تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی فوج افغانستان سے نہیں جا رہی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 7 جمادی الاول 1436هـ - 26 فروری 2015م KSA 07:39 - GMT 04:39
امریکی فوج افغانستان سے نہیں جا رہی؟

ایک طرف یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ افغان اور امریکی حکومت طالبان سے مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ تو دوسری طرف امریکہ کی طرف سے یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کے سلسلے کی رفتار کو کم کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں خبریں خطے کیلئے عام طور پر اور افغانستان کیلئے بطور خاص اہم ہیں لیکن دونوں خبریں آپس میں متصادم بھی ہیں۔ اس لئے کہ طالبان اس سے قبل یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ امریکی فوجوں کو افغانستان سے مکمل طور پر رخصت ہو جانا چاہئے تاکہ اقتدار صرف افغانوں کے پاس آ جائے۔ اس میں طالبان کیلئے خوشخبری یہ ہو سکتی ہے کہ وہ امریکیوں کی غیرموجودگی میں شاید اقتدار دوبارہ حاصل کر لیں جو کہ ان کی موجودگی میں ناممکن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکیوں کیلئے بھی بڑا مشکل ہے کہ وہ افغانستان کو مکمل طور پر چھوڑ کر چلے جائیں۔

انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اگر طالبان واپس آ گئے تو افغانستان میں امن کو ایک بار پھر جھٹکا لگ سکتا ہے۔ دراصل حامد کرزئی نے اپنے دور اقتدار کے آخری سالوں میں امریکیوں کو بڑی مشکل سے دوچار کیا۔ حامد کرزئی کے اس سلسلے میں کئی مفادات تھے۔ اوّل یہ کہ انہوں نے طالبان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ امریکی فوجوں کے انخلا میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی ان کوششوں سے امریکی فوجیں جلدی جلدی واپس جا رہی ہیں۔ اس طرح وہ طالبان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسرے انہوں نے افغانستان میں بھارت کو حد سے زیادہ فوقیت دی تاکہ وہ اپنے پنجے گاڑ لے۔ اس سے حامد کرزئی اپنے مستقبل کیلئے بھارت سے مفاد حاصل کرنے کیلئے پُرامید ہوئے۔ بھارت کیلئے نادر موقع تھا کہ وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر افغانستان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔ بھارت نے خوب فائدہ بھی اٹھایا اور خاص طور پر اس نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے جو منصوبے بنائے ہوئے تھے انہیں عملی جامہ پہنانے میں خوب مدد ملی۔ بھارت نے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان کیلئے سخت مسائل پیدا کئے۔

اس طرح حامد کرزئی نے بھارت کے عزائم کو پاکستان کے خلاف تقویت دی۔ ان سب مسائل کے پس منظر میں حامد کرزئی نے امریکی حکومت کی طرف سے طے کیا جانے والا سلامتی کا دس سالہ منصوبہ بھی منظور نہ کیا جو کہ لویہ جرگہ کی منظوری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اس طرح حامد کرزئی امریکہ کے مفادات کو بھی زک پہنچانے کی کوشش میں مصروف رہے۔ امریکہ نے ان حالات کے پیش نظر اپنے منصوبہ میں ردوبدل کر لیا۔ لیکن افغانستان میں نئے انتخاب کے بعد جب اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا تو صورت حال یکسر بدل گئی۔ اشرف غنی ایک پڑھے لکھے، تجربہ کار اور جہاں دیدہ انسان ہیں۔ انہوں نے عملی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے امریکہ کے ساتھ دس سالہ سلامتی کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ فی الحال اس کی فوجوں کی فوری واپسی افغانستان کے حق میں بہتر نہیں۔ اگرچہ یہ درخواست امریکہ کو افغانستان کی طرف سے آئی لیکن امریکہ خود بھی افغانستان سے اپنی فوجوں کی فوری واپسی کا خواہاں نہیں۔ اس لئے امریکہ کی طرف سے اس تجویز کو فوری طور پر مان لیا گیا۔

پچھلے ہفتے امریکہ کے سیکرٹری دفاع ایش کارٹر نے افغانستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنے اس پہلے دورہ افغانستان میں ہی اس امر کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا کہ اب افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا سلسلہ سست روی سے ہو گا۔ جو شیڈول فوجوں کی واپسی کیلئے پہلے سے ترتیب دیا گیا ہے اس میں ردوبدل ہو گا اور اب یہ واپسی 2015ء اور 2016ء تک جا سکتی ہے۔ امریکہ اپنی افغانستان میں موجود فوجوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر سکتا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی اگلے ماہ امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے میں وہ امریکی صدر باراک اوباما سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس حوالے سے امریکی حکومت کے پاس کئی تجاویز ہیں جن سے افغانستان میں سول حکومت اور اشرف غنی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ایش کارٹر کا سیکرٹری دفاع کی حیثیت سے یہ افغانستان کا پہلا دورہ ہے لیکن مجموعی طور پر وہ مختلف حیثیتوں میں افغانستان کا دس بار دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا امریکی پالیسی برائے افغانستان سے ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے اور وہ پینٹاگون میں بھی کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

سیکرٹری دفاع برائے امریکہ اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان سے امن مذاکرات کے بارے میں کوئی زیادہ بات تو نہیں کی لیکن اشرف غنی نے اس طرف یہ اشارہ ضرور کیا کہ امن کیلئے یہ وقت اتنا مناسب اور موزوں ہے کہ پچھلے 36 سالوں میں اس قسم کا موزوں وقت نہیں مل سکا۔ اس سے بعض صحافتی حلقے یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ شاید افغان حکومت امریکی حکومت کے تعاون سے طالان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہی ہے۔ یہ عمل ماضی میں بھی کئی بار شروع ہو چکا ہے لیکن کسی منطقی انجام تک پہنچے بغیر ختم ہو گیا اور تمام فریقین اپنی اپنی پرانی پوزیشن پر واپس چلے گئے۔ اس سلسلے میں قطر میں ہونے والے مذاکرات کا بھی بڑا چرچا رہا لیکن ان سے بھی کوئی مثبت نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

افغان صدر اشرف غنی مذاکرات کے حامی ہیں لیکن اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ افغان حکومت مذاکرات شروع کرتی ہے تو ان تمام قوتوں کے ساتھ نہیں رکھا جاتا جو کہ مذاکرات کی کامیابی کی ضامن ہیں۔ ان مذاکرات میں اگر افغان حکومت، پاکستان حکومت، امریکی حکام اور طالبان شامل ہوں اور مثبت طریقے سے مذاکرات ہوں تو ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں لیکن اگر مذاکراتی عمل میں ان میں سے کوئی بھی فریق دل سے شریک نہ ہوا تو اس سے مثبت نتائج کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ خاص طور پر بھارت نے افغانستان میں جو کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن سے پاکستان براہ راست متاثر ہو رہا ہے وہ خطے کے امن کیلئے بالعموم اور افغانستان کے امن کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور افغانستان کی حکومت کو افغانستان کیلئے ایک جامع پالیسی ترتیب دینی چاہئے جس میں افغانستان کے اندر موجود تمام نمائندہ گروپس کے ساتھ مشاورت ہونی چاہئے۔ جب تک ان تمام گروپس کی رضامندی سے امن عمل آگے نہیں بڑھتا امن کا حصول مشکل رہے گا۔

اس کے علاوہ اس میں پاکستان اور افغانستان کے مابین حکومتی سطح پر مؤثر تعاون کی ضرورت ہے جو کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کے مثبت رویے کی شکل میں اب بہتر طور پر میسر ہے۔ جس طرح پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف پورے ملک میں نہایت مؤثر طریقے سے کارروائیاں جاری ہیں اسی طرح کی کارروائیاں افغانستان میں بھی ہونی ضروری ہیں۔ خاص طور پر اسلحہ، بارود اور منشیات کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ خطے کے تمام ممالک ایسی لعنتوں سے محفوظ ہو سکیں۔ جہاں امریکی حکومت افغانستان کے امن سے دلچسپی رکھتے ہوئے اپنی فوجوں کے انخلا کے شیڈول پر نظرثانی کر رہی ہے اسے خطے میں جاری پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنی چاہئے تاکہ خطے کے وہ ممالک جو گزشتہ کئی دہائیوں سے شورش اور دہشت گردی کا شکار ہیں اس سے باہر نکل سکیں اور ان ممالک خاص طور پر افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔ ورنہ امریکی فوجوں کا مزید قیام بھی ماضی کی طرح بے معنی ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند