تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی تشکیل میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 جمادی الاول 1436هـ - 27 فروری 2015م KSA 14:05 - GMT 11:05
داعش کی تشکیل میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ

اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں نے ہر دور میں ایسی ناپاک حرکتیں جاری رکھی ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کبھی \” القاعدہ \” کی تشکیل کی جاتی ہے تو کبھی داعش جیسے وحشی میدان میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ ان سب سازشوں کے پیچھے امریکہ اور اس کے حواریوں کا ہاتھ ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گروہوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ عراق اور شام کے جو علاقے دھشت گرد گروہ داعش کے کنٹرول میں ہیں انکا مجموعی رقبہ برطانیہ کے رقبے سے کم نہیں ھے۔ بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل میں امریکہ،اسرائیل، برطانیہ اور علاقے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کا ہاتھ ہے تاہم اس گروہ کے ہولناک دہشتگردانہ جرائم سامنے آنے کے بعد انہی ممالک کی جانب سے داعش کے مقابلے کے لئے عالمی اتحاد کی تشکیل کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین اور نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق داعش کی تشکیل میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی خصوصی سروسیں ملوث تھیں۔

داعش نے 2014 میں عراق اور شام میں چڑھائی شروع کرکے بین الاقوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس گروہ کے جنگجووں نے \’اسلامی خلافت\’ کے قیام کا اعلان کیا۔داعش کے معنی الفاظ کے اعتبار سے دولت اسلامیہ عراق و شام کے ہیں، یعنی اس گروہ کی ابتدا شام میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد ہوئی کہ جہاں اس گروہ نے اپنے غیر ملکی آقاوں امریکا اور اسرائیل کی ایما پر بھرپور خدمات انجام دیں لیکن امریکی مدد اور اسرائیلی حمایت ہونے کے باوجود بھی یہ گروہ شام میں موجود شامی حکومت کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہا اس ناکامی کا انتقام لینے کا فیصلہ انھوں نے عراق میں خون خرابہ کرنے کے اعلان سے لیا اور پھر بالآخر عراق کے شمال میں جا پہنچے اور 12جون2014 کو ایک ہولناک خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں سیکڑوں عراقی شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس دن سے اس دہشت گرد گروہ کا نام لوگوں کی زبانوں پر آنا شروع ہو گیا ہے۔داعش یا امارت اسلامی ظاہری طور پر اسلامی احکام کے اجرا پر تاکید کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے افکار و نظریات مکمل طور پر اسلام مخالف ہیں۔ شریعت کے نفاذ کا نعرہ اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ دنیا والوں پر یہ ظاہر کریں کہ وہ ایک اسلامی گروہ ہیں۔ اس کا مقصد ایک طرف اسلام کے چہرے کو بدنام کرنا ہے اور دوسری طرف عالم اسلام میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔

عراق کے صوبہ بابل میں داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں دو امریکی ہیلی کاپٹروں کے اترنے سے متعلق خبر نے داعش مخالف اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔عراقی حکام، بارہا امریکہ اور اتحادی فوجیوں پر دہشتگردوں کو اسلحے کی فراہمی اور ان کے لئے اسلحہ اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ امریکی ہیلی کاپٹر بابل سے ساٹھ کلومیٹر دور مویلحہ کے علاقے میں اترے ۔ عراق بالخصوص فوجی علاقوں میں تعینات امریکی فوجیوں پر داعش دہشتگردوں کے لئے فضا سے ہتھیار اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام ہے۔

ہمارے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت جنگجو تنظیم داعش کی ممکنہ سرگرمیوں اور کارروائیوں سے غافل نہیں ہے جب کہ اس تنظیم سے وابستہ افراد سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی جاری ہے۔دنیا بھر میں داعش کی شدت پسندانہ کارروائیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالمی برادری بھی ان کارروائیوں کے خلاف متحرک ہوچکی ہے لیکن پاک فوج داعش سمیت کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی میں عالمی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

درحقیقت اسرائیل حماس سے خوفزدہ ہے اور اس کے توڑ کیلئے امریکی شہہ پر داعش تشکیل دی گئی۔ حماس فلسطین میں اخوان المسلمین تحریک کی شاخ شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کے اسلحہ کا نشانہ صہیونی دشمن ہیں جبکہ داعش کفار سے جہاد کرنے کا قائل ہونے کے بجائے اپنے زعم کے مطابق شرک و فساد سے امت اسلامیہ کو پاک کرنا واجب جانتا ہے۔ اسی لیے یہ لوگ اس وقت تک اسرائیل سے جہاد کرنے کے سلسلہ میں ترجیح کے قائل نہیں ہیں، جب تک ان کے بقول امت اسلامیہ میں گمراہ فرقے اور فاسد حکام موجود ہوں، جبکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ امت اسلامیہ میں فاسد اور کٹھ پتلی حکام کا سرچشمہ امریکہ اور اسرائیل ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند