تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک وزیراعظم کے مشورے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 2 جمادی الاول 1436هـ - 21 فروری 2015م KSA 09:05 - GMT 06:05
ترک وزیراعظم کے مشورے

ترک وزیراعظم جناب احمت دعوت اولو، پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ احمد دعوت اولوسے میرا تعلق تب سے ہے جب وہ وزیراعظم حتیٰ کہ سیاست کے میدان میں بھی داخل نہیں ہوئے تھے۔ 1997ء میں قاہرہ میں ’’اسلام اور مغرب‘‘ کے موضوع پر ایک دس روزہ کانفرنس میں وہ ایک دن ہمارے سیشن میں بولنے کے لیے تشریف لائے تو وہیں ان سے پہلا تعارف ہوا۔ بعد میں جب طیب اردوآن کے نجم الدین اربکان سے اختلافات ہوئے تو انہوں نے عبداللہ گل کے ہمراہ ایک نئی پارٹی، انصاف و ترقی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ پارٹی جلد ہی ترکی میں ایک مقبول جماعت بن کر اُبھری۔ اس نئی جماعت کے روحانی پیشوا جناب فتح اللہ گلین ٹھہرے، جو ترکی میں ایک عرصے سے مذہبی ریفارمر کے طور پر ہمہ وقت مصروف تھے۔ اس نئی جماعت AKP میں احمت دعوت اولو کا مقام ایک دانشور اور خارجہ امور کے ماہر کے طور پر تھا۔

یکایک ان کو وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپ دیا گیا، کیوں کہ انہوں نے بہ حیثیت پروفیسر ودانشور Zero Conflict کے اپنے تھیسس کو ترکی اور ترکی کی سرحدوں کے باہر اپنے کالموں اور ایک کتاب کے ذریعے متعارف کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے پڑوسیوں سے تنازعات کو ختم کرنے یا اس کی شدت کو انتہائی حد تک محدود کرنے کا ازخود آغاز کرے۔ اسی لیے وزارتِ خارجہ کے قلمدان تک پہنچنے تک انہوں نے سابق وزیراعظم جناب طیب اردوآن کو آرمینیا، شام، یونان، روس، بلغاریہ، ایران، عراق اور دیگر اُن ممالک کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانے کی ترغیب دی اور کوششیں کیں جن کے ساتھ ترکوں کے مختلف نوعیت کے قدیم تنازعات چلے آ رہے تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وزارتِ خارجہ کا قلمدان ان کے ہاتھ میں آیا تو وہ عملاً Zero Conflict کے اپنے ہی تھیسس کے خلاف چلنے لگے۔ لیبیا میں طیب اردوآن کی حکومت نے پہلے معمر قذافی کا ساتھ دے کر ان کی ’’ہلاشیری‘‘ کی اور بعد میں لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں امریکہ اور مسلح انارکسٹ گروہوں کو بھرپور سپورٹ کر کے قذافی حکومت اور لیبیا کی ریاست کا شیرازہ بکھیرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بالکل اسی طرح شام جس کو طیب اردوآن اپنا دوسرا گھر کہتے تھے، اردوآن اور بشارالاسد دونوں خاندان موسم گرما کی تعطیلات اکٹھے مناتے تھے، شام میں اردوآن حکومت نے وقت آنے پر جس طرح مسلح گروہوں کو منظم کرنے، اسلحہ سپلائی کرنے اور ان کو سرزمین ترکی سے شام کے اندر داخل ہونے کے راستے فراہم کیے، یہ اب کوئی راز کی بات نہیں۔ حتیٰ کہ داعش کے مسلح گروہوں میں شمولیت کے لیے دنیا بھر سے آنے والوں کو اردوآن حکومت نے سرزمین ترکیہ سے ’’محفوظ راستے‘‘ فراہم کیے۔ عراق میں اسلام اور مذہب کے نام پر اس ترک حکومت نے اپنی حمایت کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اور اسی طرح طیب اردوآن نام نہاد عرب جہاد میں جس طرح مصر اور تیونس کی اندرونی سیاست میں مداخلت کرنے لگے ہیں، ان سارے اقدامات نے عملاً وزیر خارجہ احمت دعوت اولو کے تھیسس Zero Conflict کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ترکی کی سرحدوں تک آن پہنچے ہیں۔

ترک وزیراعظم نے اسلام آباد یونیورسٹی میں شام و عراق میں شدت پسند مسلح تنظیم داعش کی جس طرح مذمت کی ہے ،کاش وہ یہی مذمت استنبول کی کسی یونیورسٹی میں بھی کریں۔ انہوں نے فتح اللہ گلین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے کے درپے ہیں، یعنی ترک وزیراعظم اور ہمارے دوست احمد دعوت اولو مذہب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ یہ ایک خوش گوار بات ہے لیکن عملاً وہ پولیٹیکل اسلام کے علمبردار اور عمل داری کر رہے ہیں اور اپنی اس حکمت عملی سے ترک سرحدوں کو آگ کے شعلوں میں لپیٹ چکے ہیں اور ترک ریاست اور سماج کی خوفناک تقسیم میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ احمت دعوت اولو نے پاکستان میں جمہوریت کا جو درس دیا ہے، کاش وہ اس درس کو اپنے ملک میں عملاً نافذ کریں کہ وہ جمہوریت جس کی بنیاد میں ترکی کے ترقی پسند دانشوروں نے نوے برس میں ایک شاندار تاریخ رقم کی، ہزاروں موت کی وادی میں چلے گئے اور ہزاروں رہنما، مصنفین، ادیب، دانشور، صحافی جو ترقی پسند نظریات کے علمبردار تھے، انہوں نے ترک معاشرے کو Democratize کرنے میں بنیادی اور اہم کردار ادا کیا، آج اسی ترکی میں جمہوریت اور جمہوریت کو Contain کرنے کے لیے ان کے اقتدار میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ وہ ترکی جہاں کی سول اور فوجی قیادت Zero Corruption کی تاریخ رکھتی ہے، وہاں پر سول حکمرانوں کی کرپشن کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

ترک وزیراعظم ،پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نوازشریف کی اکٹھی تصویریں دیکھ کر بڑے خوش ہیں اور اس خوشی کا اظہار انہوں نے اپنے بیان میں بھی کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ ایسا ہی بیان ترکی میں بھی د یں۔ دنیا میں Financial Capitalists، اپنی سرمایہ کاری کے لیے ملکوں ملکوں سرمایہ کاری اور اس کے حاصل منافع کے لیے سرگرداں ہیں۔ اسی طرح ترک عوام کی محنت پر اُبھرنے والا سرمایہ کار طبقہ اپنی سرمایہ کاری کے لیے، اسرائیل، افریقہ، افغانستان، روس، مشرقی یورپ سمیت پاکستان میں بھی منافع کی غرض سے سرگرداں ہے۔ یاد رہے کہ ان فنانشل سرمایہ داروں کی لابیاں وہاں کے حکمران کرتے ہیں جو ان فنانشل سرمایہ کاروں اوران کے پروردہ کرپٹ حکمرانوں کے حصہ دار ہیں۔ یہ دونوں قوموں کے مابین دوستی بیان کرنے والے دونوں عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ فنانشل سرمایہ دار، سرمایہ کاری کرنے، منافع کمانے اور پھر منافع سمیت سرمایہ کاری کو واپس اپنے ہاں یا عالمی بینکوں میں واپس لے جاتے ہیں، یہ نہ تو ٹیکنالوجی لاتے ہیں اور نہ ہی کوئی فکر۔

اس حوالے سے ہمارے وزیراعظم جناب میاں نوازشریف بھی اپنی آپ مثال ہیں۔ ان کا سرمایہ کسی ایسی صنعت یا کاروبار میں نہیں لگتا جس کے نتیجے میں Industrialization ہو، رئیل سٹیٹ، ٹرانسپورٹ، تعمیرات یہ سب عالمی فنانشل سرمایہ داری کے شعبے ہیں۔ ترک وزیراعظم احمت دعوت اولو کے مشورے! کاش وہ ان مشوروں پر اپنے صدر طیب اردوآن کو بھی قائل کریں جو 9دہائیوں سے موجود سادہ سے صدارتی محل میں رہنے کی بجائے ایک ہزار سے زائد کمروں پر مشتمل نئے تعمیر شدہ محل میں منتقل ہوئے ہیں۔
درحقیقت تاریخی طور پر یہ ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا فلسفہ ہے کہ ’’گھر میں صلح، دنیا میں صلح!‘‘ انہوں نے سات دفاعی جنگیں لڑیں اور جیتیں اور ہمیشہ Offensive War سے گریز کیا اور اپنی قوم کو تاکید کی کہ اپنے گھر کو امن، ترقی، خوش حالی کا گہوارہ بناؤ۔ لیکن ذرا گہرائی میں جاکر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ترکی جس کی معاشی اقتصادی پروان کے وقت قدرت نے طیب اردوآن کو وزیراعظم اور احمت دعوت اوغلو کو وزیرخارجہ بنا ڈالا، آج اسی ترکیہ جمہوریہ کا علاقائی صورتِ حال میں مستقبل کتنا دشوار، خطرناک اور دلدل زدہ ہو چکا ہے۔ شام، عراق کے جنگی شعلے ترکی کی سرحدوں کو حدت انگیز کر چکے ہیں۔ حکمرانوں کے نعروں پر مبنی پولیٹیکل اسلام نے ترکی اور خطے کو مزید جذباتیت اور شدت پسندی میں داخل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترک وزیراعظم جناب احمت دعوت اولو صاحب، کیا آپ اپنے ہی مشوروں پر خود عمل کریں گے؟

ترکی کی معاشی ترقی کی کہانی، جمہوریت اور نوے سالہ مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے، جس کی بنیادیں کمال اتاترک نے رکھیں، اس معاشی ترقی کے عروج کے آغاز پر آپ اس کے نگہبان ہوئے، آپ نے کہا کہ قوموں کی ترقی معاشی ترقی سے نہیں ناپی جا سکتی۔ درست، مگر آپ دیکھیں کہ معاشی ترقی کی نظر آنے والی اس پروازمیں ترکی آج کہاں کھڑا ہے۔ جنگوں کے دہانے پر۔ ایک بات طے ہے کہ اب کُرد مسئلہ ایک ایسی شکل نکالے گا جس کا سب سے بڑا Victim جمہوریہ ترکیہ ہو گا اور اس حوالے سے آپ کے ادوار میں جس طرح اس مسئلے کو Power Hunger نکتہ نظر سے ڈیل کیا گیا، ذرا آپ یہ بھی ہمارے دانشوروں اور طلباء کو اپنے آئندہ لیکچر میں بتائیں۔ پاکستان کے مسیحا کے متلاشی یہی صحافی اور دانشور کبھی ماضی میں جنرل ضیاالحق، گلبدین حکمت یار، ملاں عمر اور اسامہ بن لادن کے اندر مسیحا تلاش کرتے ہوئے ناکام ہوئے، وقت آنے پر ان مسیحاؤں کے تلاش میں صحافیوں کو ایک بار پھر Heroes کے خول کے اندر سےVillains نکلتے دکھائی دیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند