تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عام آدمی پارٹی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 26 ربیع الثانی 1436هـ - 16 فروری 2015م KSA 09:43 - GMT 06:43
عام آدمی پارٹی

بھارت کے مرکزی دارالحکومت دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اروند کمار کجریوال کی عام آدمی پارٹی نے 70 کے ایوان میں 67 نشستیں جیت کر ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی جماعتوں کو دھول چٹا دی۔ باقی بچنے والی تین نشستیں BJP کو مل گئیں، جب کہ کانگریس ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی۔ 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں اس جماعت نے 28 نشستیں حاصل کر کے مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن اکثریت BJP کو ملی تھی، جسے 32 اور کانگریس کو 8 نشستیں ملی تھیں۔

چونکہ حکومت سازی کے لیے 36 نشستیں درکار تھیں، اس لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کو حکومت سازی کی دعوت دی، جنھوں نے کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ مگر 49 روز بعد ہی ان کی حکومت مستعفی ہوگئی، ان کا کہنا تھا کہ جو اصلاحات وہ لانے کے خواہشمند تھے، اس میں انھیں شدید دشواریوں اور مزاحمتوں کا سامنا ہے۔ فروری 2014ء کے بعد سے دہلی میں گورنر راج نافذ تھا۔ اب عام آدمی پارٹی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ حکومت بنائے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے؟ لیکن اس سے قبل یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کا پس منظر کیا ہے؟ بھارت کے نمایندہ شہر کے باسیوں نے کیوں اس جماعت کا انتخاب کیا؟ دہلی میں رونما ہونے والی تبدیلی کے بھارت کی دیگر ریاستوں کے علاوہ پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

یہ دیکھنے کے لیے کہ عام آدمی پارٹی کیا ہے اور اس کی کامیابی کے کیا اسباب ہیں؟ ہمیں بھارت کی سیاسی تاریخ کا اجمالی جائزہ لینا ہو گا۔ اس میں شک نہیں کہ انڈین نیشنل کانگریس نے آزادی کے بعد بھارت کو سیکولر آئین دے کر جمہوری نظم حکمرانی کی جڑیں مضبوط کیں، یعنی نظم حکمرانی تو جمہوری ہو گئی، لیکن پیچیدہ ہندوستانی معاشرے کو جمہوری بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ صدیوں سے جاری ذات پات کے نظام میں کسی حد تک کمی ضرور واقع ہوئی، مگر ختم نہیں ہوسکا۔

اسی طرح مذہبی اقلیتوں کو آئین میں تحفظ فراہم کیے جانے کے باوجود سماجی سطح پر تحفظ حاصل نہیں ہو سکا۔ مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے علاوہ نچلی جاتیوں سے تعلق رکھنے والے شہری بھی آزادی کے بعد سے شدید نوعیت کے سیاسی، سماجی اور معاشی عدم تحفظ کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وقت گزرنے کے ساتھ گورننس میں پیدا ہونے والی کمزوریوں کے باعث کرپشن اور بدعنوانیوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا، جس نے عام آدمی کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کیا۔

اس تناظر میں بھارتی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو آزادی کے بعد انڈین نیشنل کانگریس ملک گیر سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی دوسری بڑی ملک گیر جماعت تھی۔ جب کہ دائیں اور بائیں بازو کے مختلف چھوٹی بڑی جماعتیں ملک کے مختلف حصوں میں فعال تھیں۔ کمیونسٹ پارٹی بنگالی سمیت جنوب کی کئی ریاستوں میں حکومت بھی بناتی رہی۔ 1951ء میں قائم ہونے والی بھارتیہ جن سنگھ دائیں بازو کی ایک بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی، جس نے بھارت کے سیکولر کردار کو چیلنج کرتے ہوئے ’’ہندوتوا‘‘ کا نعرہ لگایا۔

1977ء میں دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعتوں کے انضمام کے نتیجے میں ’’جنتا پارٹی‘‘ وجود میں آئی، جس نے کانگریس کو شکست دے کر مرار جی ڈیسائی کی قیادت میں حکومت قائم کی، مگر تین برس بعد حکومت ختم ہو جانے کے ساتھ ہی جنتا پارٹی بھی بکھر گئی۔ جسے جلد ہی ’’بھارتیہ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے دوبارہ فعال کیا گیا۔ 1998ء کے عام انتخابات کے بعد BJP قومی جمہوری اتحاد (NDA) کی شکل میں اقتدار میں آئی اور قومی جماعت بن کر ابھری۔

کانگریس اور NDA کی حکمت عملیوں کے نتیجے میں بھارت کی قومی معیشت ضرور مستحکم ہوئی، مگر ایک طرف تو ریاستی اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے باعث ترقی کے اثرات سماج کی نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو سکے۔ دوسرے BJP کے ہندو قوم پرستی پر مبنی سیاسی نظریات اور پالیسیاں مذہبی اقلیتوں اور نچلی جاتیوں کے حقوق کو غیر محفوظ بنانے کا سبب بنیں۔

اس سے قبل مسلمانوں سمیت مختلف مذہبی اقلیتیں اور نچلی جاتیاں کبھی سماج وادی پارٹی اور کبھی بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دے کر BJP اور اس کی اتحادی RSS اور شیوسینا جیسی جماعتوں کی شدت پسندی سے بچنے کی کوشش کیا کرتی تھیں، مگر یہ جماعتیں نہ تو غیر ہندوؤں اور نچلی جاتیوں کو تحفظ فراہم کر سکیں اور نہ ہی ریاستی اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی بناسکیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بھارتی سیاست پر ایک مخصوص طبقے کے حاوی آجانے سے سیاسی Status quo پیدا ہوگیا۔

یہی وجہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح بھارتی عوام میں بھی تبدیلی کے لیے تڑپ پیدا ہوئی، جہاں کرپشن اور بدعنوانیوں کے علاوہ نچلی جاتیوں اور مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل بے چینی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ گاندھی وادی سماجی کارکن انا ہزارے کی جانب سے 2011ء میں شروع کیا جانے والا برت (بھوک ہڑتال) بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

عام آدمی پارٹی اس سیاسی Status quo کے خلاف متوسط، نچلے متوسط اور ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے طبقات کا ردعمل ہے، جسے مذہبی اقلیتوں اور نچلی جاتیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یہ جماعت ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ میدان سیاست میں اتری ہے۔ اس کے رہنما اروند کجریوال جو ابتداً انا ہزارے کی تحریک کا حصہ تھے، بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں اصلاحات سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہیں، جب کہ دنیا کے بیشتر سماجی مصلحین کی طرح انا ہزارے اپنی تحریک کو سیاسیانے (Politicise) کے مخالف تھے۔

طرز فکر کا یہی فرق ان کی اناہزارے کی تحریک سے علیحدگی کا سبب بنا۔ اب ان کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ کرپشن کے خلاف 2013ء سے کھٹائی میں پڑا ’’لوکپال بل‘‘ منظور کرانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ دوسرے عام آدمی کے مسائل کے حل کے سلسلے میں کیا پیش رفت ہوتی ہے اور ان مسائل کے حل کی ترجیحات کس طرح طے کی جاتی ہیں؟ یہیں سے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تعین ہو سکے گا اور دلی سے باہر دیگر ریاستوں تک اس جماعت کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

اب جہاں تک جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیاست پر عام آدمی پارٹی کی کامیابیوں کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ تو یہ دیکھنے کے لیے ہمیں ان دونوں ممالک کے سیاسی منظرنامے کا اختصار کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں جگہ سیاسی Status Quo اپنے عروج پر ہے۔ جس طرح پاکستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دو ملک گیر جماعتیں ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف چھوٹی یا علاقائی جماعتوں کے تعاون سے اقتدار میں آتی ہیں، اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی دو بڑی سیاسی جماعتیں عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) ہیں، اس کے علاوہ جماعت اسلامی سمیت چھوٹی بڑی کئی سیاسی جماعتیں فعال ہیں۔ لیکن اقتدار میں متذکرہ بالا دونوں جماعتیں ہی آتی ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک بھارت کے برخلاف طویل عرصہ تک فوجی آمریتوں کا شکار بھی رہے ہیں، جس نے ان کے سیاسی اور سماجی Fabric کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک میں بری یا کمزور گورننس کے باعث معاشی بدحالی، کرپشن اور بدعنوانیوں میں اضافے کے علاوہ امن و امان کی صورتحال بھی خاصی مخدوش ہے۔ پاکستان اگر دہشت گردی، متشدد فرقہ واریت اور لسانی و صوبائی تقسیم کا شکار ہے، تو بنگلہ دیش میں مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور سیاسی تناؤ میں شدت آئی ہے۔ دونوں ممالک کے عوام میں تبدیلی کے لیے شدید تڑپ بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

پاکستان میں 2011ء میں تحریک انصاف ایک تیسری متبادل سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ لیکن معاشی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی بالخصوص دہشت گردی کے بارے میں اس کے مبہم اور غیر واضح خیالات، نیز بعض بنیاد پرست مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد نے اس کی سماج کے ہر طبقے میں قبولیت کو مشکوک بنا دیا۔

اس کے علاوہ مراعات یافتہ طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جوق در جوق شمولیت، جن میں بیشتر جماعتیں چھوڑ کر آئی ہیں، اس کی عوام دوست سیاست کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ پھر مرکزی قیادت میں سیاسی بصیرت کی کمی بھی اس کے تیسری متبادل قوت بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہی سبب ہے کہ میری سوچی سمجھی رائے کے مطابق پاکستان میں جس نئی سیاسی جماعت کے لیے گنجائش پیدا ہوئی ہے، تحریک انصاف اس میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ بلکہ مجھے تحریک انصاف کا مستقبل تحریک استقلال سے زیادہ مختلف نظر نہیں آ رہا۔

میرے خیال میں عام آدمی پارٹی کی طرز پر ایک نئی جماعت کی ضرورت ہے، جو نئی قیادت کے ساتھ سامنے آئے۔ ایک ایسی جماعت جو آج کی دنیا کے حقائق کے بارے میں واضح آگہی اور عوامی مسائل کا گہرا ادراک رکھتی ہو۔ نہ انتہائی دائیں اور نہ انتہائی بائیں، بلکہ وسیع البنیاد سوچ کی حامل ہو۔ روشن خیالی (Enlightenment) اور فکری کثرتیت پر یقین رکھتی ہو۔ وفاقیت کے تصور پر عملدرآمد کے ساتھ اقتدار و اختیار کی نچلی ترین سطح تک منتقلی جس کا ترجیحی ایجنڈا ہو۔ مجھے ایسی جماعت جلد وجود میں آتی نظر آ رہی ہے۔

اس کے علاوہ اگر حالات میں کوئی غیر معمولی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور عام انتخابات اپنے وقت مقررہ یعنی 2018ء میں منعقد ہوتے ہیں، تو مجھے سیاسی منظرنامے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں، جس میں بڑے بڑے برج الٹے جانے کا امکان ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی صرف بھارت کی دوسری ریاستوں میں تبدیلی کی طرف پیشرفت ہی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ دو قریبی پڑوسی ممالک یعنی بنگلہ دیش اور پاکستان کے معروضی سیاسی حالات بھی اس رجحان کے پھیلنے کی گواہی دے رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند