سے امریکہ،برطانیہ، افغانستان اور خود بھارت کو بھی ثبوت مہیا کئے ہیں ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری دنیا بھارت کے ان اقدامات اور ہتھکنڈوں کا سختی سے نوٹس لے۔ پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ پاکستان میں اس امر کی جانب خاص طور پر ان کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ پاکستان نے یہ واضح کیا تھا کہ اگر دنیا یہ چاہتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور جس خطے میں دہشت گردی پروان چڑھی ہے یا اسے پروان چڑھایا گیا ہے، اس خطے سے اس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ پاکستان سے اب ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور تمام فوجی ، نیم فوجی اور سویلین فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ۔اس جنگ میں ہماری فورسز کے ہزاروں افسران اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ دہشت گردوں نے 50 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانی شہریوں کو بھی شہید کیا ہے۔ جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی تھیں، اس وقت بھی پشاور میں امام بارگاہ پر دہشت گردوں کے حملے اور متعدد افراد کی شہادتوں کی خبریں آرہی تھیں۔ پاکستان میں روزانہ ’’نائن الیون‘‘ برپا ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں، پاکستان کی سول سوسائٹی اور پاکستان کے عوام دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں متفق اور متحد ہیں اور ہر لمحہ ہنگامی صورت حال میں زندگی گزاررہے ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل فوجی کارروائیاں کرتا رہے، پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اپنے فوجی اجتماع کو بڑھاتا رہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کرتا رہے تو پھر دنیا کو واضح طور پر یہ موقف اختیار کرنا چاہئے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا مخالف ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ اس خطے سے اور اس کرہ ارض سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو ۔ دنیا کو بھارت کے خلاف ایک محاذ بنانا چاہئے۔

یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی سرحد پر تناؤ کی بھی صورت حال رہی ہے لیکن بھارت کو اس بات کا ضرور خیال کرنا چاہئے تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لئے چیلنج ہے اور موجودہ حالات انتہائی غیر معمولی ہیں ۔ پاکستان سے روایتی کشمکش کو ایک طرف رکھ کر بھارت کو چاہئے تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی بھرپور مدد اور معاونت کرتا ، جو جنگ بھارت کے لئے بھی اتنی ہی اہم ہے، جتنی پاکستان کے لئے ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات یا تناؤ کی کیفیت سے بچنے کے لئے بات چیت کا بھی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان غیر معمولی حالات میں پاکستان کو الجھانے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتا بلکہ وہ اس کا محرک بھی ہے۔ ایک طرف تو بھارت اپنی سرحدوں پر پاکستان کو مصروف رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف اس نے افغانستان میں بھی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے اپنے انٹیلی جنس اور دیگر اداروں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کرلیا ہے، جو ہر وقت پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس طرح بھارت پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر پاکستان کو ’’انگیج‘‘ کئے ہوئے ہے ۔ ویسے تو بھارت یہ کہتا ہے کہ مسلمان انتہا پسند مذہبی گروہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں جبکہ دوسری طرف وہ افغانستان میں بعض انتہا پسند گروہوں کی پرورش اور سرپرستی کر رہا ہے۔ پاکستان دشمنی میں بھارت کی اسٹیبلشمنٹ عالمی امن کےلئے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خاص طور پر اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہئے اور بھارت کو اس خطرناک کھیل سے روکنا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند