تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طبقاتی امتیاز :ایک ناسور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 1 جمادی الاول 1436هـ - 20 فروری 2015م KSA 08:21 - GMT 05:21
طبقاتی امتیاز :ایک ناسور

انسانیت کا سب سے مہلک روگ اور مرگ آفریں عارضہ طبقاتی امتیاز ہے۔معلوم شدہ تاریخ کا ایک ایک حرف گواہی دیتا ہے کہ اس روگ اورعارضے نے انسانیت کوعالمگیر جوہری جنگوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا اور چرکے لگائے ہیں۔ محض شجرہ نسب، رسوخ،خاندان اور دولت کی بنیاد پر انسانوں کو چھوٹے اور بڑے کی اکائی میں بانٹنا شرف انسانیت کے منافی ہے۔ حجۃ الوداع کے خطبہ کے موقع پر محسنِ انسانیت، نبی محتشم ، مجلس عالم کے آئین سازِ اعظم رسول اکرمؐ نے جو کچھ فرمایا تھااس کا مفہوم یہ ہے: ’’اے قیامت تک آنے والے انسانو! سنو! تم سب اولادِ آدم ہو۔ بنا بریں کسی عربی کو عجمی پر، امیر کو غریب پر، گورے کو کالے پر اور آقا کو غلام پر کوئی فوقیت اور برتری حاصل نہیں ، نیز یہ کہ رنگ و نسل، مال و منال، ذات پات اور لسان وعلاقہ کی بنیاد پرتفاخرجاہلی عصبیت ہے۔میں آج اس جاہلی عصبیت کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے اولادِ آدم کی برابری اور مساوات کا اعلان کرتا ہوں.‘‘

یہ اسی اعلان کا ثمر ہ و فیضان تھا کہ طبقاتی امتیاز ات کی زنجیروں میں جکڑا جزیرۃ العرب وقارِ آدمیت اور افتخارِ انسانیت کا بہشت زار بن گیا۔ مدینہ کے وہ لوگ جو ایامِ جاہلیت میں اپنے قبرستانوں میں کسی ’’ غیر مدنی‘‘ کی لاش کی تدفین تک کے بھی روادار نہ تھے، ہادی عالم ؐنے مواخات کی روح پھونک کر ان میں الفتوں اور محبتوں کے وہ عدیم النظیر احساسات اور فقید المثال جذبات بیدار کر دئیے کہ انہوں نے اپنے گھروں، بازاروں، دلوں اور دماغوں کے دروازے مکہ کے مہاجر، حبشہ کے بلال، روم کے صہیب اور فارس کے سلمان کے لئے آغوشِ مادر اور بازوئے برادر کی طرح کھول دئیے۔قرآن نے اس منظر کا نقشہ ان دلنشیں اور دلپذیر الفاظ میں کھینچا:’’اے میرے محبوبؐ! اگر آپ زمین کے تمام خزانوں کو بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے اور یقیناًیہ اللہ ہی ہے جس نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کر دی‘۔ِایک دوسرے مقام پر کتابِ زندہ قرآن حکیم میں ربِ کائنات یہ ارشاد فرماتا ہے ’’ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، تفرقے پیدا نہ کرو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہو گئے حالانکہ اس سے پہلے تم آگ کے دہانے پر کھڑے تھے اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا‘‘۔

مجلس عالم کے آئین ساز اعظم ؐکے فرمودات اور اکمل ضابطہ اخلاق قرآن عظیم کی تعلیمات طبقاتی امتیازات کو پروان چڑھانے والے ہر اقدام کی بیخ کنی کاپیغام دیتی ہیں۔ قرآن تو کہتا ہے کہ : ’’بیشک یہ فرعون تھا جس نے سرکشی کا شیوہ شعائر کر رکھا تھا اور اس زمین کے باسیوں کواس نے گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر دیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا بیشک و ہ مفسدوں میں سے تھا‘‘قرآن آگے چل کر بتاتا ہے کہ انسانوں کو گروہوں میں بانٹنا، اکائیوں میں تقسیم کرنا ، فرقوں کی زنجیروں میں جکڑنااور امتیازات کے بے در گنبدوں کا اسیر بنا دینا فرعونی روش ہے۔ اللہ کا ہر پیغمبر اور نبی طبقاتی امتیاز کے الاؤ بھڑکانے کی اس روش کے خاتمے کے لئے مختلف قریوں، بستیوں، وادیوں، شہروں اور ملکوں میں سرگرم جہد و عمل رہا۔قرآنی منشور تو یہ ہے کہ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کر دئیے گئے تھے اور ان کو امامت و سیادت و قیادت کے منصب سے سرافراز کریں، ان کا اقتدار زمین پر قائم کریں اور ان کمزوروں کے ذریعے فرعون اور ہامان اوران کے لشکر کو وہ دکھا دیں جس کا انہیں ڈر تھا۔

صدیوں کے تلخ تجربات کے بعد 19ویں صدی کے بعض مفکر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ انسانوں کو انسانوں سے دور کرنے اور ان کے مابین امتیازات کی اونچی دیواریں اُسارنے کاجذبہ محرکہ دولت کی ناہموار تقسیم کی کوکھ سے جنم لیتا ہے ۔ قرآن جو تمام انسانیت کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے، چھٹی صدی عیسوی ہی میں واشگاف الفاظ میں انتباہ کر رہا تھا: ’’ دیکھو! تمہاری دولت تمہارے بالائی طبقے کے مابین ہی گردش کرتی نہ رہ جائے‘‘۔ وہ تو دو ٹوک انداز میں ارباب عالم کو بتا رہا تھا کہ’’ اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خبر سنا دو۔ جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا تھا۔ پس اب تم اس کا مزہ چکھو جو تم جمع کرتے رہے۔ ‘‘

قرآن تو مکی دور سے ہی ان لوگوں کے لئے ہلاکت بربادی، خرابی اور’ ویل ‘کی وعید سنا رہا تھا جو مال جمع کرتے ہیں، اس کو گن گن کر رکھتے ہیں، خیال کرتے ہیں کہ ان کا مال ہمیشہ ان کے پاس رہے گا اور انہیں زندہ رکھے گا۔ قرآن اس نقطہ نظر اور طرزِ فکر کی نفی کرتا ہے۔ اس کاحتمی، ابدی، سرمدی اور جاودانی موقف ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کو ان کے مال سمیت اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ (حطمہ)میں ڈالا جائے گا۔ قرآن تو بے تحاشادولت جمع کرنے والے قارون صفت لوگوں کی تحلیل نفسیات کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ انہیں طعنہ دینے اور عیب چننے کی مہلک بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ وہ بے پناہ دولت اور لا محدود وسائل کے زعم میں کمزوروں کی بے بسی پر طعن توڑتے، طنز کے نشتر چلاتے اورنکتہ چینی کی ناوک افگنی کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں بے تحاشا دولت کے غرور میں انسانوں کو چھوٹا،حقیر،ادنیٰ، کمتر، کمین، فرومایہ اور ابتر سمجھنے والے مکہ کے ایک سرمایہ دار سردار کے بارے جتنے سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، اتنے سخت الفاظ میں توربِ قہارو جبارنے شیطان کی بھی مذمت نہیں کی : ’’ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا.‘‘

کیوں؟ اس لئے کہ دولت کے گھمنڈ نے اسے دین سے بے نیاز کر دیا اور وہ مال جو اس نے کمایا اس کے کام نہ آیا۔یہ سرخ دہکتے ہوئے رخساروں والامکہ کا سردار ابولہب دینِ حق سے اس قدر کیوں برگشتہ تھا؟ محض اس وجہ سے کہ اس کے نزدیک محمد عربی ؐنے طبقاتی امتیاز کی ہر دیوار اور ہر چٹان کو مسمار کر کے رکھ دیا تھا۔وہ جانتا تھا کہ طبقاتی امتیازکا خاتمہ معاشرے کے محروم طبقات کی سربلندی کا حتمی ضامن ہے۔ جب کمزور شہ زور ہو گئے، قطرے سمندرکے قالب میں ڈھل گئے، جھونکے بے قابو آندھیوں کی شکل اختیار کر گئے تو جبر، استحصال اور ناجائز ذرائع سے دولت بنانے والوں کو دنیا کا کوئی مضبوط سے مضبوط آہنی قلعہ بھی پناہ نہ دے سکے گا۔ ایک رات پچھلے پہر وہ آنکھیں ملتا ہو ااٹھا، اپنی سرخ حریری چادر اس نے اپنے کاندھے پر رکھی ،دبے پاؤں چلتا مختلف گلیوں سے ہوتا ،وہ حرم کعبہ میں داخل ہوا۔اس نے دائیں بائیں دیکھا، جب یقین ہو گیا کہ صحنِ کعبہ میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے تو وہ تیز تیز قدم اٹھاتا غلافِ کعبہ کی طرف لپکا، وہ نیچے بیٹھ گیا ، غلافِ کعبہ کا ایک کونا اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما، جانے یکدم اسے کیا ہوا ، اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا، اس کی چیخیں، کرلاہٹیں اور فریادیں کعبے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں، وہ عزیٰ، ہبل، لات اور منات کے رب کو پکار رہا تھا، اس کے ہونٹوں پر صدائے احتجاج تھی کہ’’ میرے بھتیجے نے اعلیٰ اور ادنیٰ،امیر اور غریب،سرخ اور سیاہ کی تفریق ختم کر دی، اس نے غلام اور آقا کو ایک ہی دستر خوان پر لا بٹھایا‘‘ غلام اور آقا کے ایک ہی دستر خوان پر برادرانہ انداز میں بیٹھ کر اللہ کے رزق سے تمتع اٹھانے کوبالائی طبقات کے وجود و استحکام کے لئے خطرے کی علامت سمجھنے والا ہر کردار ابولہبانہ مزاج کا حامل ہے۔

قرآن کا طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ قرآن ہراس شخص کو دین کی تکذیب کا مجرم ٹھہراتا ہے جو محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے تنگدستوں اور مفلسوں کے لئے اپنے دروازے بند کر دیتا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے رزق پر قارون کے سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور کسی محتاج کو اس کے قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔۔۔قرآن تو انسانی معاشروں اور مملکتوں میں مصائب و آلام کا موجب اُن متمول طبقات کو ٹھہراتا ہے جو یتیم کی عزت نہیں کرتے، مسکین کو کھانا کھلانے کی تاکید نہیں کرتے، مردے کاسارا مال سمیٹ کر کھا جاتے اور دولت سے جی بھر کر محبت کرتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند